شطرنج کے کھلاڑی…(آخری قسط)

صحافی  |  معین باری

میجر(ر)معین باری سابق ایم این اے.............
آج سپر پاور امریکہ جو شطرنج کی بازی لگا رہا ہے۔ اس کے اہم اہداف یہ ہیں کہ اس نے وسط ایشیا‘ روس‘ چین‘ ایران اور بھارت پر کیسے غلبہ حاصل کرنا ہے۔ بحیرہ گیپین اور وسط ایشیا کا تیل اور معدنیات پر کیسے قبضہ کرنا ہے۔ وہ تبھی ممکن ہے اگر پاکستان اس کی ایڑی کے نیچے رہے اور افغانستان میں اتحادی فوجوں کے خلاف مزاحمت ختم ہوجائے۔
یہ اسی طرح ممکن ہے کہ پاکستان میں انکل سام کی پسندیدہ حکومت ہو یا پھر پاکستان کو تقسیم کرکے فاٹا اور بلوچستان کو آزاد کراکے یوگو سلاویہ کی طرح چند آزاد ریاستوں میں تقسیم کردیا جائے۔ یوں لگتا ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں سے ملکر ان دونوں منصوبہ بندیوں پر عمل پیرا ہے۔ اس وقت زمینی حقائق بتارہے ہیں کہ امریکہ‘ اسرائیل اور بھارت کے مفادات مشترک ہوچکے ہیں۔ اسی لیے امریکی تھنک ٹینک پاکستان کو چند ماہ کے اندر ٹکڑوں میں تقسیم کرنے اور ان نقشوں کی اشاعت کررہے ہیں۔
مصدقہ اطلاعات ہیں کہ دہشت گردوں کا سب سے بڑا مرکز جلال آباد کے نزدیک ’سرخرو‘ کے مقام پر بنایا گیا ہے جہاں فاٹا اور بلوچستان سے لائے گئے پاکستانی نوجوانوں کو ٹریننگ اور مسلح کیا جاتا ہے۔ پاکستان طالبان میں تاجک‘ ازبک‘ چیچن اور چینی مجاہدین جن پر سی آئی اے اور را کا مکمل کنٹرول ہے وہ بھی پاکستان میں داخل ہوچکے ہیں۔ جب حکومت پاکستان اور پختون طالبان کے درمیان معاہدہ ہوتا ہے یہ دہشت گرد کارروائیاں کرکے توڑ دیتے ہیں اور پاک فوج کارروائی پر مجبور ہوجاتی ہے۔ وادی پنج شیر میں جبل السراج کے مقام پر موساد سی آئی اے… ایم آئی 16 جرمن خفیہ ایجنسیوں کا ہیڈکوارٹر ہے۔ یہاں سے بھی دہشت گرد جدید اسلحہ سے لیس کرکے پاکستان بھیجے جاتے ہیں۔
وزیر داخلہ جناب رحمن ملک نے جو سینٹ میں انکشافات کیے وہ قابل غور ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ 10 ہزار غیرملکی انسٹریکٹر طالبان کو گوریلا ٹریننگ دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان میں بھارت اور افغانستان مداخلت کررہے ہیں‘‘۔
جب ملکی حالات اس قدر سنگین ہوجائیں کہ خدانخواستہ کسی وقت وطن عزیز کی سلامتی دائو پر لگ جائے اس وقت حکمرانوں اور بالخصوص سیاسی‘ سماجی‘ مذہبی لیڈروں کو اپنے تفرقات بھلا کر یکجا ہوجانا چاہیے۔ بیرونی دورے منسوخ اور ذاتی مصروفیات بالائے تاک رکھ کر ایک جگہ بیٹھ کرملک بچانے کیلئے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ صدر‘ وزیراعظم‘ وزراء سمیت اور لیڈروں کو آپریشنل ایریا میں جاکر فوجیوں کو ملکر تھپکی دینا بھی ان کے اولین فرائض میں شامل ہے۔ ملکی سلامتی اسی میں ہے کہ طالبان کے خلاف آپریشن کو کم از کم وقت میں ختم کیا جائے۔
وزیراعظم کی قومی کانفرنس بلانے کی تجویز اگرچہ دیر سے دی گئی پھر بھی امید افزا ہے۔ اس وقت ملک کو خانہ جنگی سے اور پاک مسلح افواج کو گوریلا جنگ سے کیسے بچایا جاسکتا ہے تاکہ وہ اصل دشمن کی یلغار کے وقت تازہ دم رہے۔ پناہ گزینوں کی بحفاظت واپسی اور محفوظ جگہوں پر آبادکاری… پاکستانی دریائوں کے پانیوں کو واگزار کرانے کا سنگین مسئلہ اور بھارت کو اپنے دریائوں پر ڈیم بنانے سے روکنا‘ قومی کانفرنس میں ایسے مسائل پر فوری غور و فکر اشد ضروری ہے۔ قومی قیادت جان لے جب تک فوجی قیادت اہل اور مضبوط ہے ایٹمی اثاثے محفوظ رہیں گے یہ نہ ہو کہ صدی کی طاقتیں اسی طرح مات دے جائیں جیسے انگریز نے نواب اودھ کو شطرنج کھیلتے ہوئے دی تھی اور مورخین لکھنے پر مجبور ہوجائیں کہ نالائق‘ عیش پرست پاکستانی لیڈر اپنے ملک کا مردانہ وار دفاع نہ کرسکے۔