قومی خودمختاری کے تحفظ کیلئے عوامی تحریک کی ضرورت ( قسط اول)

محمد خلیل الرحمن قادری ممبر ملی مجلس شرعی...........
اربابِ علم و دانش اس حقیقت سے پوری طرح باخبر ہیں کہ ہماری خارجہ پالیسی کا قبلہ روز اول سے ہی درست نہیں رہا اور کم و بیش ہمارے تمام حکمران کسی نہ کسی درجے میں امریکہ کی کاسہ لیسی پر مجبور رہے ہیں لیکن سابق صدر پرویز مشرف نے جس انداز میں قومی خودمختاری کا سودا کیا اس کی مثال ہماری ملکی تاریخ میں اس سے پہلے نہیں ملتی۔ 2008ءمیں پرویز مشرف کے سیاسی منظر سے ہٹ جانے اور نئی جمہوری حکومت قائم ہو جانے پر یہ توقع پیدا ہوئی تھی کہ امریکہ کیساتھ ہمارے تعلقات کار میں توازن اور اعتدال پیدا ہو جائے گا لیکن ہمارے نومنتخب حکمرانوں نے اپنے پیشرو کی ہی پالیسیاں جاری رکھیں بلکہ امریکہ کی طرف جھکاﺅ میں اس سے بھی کہیں زیادہ آگے نکل گئے۔ دوسری طرف بش کے اقتدار کے خاتمے کے بعد امریکہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سیاہ فام امریکی باراک حسین اوباما امریکی صدر منتخب ہوئے تو اسے مارٹن لوتھرکنگ کے خوابوں کی تعبیر قرار دیا گیا۔ باراک حسین اوباما کی فتح کو بش کی پالیسیوں کے خلاف امریکی عوام کے ردعمل کا اظہار بھی قرار دیا گیا۔ امریکہ میں اقتدار کی اس تبدیلی سے بھی یہ توقع کی جانے لگی کہ اب دنیا میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ باراک حسین اوباما کا تعلق ڈیموکریٹس سے تھا جو ری پبلیکنز کے مقابلے میں بین الاقوامی مسائل
کو حل کرنے کیلئے سفارت کاری کو طاقت کے استعمال پر ترجیح دیتے ہیں لیکن ان سے وابستہ توقعات بھی دم توڑ گئیں اور عملاً وہ بھی اپنے پیشرو سے دوچار ہاتھ آگے نکل گئے آج بھی وہ بش کے اس عسکری فلسفے پر بش سے بھی بڑھ کر کاربند نظر آتے ہیں جس کی نبیادیں یہ تھیں کہ (۱) دہشت گردی کے محرکات سے صرف نظر کرکے دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جائے (۲) دہشت گردی کے موہوم خطرات سے نپٹنے کیلئے مشکوک افراد کو بھی نیست و نابود کر دیا جائے(۳) چند مشکوک دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنے کے ساتھ ساتھ اگر ہزاروں معصوم اور نہتے شہری بھی تباہ و برباد ہو جائیں تو اسے Collateral Damage سمجھ لیا جائے(۴) جن پر دہشت گردی کا شبہ ہو ان کے ساتھ نہ تو مذاکرات کی گنجائش پیدا کی جائے اور نہ ہی انہیں صفائی کا موقع دیا جائے بلکہ انہیں نیست و نابود کئے بغیر چین سے نہ بیٹھا جائے۔ اس حوالے سے برطانیہ کے مشہور صحافی Yuonne Ridely کا چشم کشا تبصرہ قابل غور ہے۔”اوباما بش جتنا ہی برا ہے البتہ وہ اس سے دوگنا چالاک ہے بش نے کئی سال لئے اور پھر اسے عراق پر حملہ کرنے کی جرا¿ت ہوئی اور اس حملے کے نتیجے میں تیس لاکھ سے زائد لوگ اپنے ہی ملک میں بے گھر ہوگئے ہزاروں امریکی فوجی مارے گئے اور بے شمار عراقی عوام قربان ہوگئے اوباما نے اس کے برعکس یہ سب کچھ صرف چند ماہ میں حاصل کرلیا ہے اور پاکستان پر ایک غیر قانونی جنگ مسلط کردی ہے۔“
لہٰذا یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ پاکستان اور امریکہ میں اقتدار کی تبدیلیوں سے کوئی خیربرآمد نہیں ہوسکی بلکہ صورتحال روز بروز بدتر ہوتی جا رہی ہے امریکہ بظاہر یہ یقین دہانیاں کرواتا ہے کہ وہ پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے لیکن عملاً امریکیوں نے ہماری خودمختاری کو گروی رکھا ہوا ہے ہمارے حکمرانوں کو اس قدر پابجولاں کیا ہوا ہے کہ وہ کوئی بھی فیصلہ اپنی آزادانہ مرضی سے نہیں کرسکتے۔ حالت یہ ہے کہ ہم رفتہ رفتہ امریکہ کی کالونی بنتے جا رہے ہیں۔ طوالت کے خوف سے صرف چند اہم امور کی نشاندہی پر اکتفا کیا جارہا ہے۔
-1 کسی بھی آزاد اور خودمختار ریاست پر ڈرون حملے دراصل اس کی خودمختاری پر حملے تصور کئے جاتے ہیں۔ امریکہ نہ صرف قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے جاری رکھنے پر مُصر ہے بلکہ وہ ان کا دائرہ ملک کے دوسرے حصوں تک بھی پھیلانا چاہتا ہے۔
-2 امریکہ ، بھارت اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ہمارے ایٹمی اثاثوں کو ہتھیانے کی سازش میں بھی ملوث ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ ہم نے ماضی میں بھارت کیساتھ لڑی جانیوالی خوفناک جنگوں کے تناظر میں بھارت کے ایٹمی طاقت بن جانے کے بعد جنوبی ایشیاءمیں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کیلئے ڈیٹرنس کے طور پر ایٹمی صلاحیت حاصل کی تھی لیکن اس کے باوجود ہمارے ایٹمی اثاثے یہود و ہنود کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں۔ 1980ءمیں بھارت نے اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کی سرپرستی میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حملہ آور ہونے کی سازش تیار کی تھی لیکن پاکستان کا بروقت اور شدید ردعمل دیکھ کر بھارت کو اپنے ناپاک ارادوں سے تائب ہونا پڑا۔ ابھی حال ہی میں بعض اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور بھارت نے امریکہ کی آشیرباد پر تربیت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے ہماری ایٹمی تنصیبات پر حملہ آور ہونے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ امریکہ یہ جاننے کے باوجود کہ ہماری ایٹمی صلاحیت شمالی ایشیاءمیں قیام امن کیلئے ناگزیر ہے وہ ہمارے ان ایٹمی اثاثوں کے درپے ہے جو ہماری خودمختاری کی شہ رگ ہے۔