حفیظ جالندھری کے ناقابل فراموش اشعار

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

حفیظ جالندھری کے ناقابل فراموش اشعار کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ میں یہاں صرف چند اشعار کا حوالہ دوں گا جو اردو شاعری میں ضرب المثل بن چکے ہیں :
(محمد آصف بھلی سیالکوٹ)............
حفیظ اہل زباں کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
۔۔۔
دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
۔۔۔
تشکیل و تکمیل فن میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے
نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں
۔۔۔
ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے
۔۔۔
آنے والے کسی طوفان کا رونا رو کر
ناخدا نے مجھے ساحل پہ ڈبونا چاہا
۔۔۔
لے چل ہاں منجدھار میں لے چل ساحل ساحل کیا چلنا
میری اتنی فکر نہ کر‘ میں خوگر ہوں طوفانوں کا
۔۔۔
پیاروں کی موت نے مری دنیا اجاڑ دی
یاروں نے دور جا کے بسائی ہیں بستیاں
۔۔۔
ہاں بڑے شوق سے شمشیر کے اعجاز دکھا
ہاں بڑے شوق سے دعویٰ مسیحائی کر
۔۔۔
یہ عجب مرحلہ عمر ہے یارب کہ مجھے
ہر بُری بات‘ بُری بات نظر آتی ہے
۔۔۔
جس نے اس دور کے انسان کیے ہیں پیدا
وہی میرا بھی خدا ہو مجھے منظور نہیں
۔۔۔
میری چپ رہنے کی عادت جس کارن بدنام ہوئی
اب وہ حکایت عام ہوئی ہے سنتا جا ‘ شرماتا جا
۔۔۔
قافلہ کس کی پیروی میں چلے
کون سب سے بڑا لٹیرا ہے