بھارتی سیناپتی دیپک کپور کا چیلنج

کالم نگار  |  ڈاکٹر انور سدید

بھارت کے سیناپتی جنرل دیپک کپور کی ایک چانکیائی نوعیت کی رپورٹ اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ میں گذشتہ دنوں چھپی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بھارتی فوج اپنے ملٹری ڈاکٹرائن (Military Doctrine) میں بیک وقت دو محاذوں پر جنگ لڑنے کے امکانات شامل کر رہی ہے اور یہ دو محاذ پاکستان اور چین ہو سکتے ہیں‘‘ ؟
ایک اور بھارتی اخبار ’’انڈیا ڈیلی‘‘ (India Daily) نے تو یہ بھی لکھا ہے کہ ’’پاکستان اور چین کے ساتھ لڑنے کیلئے بھارتی افواج کو جنرل اے ایس لامبا کی سربراہی میں شملہ میں تربیت دی جا چکی ہے‘‘ اس اخبار کیمطابق جنگ ہونے کی صورت میں بھارت کو امریکہ اور روس سے بالواسطہ امداد ملے گی اور بھارت کو دو جنگیں ایک ساتھ لڑنا پڑیں گی اور جنگ ہونے کی صورت میں بھارت 96 گھنٹوں میں فیصلہ کرنے اور 48 گھنٹوں کے اندر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘۔
بھارت کے دو اہم انگریزی اخبارات میں چھپنے والے ان بیانات کا پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بروقت نوٹس لیا اور جنرل ہیڈکوارٹرز میں سینئر فوجی افسروں سے خطاب میں بھارتی آرمی چیف جنرل دیپک کپور کی دھمکی کو غیرذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج ہر خطرے سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی میں فوج کے روایتی استعمال کی بات کرنیوالے خطرناک اور مہم جو راستے کی بات کرتے ہیں جس کے نتائج کنٹرول سے باہر ہو سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک جارحانہ ’’ملٹری ڈاکٹرائن‘‘ کی موجودگی میں فوجی ہتھیاروں کے غیرمعمولی حصول پر پاکستان غافل نہیں ہے تاہم حکومت پاکستان کی پالیسی کیمطابق پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے اور پاک فوج اسٹریٹجک استحکام کیلئے کردار ادا کرتی رہے گی لیکن اسکے ساتھ ساتھ پاکستان کی فوج اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے اور کسی بھی شکل کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیگی‘ چاہے وہ بھرپور حملے جارحانہ حکمت عملی کی صورت میں ہوں یا سرد جنگ کی صورت میں‘‘۔
پاکستان کے آرمی چیف نے بھارتی سیناپتی کے چیلنج کا جواب مدلل تہذیبی انداز میں زمینی حقائق کی مطابقت میں دیا ہے جس سے جنرل دیپک کپور کی دھمکی کا پورا نوٹس لیا گیا ہے اور اسے محض ’’گیدڑ بھبکی‘‘ نہیں سمجھا گیا لیکن اس بیان سے رونما ہونیوالے نتائج کا نہ صرف آشکار کر دیا گیا ہے بلکہ بھارتی فوج کی جنگ جویانہ ذہنیت‘ چانکیائی سیاست اور علاقے میں امن کو تباہ کرنے کے جارحانہ عزائم کو بے بس بے نقاب کر دیا گیا ہے۔
جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اس شدید ردعمل کا ہی نتیجہ ہے کہ بھارتی وزیراعظم شری من موہن سنگھ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ’’بھارتی آرمی چیف نے چین اور پاکستان کے حوالے سے جو بیان دیا ہے اس کا مقصد خطے کے ممالک کو بھارت کی فوجی صلاحیت سے متعارف کرانا ہے‘‘۔
انہوں نے اسے محض ایک اطلاعی بیان گردانتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بھارت کی فوجی صلاحیت اس وقت خطے کے تمام ممالک سے زیادہ ہے اور بھارت کو اس پر فخر کرنا چاہئے‘‘۔ بھارتی وزیراعظم کا یہ بیان اگر جنوبی ایشیاء کے چھوٹے پڑوسی ممالک کو پیش نظر رکھ کر دیا گیا ہے اور اس میں چین کی فوجی طاقت کو دانستہ نظرانداز کر دیا گیا ہے تو درست قرار دیا جاسکتا ہے۔
بلاشبہ بھارت نے 1962ء میں چین سے شکست اور 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد روایتی اور غیرروایتی ہتھیار جمع کرنے میں بڑی مستعدی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس نے ایک طویل عرصے تک غیرجانبدار ملک ہونے کا ڈھونگ رچا کر ایک بے حد تنگ نظر اور جانبدار حکمتِ عملی اختیار کی اور چین سمیت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں رزم آرائی کی۔
سوویت یونین کے ساتھ دفاعی معاہدے کئے اور جدید ترین ہتھیار حاصل کئے جو پڑوسی ممالک کیخلاف استعمال میں لائے گئے۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد بھارت نے امریکہ کا آلۂ کار بننے اور اس واحد قطبی طاقت سے اپنے مفادات حاصل کرنے میں بھی تاخیر نہ کی لیکن ڈاکٹر من موہن سنگھ نے اب پھر یہ بات نظرانداز کر دی ہے کہ پاکستان جیسا چھوٹا ملک اب ایٹمی توانائی کے حوالے سے بھارت کے ساتھ برابری کا درجہ رکھتا ہے اور پاکستان اپنی دفاعی ضرورت کے اس ہتھیار کو ضرورت کے وقت استعمال کرنے کا اشارہ جنرل کیانی کے بیان میں واضح طور پر دے چکا ہے اور دفاعی امور کے ماہرین جن میں سابق فوجی جرنیل بھی شامل ہیں بروقت واضح کر چکے ہیں کہ ’’ایٹمی طاقت کے حامل ملک پر حملہ کرنا خالہ جی کا گھر نہیں‘‘ اور یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ پاکستان کے میزائلوں کی رینج (Range) بھارت کے اب تک کئے گئے میزائل ٹسٹوں سے بہت زیادہ ہے (یعنی دوگنی سے بھی زیادہ) اور ان کی نوک پر سوار جوہری وار ہیڈز کو بھارت کے کسی بھی شہر پر گرایا جاسکتا ہے‘‘ اور جنرل دیپک کپور جب 96گھنٹوں میں پاکستان سے فیصلہ کن جنگ کی بات کرتے ہیں تو کیا وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی فوجی قیادت یہ 96 گھنٹے سو کر گزارے گی اور بھارت کے حملے کو محض تماشائی کی نظر سے دیکھے گی؟ …
اسکے برعکس پاکستان کا ایک عام آدمی بھی اس حقیقت سے آشنا ہے کہ بھارت کی پاکستان کی طرف پیش قدمی سے پہلے پاکستان کے وار ہیڈز بھارت کی راجدھانی پر پہنچ چکے ہونگے۔ اسکی ایک بڑی مثال ستمبر 1965ء کی جنگ ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو اس وقت کے فوجی صدر جنرل ایوب خان کو چکمہ دے چکے تھے کہ بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری کشمیر میں آویزش کے دور میں بین الاقوامی سرحد عبور نہیں کریگا۔ چنانچہ ستمبر 65ء کے پہلے ہفتے میں لاہور کی بین الاقوامی سرحد خالی پڑی تھی اور 6 ستمبر کی رات کو بھارت نے لاہور پر نہ صرف ناگہانی حملہ کر دیا تھا بلکہ بین الاقوامی میڈیا میں اسی شام لاہور جمخانہ میں ’’جام فتح‘‘ نوش کرنے کی خبر بھی اڑا دی تھی لیکن جب چھ ستمبر کی صبح طلوع ہوئی تو پورا لاہور اپنے جانباز فوجیوں کی پشت پر تھا اور بھارت کی فوج یلغار کرنے کیلئے آئی تو بی آر بی نہر سے آگے نہ بڑھ سکی۔
1965ء کے بعد پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ جکا ہے اور پاکستان مئی 1998ء میں بال کرشن ایڈوانی کی ان بڑھکوں کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتا جو انہوں نے پوکھران میں ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد آزاد کشمیر کا علاقہ خالی کرنے کیلئے دی تھیں لیکن جب مئی 98ء کے آخری دنوں میں پاکستان نے چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر دیئے تو بھارتی حکومت جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ دوسرا بڑا واقعہ بھارتی پارلیمنٹ پر دہشت گردی کے حملوں کے بعد پاکستانی سرحدوں پر دس لاکھ بھارتی فوج کو ایک سال تک جمع کئے رکھنے کا ہے۔ اس تمام عرصے میں بھارت کو بین الاقوامی سرحد عبور کرنے کی جرأت نہ ہوئی اور بالآخر پسپا ہونا پڑا۔
آج پاکستان داخلی طور پر بحرانوں کا شکار ہے اور بھارت کو امریکہ کا عملی تعاون حاصل ہے لیکن بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سیناپتی جنرل دیپک کپور کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہئے کہ اگر انکے ملک نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائیگا اور اسلامی ایٹمی بم اس دفاعی مقصد کیلئے ہی پاکستان نے بنایا ہے۔