کارگل کمیشن!

آج کل ہم پاکستانی عوام کارگل کے متعلق بہت کچھ سن اور پڑھ رہے ہیں۔ اسی سلسلہ میں جنرل شاہد عزیز مختلف ٹی وی چینلز پر آتے رہے اور کارگل کے متعلق اپنی کتاب میں لکھی ہوئی باتیں دہراتے رہے۔ اسی سے لائن پکڑتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کارگل کی کہانی پر ایک جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کر دیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہماری فوج کے پانچ سو افسران سردار صاحبان اور جوانان نے جام شہادت نوش کےے۔ اندر کھاتے ان کا مطلب یہ ہے کہ اتنے شہدا جنرل مشرف کی طالع آزمائی پر قربان ہو گئے۔ یہ تو ٹھیک ہوا مگر مشرقی پاکستان میں آٹھ ہزار افسران سردار صاحبان اور جوانان شہید ہوئے وہاں پر سیاسی/ فوجی تجویزات/تزویرات میں سے Contigency II پر اگر عمل کیا جاتا تو ہم 16دسمبر 1971کی رسوائی سے بچ سکتے تھے۔ ہاں اس طرح مغربی پاکستان کی اقلیتی پارٹی کو اقتدار کی منتقلی میں کچھ دیر ہو جانی تھی۔
Contigency II پر کیوں عمل درآمد نہیں ہوا۔ حمود الرحمن کمیشن نے اس بات کا پتہ نہیں لگایا۔ نہ کسی سے ایسا نہ کرنے پر استفسار کیا اور نہ کسی کو ایسا نہ کرنے پر سزا ہوئی۔
جناب بھٹو صاحب نے فرمایا کہ تاریخ ہمارے فیصلوں کو درست ثابت کرے گی۔
شیخ مجیب الرحمن نے الزام لگایا کہ تیس لاکھ بنگالی قتل ہوئے۔ حمود الرحمن کمیشن نے بالکل کوشش نہیں کی کہ ایسے اعدادوشمار صحیح تھے یا غلط۔ چونکہ اس سے ہماری قوم اور افواج پر اخلاقی دباﺅ رہا اس لےے ان اعدادوشمار کا کھوج نہ لگانا مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔ کہاں سے آگئیں جنابہ سرمیلا بوس (سبھاش چندبوس کی بھتیجی۔ ایک بنگالی ہندو خاتون) انھوں نے چھ سال کی مسلسل محنت اور کاوش سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ تیس لاکھ نہیں بلکہ ایک لاکھ بیس ہزار قتل تھے۔ جو کام ہمیں خود کرنا چاہےے تھا وہ ہمارے دشمن ملک کی ایک خاتون نے کر دکھایا۔ اور ہماری خواب خرگوش جاری رہی۔ خدا کے واسطے اب تو دیکھو اکتالیس سال گزر گئے۔ 16دسمبر 1971کی شرمندگی میں حکومتی گیلریوں میں آنے جانے والے شہزادگان اپنی آنیوں جانیوں اور حکومتی عیش و عشرت میں مگن رہے اور ادھر خون کی ندیاں بہتی رہیں اور اب تک کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ اتنا خون وہاں بہا۔ بہاریوں کا بنگالیوں کا مشرقی پاکستان میں کام کرنے والے مغربی پاکستانیوں کا فوجیوں کا سول آرمڈ فورسز اور پولیس کا۔ مغربی پاکستانی بھائیوں کو تو اتنا زیادہ خون بہہ جانے کی خبر ہی نہ ہوئی۔ مگر اللہ تعالیٰ دیکھ رہا تھا۔ مکافات عمل دیکھےے اس وقت کے طرفین کے قائدین ماسوائے جنرل یحییٰ کے جو طبعی موت سے گئے باقی سب اپنے ہی عوام کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔
اس وقت کا بہا ہوا خون اپنے ابھار میں آتا رہے گا کہ شاید ہم جاگ جائیں۔
اب بھی ایسے لگتا ہے کہ موجودہ شہزاد گان اور شہزادگان بننے کی تمنا رکھنے والے تو تب ہی ہلیں گے جب ان کی کسی ذاتی دلچسپی یا مال و دولت پر گزند پڑے گی یا ان کے اگلے پروگرام کسی خطرے میں گھرتے نظر آئیں گے۔ کیا آج تک کسی کمیشن نے کھوج لگا کر قوم کی کوئی حتمی راہ نمائی کی ہے۔ کارگل کمیشن بھی زیادہ تر بغض معاویہ ہی نظر آرہا ہے۔ چلو اچھا ہے کارگل کمیشن بنایا جائے اور چھپے ہوئے حقائق سامنے آئیں۔ اس سے پہلے بہت سے کمیشن بنائے گئے لیاقت علی خان قتل کیس کمیشن، میموگیٹ کمیشن، ایبٹ آباد کمیشن، حمود الرحمن کمیشن، تاشقند کی بلی آج تک تھیلے سے باہر نہیں آئی۔ قائد عوام کے دو بیٹے قتل ہو گئے ان کی بیٹی کی حکومت کے دوران اور پھر وہ خود بھی قتل ہو گئیں۔ ان سب پر خاموشی ہے۔ اچھا ہے ہم عوام کو پتہ چلے گا کہ : ”کیا ہوا کیسے ہوا، کب ہوا“۔ کارگل کے متعلق ایک بات جس پر غور ہوتا نظر نہیں آتا وہ یہ ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم جناب نواز شریف کو اتنا بڑا فوجی آپریشن حرکت میں آتا نظر نہیں آیا۔ انکی اتنی زیادہ اطلاعات کی ایجنسیاں ہونے کے باوجود اور پاک فوج اتنا بڑا فوجی آپریشن اپنے سالانہ ڈیفنس بجٹ میں سے تو نہیں کر سکتی تھی۔ سننے میں آیا ہے کہ اس وقت کی حکومت نے ایک بڑی رقم اس آپریشن کیلئے فوج کے حوالے کی تھی۔ یہ تو وزارت خزانہ کے کاغذات کے آڈٹ وغیرہ سے آسانی سے پتہ چل سکتا ہے تو پھر یہ کہنا کہ ان کو اس آپریشن سے بے خبر رکھا گیا ایک تعجب خیز اچنبھا ہے۔
کارگل کمیشن ہم عوام کیلئے ایک خوش آئند ابتدا ہوئی۔ ہمیں لکی چھپی میٹھی سلونی باتیں پتہ لگیں گی جنرل مشرف جیسے حکمرانوں یا آئندہ حکمرانی کے کئی دوسرے خواہش مندوں کو عندیہ ملے گا کہ اپنے دوستوں اور دشمنوں کو پہچانیں۔ وہ جو آج مشرف پر بندوقیں تانے ہوئے ہیں وہ کتنے سال مشرف کا دم بھرتے رہے اور اب وہ کدھر ہیں۔ اس دھرتی کا یہی دستور ہے۔ شمال مغرب سے آنے والے حملہ آوروں کا استقبال کرتے ہوئے اپنی پگڑیاں ان کے قدموں میں رکھ دیا کرتے تھے اور انکے آگے اطاعت کی قسمیں کھاتے اور پگڑیاں واپس انکے سروں پر آجاتی تھیں۔ پورے برصغیر میں ہر جگہ صرف تین تین دن کی جنگیں ہوا کرتی تھیں۔ صرف 1965کی جنگ سترہ دن لڑی گئی۔ اسی لےے اس جنگ کا تذکرہ بڑے ادب و احترام سے کرنا چاہےے۔ یہاں پر ہر دفعہ وہی چہرے اقتدار کے ایوانوں سے چمٹے نظر آتے ہیں۔
ہمارے عوام تو کھوکھلی قیادت کو بہت مواقع دیتے ہیں۔ اے اللہ کیا ہم ایسی ہی نااہل قیادت کے لائق ہیں!! مہنگائی کا جن کس طرح ہمارے حواس پر سوار ہے۔ 1964سے ڈیزل کی قیمت 538گنا بڑھ کر 113روپے فی لیٹر ہو گئی ہے جب کہ ملازمین کی تنخواہیں اتنے عرصے میں صرف پنتالیس گنا ہی بڑھ سکی ہیں۔ اتنے جوتے کھا کر بھی ہم پاکستانی عوام ناامیدی کو کفر سمجھتے ہیں۔ ہم ان تمام کوششوں کو خوش آمدید کہتے ہیں جن سے پچھلے اور موجودہ حکمرانوں کی فاش غلطیاں ہمارے سامنے لائی جائیں۔ تاکہ آئندہ وہ دہرائی نہ جائیں۔ ہم کارگل پر کمیشن پر خوش ہیں بشرطیکہ وہ حمود الرحمن کمیشن کی طرح ہمارے ساتھ آنکھ مچولی نہ کھیلتا رہے۔