اب کیا ایک اور عافیہ صدیقی؟

اسرار بخاری ۔۔۔
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
برسوں پہلے کہی جانے والی یہ بات لگتا ہے آج کے لئے تھی اور بالخصوص پاکستان کے حوالے سے تھی جس ملک میں درسِ قرآن قابلِ دست اندازی پولیس جرم ٹھہر جائے جہاں درسِ قرآن کا اہتمام کرنے والے لائق تعزیر ہو کر حوالہ زندان کئے جائیں جہاں مسلمان بہو بیٹیوں کو خود اٹھا کر کفار کے حوالے کر کے ڈالر وصول کئے جائیں وہ دنیا کے نقشے میں اسلامی جمہوریہ کہلاتا ہے عامرہ احسان نے دہائی دی کہ ’میرے قلم کی بیباکی کی کوئی سزا اگر درپردہ لاگو کرنے کی کوشش کی گئی تو کیا یہ قوم جو پہلے ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر شرمسار بیٹھی ہے اس کا سدباب کر سکے گی‘ عامرہ احسان پر سزا کیوں لاگو کی جائے گی اس کا پس منظر وہ خود یوں بیان کرتی ہیں ”بلاشبہ ایک پیغام جبر اور دھمکی کے تمام تر عناصر ہمراہ لئے ہوئے ہمیں دیا گیا اور وہ یہ کہ اس دور میں پڑھے لکھے طبقہ میں تیزی سے بڑھتا پھیلتا حجاب اور متمول گھرانوں کے نوجوانوں لڑکوں میں اسلام پسندی کی لہر کے زیر اثر داڑھیاںاور حفظ قرآن کی رو گوارہ نہیں کی جا سکتی درس ِ قرآن کے سلسلے لپیٹے جائیں جنہوں نے اسلام آباد جیسے شہر کو حجاب آلود کر دیا ہے‘ کس دل گردے کے ساتھ یقین کیا جائے کہ یہ سب کچھ اس پاکستان میں ہو رہا ہے جس کا وجود دو قومی نظریہ کا مرہونِ منت ہے جس کے آئین کے بارے میں قائداعظم نے فرمایا تھا یہ تو چودہ سو سال پہلے بن چکا ہے مگر یہ بے مہر موسموں کی یلغار ہے اس ملک میں درس قرآن کا اہتمام کرنے والی ضعیف العمر خاتون نجمہ اور اس کارخیر میں معاونت کرنے والے نوجوانوں کو اٹھا لیا گیا کس نے؟ کیا امریکہ کی ایف بی آئی نے کیا برطانیہ کی ایم 6 نے کیا اسرائیل کی موساد نے یا کیا بھارت کی را نے جی نہیں پاکستان کی ایجنسیوں کے مسلمان اہلکاروں نے، بلاخوف تردید یہ امریکہ کی جانب سے حکم صادر ہوا ہوگا، جیسا حکم ملا عبدالسلام ضعیف کو امریکہ کے حوالے کرکے اسلامی اخوت کی پیٹھ پر چھری ماری گئی جیسے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کر کے اسلامی غیرت کا جنازہ نکالا گیا بقول عامرہ احسان درس قرآن کا اہتمام کرنے کے جرم عظیم میں 60 خواتین کی فہرست تیار کرلی گئی ہے۔ یہ فہرست کس نے تیار کی کیا وہ مسلمان نہیں تھے کیا انہیں مسلمان ما¶ں نے جنم نہیں دیا تھا کیا مسلمان بہنیں ان کی عزتیں نہیں ہیں کیا مسلمان بیٹیاں ان کی غیرتیں نہیں ہیں کیا یہ اس زندہ حقیقت سے بے خبر ہیں کہ امریکہ اور یورپ اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے باوجود ان ہی خطوں میں فروغ اسلام کا عمل روکنے سے عاجز آ چکے ہیں پیرس جیسے عالمی فیشن کے مرکز کی فضا¶ں میں اور نیویارک کے مادر پدر آزاد معاشرہ میں جنم لینے والی مسلمان عورت کو کس نے حجاب کی طرف اس ثابت قدمی سے راغب کیا کہ اسے دنیا کی ہر آسائش حتیٰ کہ زندگی تک بے معنی ہونے لگی ہے پورے یورپ اور امریکہ میں مسلمان عورت اپنے اسلامی تشخص بلکہ اسلامی حکم کے لئے بڑی جرات مندی کے ساتھ نبرد آزما ہے اسے کس نے اس جذبہ سے سرشار کیا ہے یقیناً وہ ہی جو دلوں کو پھیرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اگر نوجوانوں میں داڑھیوں کا ذوق اور لڑکیوں میں حجاب کا رحجان بڑھ رہا ہے تو یہ درس قرآن کا اہتمام کرنے والوں کا کارنامہ نہیں ہے وہ تو محض ذریعہ ہیں یہ تو سراسر قرآن کا زندہ معجزہ ہے اگر پڑھے لکھے اور متمول گھرانوں کے لڑکوں اور لڑکیوں میں اس آب نشاط انگیز کی رغبت بڑھ رہی ہے تو دل کی نامحکمی اور دیرینہ بیماری کا واحد علاج ہی یہ ہے عقوبت خانوں سے ’درس قرآن‘ بند کرو‘ کے پیغامات دینے والے کتنے نادان ہیں خدا قیامت تک جس کی حفاظت کا ذمہ دار خود بن جائے محض گرمی اور سردی کی شدت کی تاب نہ لانے والے حقیر انسان اس قرآن کے راستے میں کیسے حائل ہو رہے ہیں۔ عامرہ احسان رنجیدہ نہ ہوں ڈاکٹر عافیہ پر شرمسار قوم اپنی تمام تر بداعمالیوں کے باوجود ابھی اس میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں۔ محمد بن قاسم کا جذبہ رکھنے والے نوجوانوں کی بھی کمی نہیں ہے انشاءاللہ وقت آنے پر انہیں عافیہ صدیقی نہیں بننے دیں گے۔