بلبل صحرا ریشماں کو خراج تحسین اور الحمراء

کالم نگار  |  محمد مصدق

لاہور آرٹس کونسل یقیناً شاباش کی مستحق ہے کہ اس نے گوشئہ تنہائی و گمنامی میں پڑی ہوئی ریشماں کو بہت عزت دی اور اس کے اعزاز میں ایک یادگار شام موسیقی کا اہتمام کیا جس میں عارف لوہار‘ شوکت علی‘ مہر النسائ‘ محمد ساون سنی‘ شازیہ ریشماں‘ روبی ریشماں اور ثریا خانم نے ریشماں کے گائے ہوئے گانے پیش کئے۔ سچے سروں سے محبت رکھنے والوں نے پورا ہال بھرا ہوا تھا جبکہ شدید سردی پڑ رہی تھی لیکن اندر ہال گرم تھا اور موسیقی اپنے جوبن پر تھی۔ بہت عرصہ بعد لاہور میں کوئی ایسی محفل موسیقی ہوئی ہے جس میں پنجاب کی اصلی اور سچی موسیقی اور شاعری سننے کو ملی۔ لاہور آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد علی بلوچ پورا وقت اپنے دوستوں کیساتھ موجود رہے اور سٹیج پر جا کر اس خوبصورت محفل موسیقی کا کریڈٹ اپنے سر لینے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
بدقسمتی سے متعدد آرٹ کونسلوں یعنی لاہور آرٹس کونسل‘ پنجاب آرٹس کونسل اور پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس جیسے اداروں کے ہوتے ہوئے بھی پاکستان کی حقیقی موسیقی اور شاعری کو فروغ دینے کے لئے باقاعدہ اس نوعیت کی موسیقی کی محفلوں کا کوئی انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے وقتی طور پر بے سرے پاپ سنگرز کو موسیقی کے نام پر ادھم مچانے کا موقع ملا‘ لیکن اب وقت ہے کہ پنجاب کی توانا اور سریلی موسیقی اور جاندار شاعری کو فروغ دینے کے لئے تمام آرٹس کونسلیں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔
عارف لوہار نے نوائے وقت کو بتایا ”اس محفل میں آکر سب سے زیادہ خوشی اس وجہ سے ہوئی کہ زندہ فنکار کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے ورنہ ہماری آرٹس کونسلیں تو مرنے کے بعد رسماً ایک ریفرنس رکھ لیتی ہیں۔ میری تجویز ہے کہ حقیقی پنجابی موسیقی کے فروغ کے لئے اس نوعیت کی محافل موسیقی ہفتہ وار شروع کی جائیں تاکہ عام لوگوں کو خوف سے نجات اور اور ثقافت کو فروغ دینے کا موقع ملے۔ (ویسے اس تجویز سے محمد علی بلوچ نے ا تفاق کیا ہے لیکن سب کچھ تو ذوالفقار زلفی نے کرنا ہے اب دیکھتے ہیں کہ وہ ہدایات کا ا نتظار کرتا ہے یا خود ہی تجاویز ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو پیش کرتا ہے)
بلبل صحرا ریشماں جب ایک دو بول سنانے کے لئے آئی تو کافی نحیف اور کمزور سی لگ رہی تھی بلکہ بقول ایک سینئر فنکارہ سعدیہ شیخ دور سے سہمی ہوئی چڑیا لگ رہی تھی۔ لیکن فنکار کو توانائی ستائش سے ملتی ہے۔ ریشاں سے پہلے شوکت علی گا رہا تھا تو ایک خاتون نے دو ہزار روپے اسے بھیجے‘ شوکت علی نے ایک ہزار اپنی جیب میں رکھا اور دوسرا ہزار جب ریشماں کے ہاتھوں پر رکھا تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں اور ابتداء میں اس نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ اس وقت میری حالت کچھ یوں ہے جیسے
پھس گئی جان شکنجے اندر
جیویں بیلنے وچ گنا
لیکن جب گانا شروع ہوا تو پرستار خواتین نے نوٹ دینے شروع کئے تو اس نے بیماری کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پوری توانائی سے لمبی جدائی گایا۔ ریشاں کی جمع شدہ رقم اٹھانے کے لئے ایک تماشائی نے سٹیج پر چڑھنے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی گارڈ منظور نے یہ کوشش ناکام بنا دی۔