احوال جبوتی باسو سے ایک ملاقات کا

صحافی  |  عطاء الرحمن

بھارت کے عالمی شہرت رکھنے والے اور 23 برس تک مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حکمرانی کرنے والے چین نواز کمیونسٹ رہنما جبوتی باسو 95 کی عمر میں سرگباشی ہو گئے ہیں۔ ان کے کمیونسٹ نظریات اور بھارت میں مارکسی نظام غالب کرنے کی عمر بھر کی جدوجہد سے قطع نظر جیوتی باسو کا شمار اپنے ملک کے مدبّر سیاستدانوں میں ہوتا تھا۔ دو دہائی تک مغربی بنگال جیسی مضطرب اور احتجاجی سیاست کی شدت رکھنے والی ریاست کے وزیراعلیٰ رہے۔ یہ بھی ایک ریکارڈ ہے۔ 1996ءمیں وزیراعظم بنتے بنتے رہ گئے۔ اس کا انہیں تادم آخر افسوس رہا۔ ان کی اپنی جماعت نے جس کے جبوتی باسو مسلمہ قائد تھے اس کی اجازت نہ دی تھی۔ اس کمیونسٹ رہنما کو1991 کے بعد اس وقت عالمی سطح پر ایک خاص مقام حاصل ہوگیا جب سوویت یونین کے تتر بتر ہونے کے ساتھ وہاں پر کمیونسٹ نظام کی بلندو بالا عمارت بھی دھڑام سے زمین پر آن گری اور عوامی جمہوریہ چین نے معیشت اور اقتصادی نظام کی حد تک ما¶زے تنگ کے نظریات سے بالکل مختلف راستہ اختیار کر لیا تھا اور منڈی کی معیشت کی جانب چل نکلا تھا اس عالم میں دنیا کے اندر تین بڑے اور ممتاز کمیونسٹ رہنما ایسے رہ گئے تھے جن کی اپنے ملک یا ریاست میں حکومت باقی تھی اور وہ ابھی تک کلاسیکل کمیونزم پر یقین رکھتے تھے۔ کیوبا کے فیڈرل کاسترو، شمالی کوریا کے آنجہانی قائد اور مغربی بنگال کے جبوتی باسو‘ ان میں باسو کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ ان کی حکومت اگرچہ پورے ملک کی بجائے بھارت کی ریاست تک محدود تھی لیکن وہ 1977ءکے عام اور آزادانہ انتخابات کے نتیجے میں برسر اقتدار آئے تھے۔ کوئی بھی انہیں نظریاتی آمریت مسلط کرنے کا طعنہ نہیں دیتا تھا۔ میں نے آج سے پورے تیرہ برس پہلے جنوری 1997ءمیں کولکتہ کے حکومتی سیکرٹریٹ کے مشہور مقام رائٹرز بلڈنگ میں جبوتی باسو سے انٹرویو کیا۔ اس وقت ان کی حیثیت نہ صرف بچی کھچی عالمی کمیونسٹ تحریک بلکہ بھارت کے اندر بھی سب سے سینئر سیاسی رہنما کی تھی۔ میں واحد پاکستانی اخبار نویس ہوں جسے جبوتی باسو نے کبھی انٹرویو دیا ان سے ملاقات ایک گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی۔ تب میں پاک بھارت تعلقات کے موضوع پر کولکتہ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے گیا ہوا تھا۔ ڈاکٹر مبشر حسن پاکستان کے دانشوروں کے وفد کی قیادت کر رہے تھے۔ اس دوران جبوتی باسو کی ریاستی کابینہ کے ایک مسلمان وزیر نے مندوبین کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا جس میں آنجہانی باسو نے بطور خاص شرکت کی۔ اس محفل میں میں نے جبوتی باسو صاحب کے پاس جا کر ان سے تفصیلی انٹرویو کی درخواست کی۔جسے انہوں نے منظور کر لیا اور مجھے اگلے روز صبح رائٹرز بلڈنگ میں اپنے دفتر میں آنے کے لئے کہا۔ میں وہاں پہنچا تو مغربی بنگال کا یہ عمر رسیدہ اور جہاں دیدہ کمیونسٹ وزیراعلیٰ اپنے کتابی چہرے کے ساتھ میرا منتظر تھا۔ سادہ لباس پہنے ہوئے اور دھیمے لہجے میں گفتگو کرنے والے جبوتی باسو نے میرے مختلف سوالات کے جواب دئیے جن کا تعلق اس وقت کی بھارتی سیاست، پاک بھارت تعلقات اور چین بھارت تعلقات سے تھا۔ ان دنوں چین اور بھارت کے درمیان ایک سرحدی مفاہمت ہوئی تھی جس کے تحت طے پایا تھا کہ بھارت کے دعوے کے مطابق 1962ءکی جنگ میں چین نے جس بھارتی علاقے پر قبضہ کیا تھا بھارت سردست اس کی واپسی کا مطالبہ نہیں کرے گا اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جائے گا۔ میں نے جبوتی باسو سے سوال کیا۔ شنید ہے اس معاہدے کو ممکن بنانے میں آپ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ کہنے لگے جی ہاں اس میں پیش پیش رہا ہوں۔ میں نے اگلا سوال یہ کیا چین کے مقابلے میں آپ کا ملک فوجی لحاظ سے کمزور ہے لہٰذا اسے وہ علاقہ خواہ وقتی طور پر آپ دینے پر راضی ہوگئے ہیں جس کے بارے میں بھارتی حکومت کا کہنا ہے اس سے جنگ میں چھینا گیا تھا لیکن کشمیری عوام چونکہ فوجی لحاظ سے بہت کمزور ہیں اس لئے آپ کا ملک ان کے ساتھ عالمی سطح پر کئے وعدے پر عمل نہیں کرتا۔ اس پر وہ مسکرائے اور کہا مسئلہ کشمیر بھی حل ہونا چاہئے۔ یہ بہتر پاک بھارت تعلقات کے لئے ضروری ہے۔ میں نے اگلا سوال کیا پھر آپ اس مقصد کے لئے اپنا کردار کیوں نہیں ادا کرتے۔ جواب دیا میں تیار ہوں اگر بھارت یا پاکستان کی حکومتوں میں سے مجھے کوئی کہے۔ بلایا جائے تو پاکستان آنے کے لئے تیار ہوں میں نے واپس آ کر ان کی یہ پیشکش اخبار میں لکھ دی لیکن ہماری حکومتوں کی زیادہ توجیہات کا مرکز کانگریس یا بی جے پی کی لیڈر شپ رہی ہے۔ اس لئے نسبتاً معتدل اور بھارتی کمیونسٹ پارٹی کے چین نواز دھڑے کے لیجنڈری جبوتی باسو جیسی شخصیات سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔