ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ایک ملاقات

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

ساری دنیا کو معلوم ہے کہ پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے عظیم اور لافانی کردار ادا کیا تھا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کی شہرت اور عظمت کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑنے والے پاکستان کے سابق صدر اور فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر صاحب کو نظر بند کر نے کے بعد بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا تھا کہ جب پاکستان کو فنا کر دینے اور صفحہ¿ ہستی سے مٹا دینے کے خواب دیکھے جا رہے تھے اس وقت پاکستان کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کےلئے ڈاکٹر عبدالقدیر خاں آگے آئے اور انہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت فراہم کی اس لئے وہ آج بھی قومی ہیرو ہیں۔ جنرل عبدالوحید کاکڑ جب پاک فوج سربراہ تھے تو انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستانی قوم کا افتخار قرار دیا تھا۔ پاک فوج کے ایک اور سربراہ جنرل جہانگیر کرامت نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اے کیو خان کے کار ناموں پر قوم جتنا بھی فخر کرے کم ہے۔ پاکستان کی دو مرتبہ منتخب ہونے والی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ پاکستان کو اس بات پر ناز ہے کہ ہمارے ہاں ڈاکٹر عبدالقدیر خاں جیسا غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل ایک سائنس دان موجود ہے۔ جس کے بیش قیمت کارناموں کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ سابق وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے جب ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کی سربراہی میں قائم ادارے کا دورہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی پوری قوم کے ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خاں اور ان کی ٹیم کے دیگر ارکان کو تو اپنے قومی فرائض سے گہری وابستگی پر سلام پیش کرتا ہوں جن کی محنت سے ہماری قوم میں احساس افتخار پیدا ہوا ہے۔ پاکستان کے تین سابق صدور جنرل ضیاءالحق، فاوق احمد لغاری اور محمد رفیق تارڑ نے بھی اپنے الگ الگ بیانات میں ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کے عظیم ترین کارناموں کو پاکستانی تاریخ کا سنہری باب قرار دیا اور ڈاکٹر صاحب کی قائدانہ صلاحیتوں کا شاندار الفاظ میں اعتراف کیا۔
پوری پاکستانی قوم اس بات پر ممنون احسان ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے ایک فرد واحد کے طور پر پاکستان کےلئے وہ قابل فخر کارنامہ سرانجام دیا جس کی پاکستانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ڈاکٹر اے کیو خان کا کارنامہ صرف اس عہد کے لئے نہیں ہے بلکہ آنے والے زمانے میں بھی ڈاکٹر صاحب کی قومی خدمات کی وجہ سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ثابت ہو گا۔ اسلئے بلامبالغہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ہماری قومی تاریخ میں جو محترم مقام قائداعظمؒ کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کو حاصل ہوا ہے اب شاید ہی ایسی قدر ومنزلت کسی اور شخصیت کو حاصل ہو سکے۔ پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا اور مختلف نوعیت کے جدید ترین میزائل بنانے کی بے پناہ صلاحیت کا مظاہرہ کرنا نہ صرف پاکستانی قوم کے لئے بلکہ پوری امت اسلامیہ کےلئے وجہ افتخار ہے۔
گزشتہ اتوار جب میں اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سیالکوٹ کے نومنتخب صدر ملک مشتاق احمد وکلا کی طرف سے اور تھنکرز فورم سیالکوٹ کے صدر اسد اعجاز سیالکوٹ کی سول سوسائٹی کی جانب سے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کو سیالکوٹ میں مدعو کرنے کےلئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دوران گفتگو ان سے میرا پہلا استفسار یہی تھا کہ ڈاکٹر صاحب، قوم کا ہر شخص دل کی گہرائیوں سے آپ کا احترام کرتا ہے لیکن کیا قوم اپنے ہیرو کا سیاست میں بھی ویسے ہی خیر مقدم کرے گی جیسے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے پر ہر محب وطن پاکستانی نے سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کو بے اختیار زندہ باد کہا تھا۔ میں ڈاکٹر صاحب سے یہ جاننا چاہتا تھا کہ آپ کو پوری قوم پاکستان کو دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بنانے پر ایک عظیم شخصیت تو قرار دیتی ہے لیکن کیا آپ کو یقین ہے کہ سیاست میں بھی قوم کی طرف سے آپ کو بھرپور پذیرائی حاصل ہو گی؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کا جواب تھا کہ سیاست میں میں کسی منصب، شہرت یا اپنے کسی ذاتی لالچ کو پورا کرنے کےلئے نہیں آیا۔ جتنی شہرت، احترام اور عزت مجھے سیاست کے بغیر حاصل ہوئی ہے وہ اس دور کے کسی بھی سیاست دان کے نصیب میں نہیں ہے۔ مجھے دولت کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ کیونکہ جتنی میری ضرورت ہے اللہ کریم نے مجھے اس سے زیادہ نوازا ہے اور پھر قناعت کی دولت بھی مجھے اللہ نے دے رکھی ہے۔ مجھے رائے ونڈ جیسے کے محلات اور ہر شہر میں بم پروف بلاول ہاﺅس بھی نہیں چاہئے کیونکہ میرا ایمان ہے کہ جان لینے والے فرشتہ عزرائیل کو یہ بم پروف محلات نہیں روک سکتے۔ معلوم نہیں ہمارے حکمران اس حقیقت کو کیوں بھول جاتے ہیں کہ جب عزرائیل نے اپنا فرض ادا کر دینا ہے تو پھر مٹی کی ایک معمولی قبر ہی ہم سب کی آخری منزل ہے۔ بلاول ہاﺅس والے بھی مٹی میں دبا دیئے جائیں گے اور جھونپڑوں میں رہنے والے بھی زمین میں ہی دفن ہوں گے۔ ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے کہ کتنے دکھ کی بات ہے کہ جو ملک قائداعظم کی مخلصانہ اور انتھک کوششوں سے بنایا گیا اور جس کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں نے اینٹ پتھر کے بجائے اپنے جسم چن رکھے ہیں آج وہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی اور جمہوری ریاست بننے کی بجائے چوروں، بدعنوانوں اور لٹیرے حکمرانوں کے سیاہ کارناموں کی وجہ سے ناکام ریاست بنا دیا گیا ہے۔ ہم ایک محنتی قوم ہیں اور پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ قدرتی وسائل سے نواز رکھا ہے۔ ہمارے ہاں ذہین اور تعلیم یافتہ افراد کی بھی کمی نہیں اس کے باوجود پاکستان دنیا کا غریب ترین ملک ہے۔ بے روز گاری، مہنگائی، لاقانونیت، بدامنی، لوڈ شیڈنگ، کرپشن، بھتہ خوری، خود کش حملے، ٹارگٹ کلنگ، قومی اداروں کی تباہی، کس کس مسئلے کا ذکر کیا جائے۔ ان مسائل اور پاکستان کی تاریخ کے ان بدترین حالات کے ذمہ دار ہمارے وہ حکمران ہیں جو بار بار کبھی الیکشن کے ذریعے اور کبھی فوجی آمروں کے ساتھ مل کر اقتدار پر قابض ہوتے رہے۔ اگر موجودہ کسی بھی سیاسی لیڈر سے قوم کو بہتری کی امید ہوتی تو میں کبھی سیاست میں نہ آتا۔ قومی حالات کی ابتری اور پاکستان کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کو دیکھتے ہوئے میں نے مجبوراً 76 سال کی عمر میں سیاسی میدان میں آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں سیاست میں کسی سیاست دان کا حریف یا رقیب نہیں ہوں۔ موجودہ سیاست دانوں اور میری سوچ میں بڑا واضح فرق ہے۔ وہ اپنے ذاتی مقاصد کے لئے سیاست کرتے ہیں میں قوم کی خاطر سیاست میں آیا ہوں۔ میری خواہش صرف یہ ہے کہ میں نے جس طرح پاکستان کو بیرونی خطرات میں گھرا ہوا دیکھ کر ایٹم بم بنانے کیلئے اپنی خدمات پیش کی تھیں اور پھر دفاع پاکستان کو میں نے ناقابل تسخیر بنا کر دکھا دیا، اسی طرح پاکستان کو اندرونی خطرات سے میں محفوظ بنانا چاہتا ہوں ۔ ایک محفوظ ، پرامن، کرپشن سے پاک اور خوشحال پاکستان میرا خواب ہے۔ قائداعظم کے نظریات اور عمل ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ ہم قوم میں ووٹ کے تقدس اور اہمیت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ قوم بیدار ہو جائے اور اپنے لئے ایماندار، باصلاحیت اور پڑھے لکھے نمائندے منتخب کرے۔ ہماری کسی سے دشمنی نہیں۔ ہم صرف بدعنوان اور نااہل سیاست دانوں سے قوم کو نجات دلانا چاہتے ہیں۔ کرپشن اور اقربا پروری کو سیاست سے باہر نکال دیاجائے تو یہ پاکستان صحیح معنوں میں قائداعظم کا پاکستان بن جائے گا۔ پاکستان کو ایک قابل رشک، قابل فخر اور دنیا کی نظروں میں قابل احترام ملک بنانا، پاکستانی قوم کا حق ہی نہیں بلکہ ہمارا فرض بھی ہے ہمیں قائداعظم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے صرف ایک پاکستانی قوم بننا ہو گا۔ بلوچی، پٹھان، سندھی، پنجابی، مہاجر یہ سب تعصبات غلط ہیں۔ لسانی اور علاقائی تعصبات کی بنیاد پر سیاست کرنے والے پاکستانی قوم کے دشمن ہیں۔ ایک قرآن اور ایک رسول کے پیروکار ایک قوم ہیں۔ قرآن اور احادیث سے بہتر اور کوئی منشور نہیں۔ ایک عظیم تر پاکستان بنانے کیلئے اس سے اعلیٰ اور کوئی راستہ نہیں۔ قائداعظم نے جس اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست کا تصور پیش کیا تھا اس منزل پر پہنچنے کےلئے ہمیں قائداعظم کے نظریات سے ہی راہنمائی حاصل کرنا ہو گی۔ قائداعظم نے فرمایا تھا کہ جو حکومت عوام کی خدمت اور فلاح و بہبود کا فرض ادا نہیں کر سکتی قوم کو ایسی حکومت کو فارغ کر دینے کا پورا حق ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے کہا کہ جمہوریت کا مطلب ہی یہ ہے کہ عوام کو اپنی پسند کے حکمرانوں کو منتخب کرنے کی کامل آزادی حاصل ہو۔ ہم نے خود کو عوام کی عدالت میں پیش کر دیا ہے اب یہ قوم کے اختیار میں ہے کہ وہ اپنا حق حکمرانی ان ہی لوگوں کو دینا چاہتی ہے جنہوں نے پاکستان کو ناکام ریاست کا ٹائیٹل دلوایا ہے۔ یا قوم اس شخص کو اپنی خدمت سر انجام دینے کا موقع دیتی ہے جو ایک تباہ شدہ ملک کو پرامن اور خوشحال پاکستان بنانا چاہتا ہے۔