قومی سیاست میں سیاسی وراثت کا کلچر

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

 بلاول بھٹو زرداری کو صدر زرداری نے بینظیر بھٹو کی پانچویں برسی کے موقع پر قوم کے مستقبل کے لیڈر کے طور پر عوام کے سامنے پیش کر دیا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری کے نانا کی سیاسی جماعت کو 1970ءکے الیکشن میں سندھ کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کے لئے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کی زیادتی نشستیں ملی تھیں۔ ان انتخابات کے نتیجے میں پنجاب میں بھی پیپلزپارٹی کی حکومت بنی تھی۔ اب صدر زرداری نے بینظیر بھٹو کے بیٹے اور ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے کو پنجاب کے انتخابی معرکوں کی نگرانی کے لئے لاہور میں 1600کنال رقبے پر مشتمل ایک نیا محل تعمیر کرا دیا ہے جو لندن کے سرے محل سے بھی زیادہ پرکشش ہے اور بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے تیسرے بھٹو کی حیثیت سے اس تیسرے بلاول ہا¶س میں براجمان ہو کر تخت لاہور پر سے ”شریفوں“ اور ”چوہدریوں“ کے قبضے کو ختم کرنے کے لئے پنجاب کو اپنا انتخابی حلقہ بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ میاں نوازشریف سندھ میں انتخابی فتوحات کی فضا بنانے میں مصروف ہیں لیکن انہیں ”تخت لاہور“ چھن جانے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ لاہور تو پہلے ہی ن لیگ کا لاڑکانہ ہے اب تو چھوٹے بھائی میاں شہبازشریف نے بلاول ہا¶س لاہور میں صدر زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی پہلی آمد کے ساتھ ہی انہیں لاہوریوں کے لئے میٹروبس سروس کے افتتاح کی سلامی دے ڈالی ہے اور پھر حمزہ شہباز اور مریم نواز بھی میاں شریف فیملی کے سیاسی وارثوں کے طور پر پنجاب کے عوام کے ساتھ رابطوں میں ہیں۔ جس طرح صدر زرداری بلاول بھٹو زرداری کو مستقبل کے وزیراعظم کی سیاسی تربیت دے رہے ہیں۔ پنجاب کی شریف سیاست حمزہ شہباز کو پنجاب کے آئندہ وزیراعلیٰ اور مریم نواز کو مستقبل کی بینظیر بھٹو کے روپ میںدیکھ رہی ہے۔ سیاسی وراثت ہمارے سیاسی کلچر کا اس قدر حصہ بن چکی ہے کہ ”چوہدری مونس الٰہی“ جس نے اپنے باپ چوہدری پرویزالٰہی کی وزارت اعلیٰ پنجاب کے زمانے میں اس حد تک مال کما¶ اور کمشن بنا¶ سیاست کی ہے کہ پاکستان کے عوام کو بینظیر بھٹو کے اقتدار کے دونوں ادوار میں آصف علی زڑداری کو ٹین پرسنٹ اور ففٹی پرسنٹ کمیشن لینے کے الزامات بھی لوگوں کو بھول گئے تھے۔ اب جبکہ چوہدری پرویزالٰہی ملک کے ڈپٹی وزیراعظم ہیں۔ چوہدری مونس الٰہی صدر زرداری سے لے کر علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری تک سے ہونے والی چوہدری برادران کی ملاقاتوں میں اپنے والد اور ماموں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ وہ چوہدری ظہورالٰہی شہید کے سیاسی وارث کے طور پر ابھر کر سامنے آ گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کے سابق سپیکر سید فخرامام اور سیدہ عابدہ حسین نے پیپلزپارٹی جوائن کرکے اور تو کچھ نہیں کمایا البتہ ان کی سیاسی وارث مس صغریٰ امام، پیپلزپارٹی کی سینیٹر ضرور بن چکی ہیں اور اگر ق لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹ میں صدر زرداری نے بیگم عابدہ حسین کو فیصل صالح حیات اور سید فخر امام کو رضا حیات ہراج کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ نہ دیئے تو ملک کے اس معروف میاں بیوی سیاست دانوں کو اپنی سیاسی وارث کی ایوان بالا کی رکنیت کے علاوہ اقتدار کے ایوانوں تک مزید کوئی رسائی شاید ہی میسر آ سکے گی۔ ن لیگ نے میاں شہبازشریف کی پنجاب اسمبلی سے عدم موجودگی کے وقت ذوالفقار علی کھوسہ کے چھوٹے بیٹے دوست محمد کھوسہ کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ کھوسہ کو پنجاب کی سیاست میں اپنے بعد دوسری پوزیشن پر دیکھتے ہیں مگر سیف کھوسہ نے کیا کیا۔ اس وقت پیپلزپارٹی جوائن کر لی جب پیپلزپارٹی اپنی ”اپوزیشن میں بیٹھنے کی باری“ پر جانے والی ہے۔ یہی حماقت جہلم سے سابق ن لیگی رکن پنجاب اسمبلی راجہ افضل اور اس کے قومی اسمبلی کے ارکان بیٹوں راجہ اسد اور راجہ صفدر نے پیپلزپارٹی جوائن کر لی ہے۔ شاید پیپلزپارٹی کے ڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھنا بھی کوئی نیا سیاسی کلچر ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے الیکشن 2008ءمیں قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن اپنی خالی کی جانے والی نشست کو ضمنی الیکشن میں اپنے بیٹے خرم منظور وٹو جیتنے کے لئے انہیں پیپلزپارٹی جوائن کرنا پڑی تھی۔سیاست میں وراثت اب صرف بھٹو خاندان، شریف خاندان، چوہدری برادران کے خاندان، عبدالغفار باچہ خان اور عبدالولی خان مرحوم کے خاندان، سابق صدر فاروق لغاری کے خاندان (کہ ان کے بیٹے جمال لغاری سینیٹر اور دوسرے بیٹے اویس لغاری رکن قومی اسمبلی ہیں) تک محدود نہیں رہی۔ سیاسی وراثت کا کلچر تو اب حمزہ ایم اے جیسے صاف ستھرے سیاست دانوں کے خاندانوں کا بھی رخ کر رہا ہے کہ اب وہ خود ایوان بالا کے رکن ہیں اور ان کا بیٹا اسامہ حمزہ ن لیگ سے قومی اسمبلی کے ٹکٹ کا امیدوار ہے، کیوں نہ ہو، مغربی پاکستان اسمبلی میں حمزہ ایم اے کے ساتھی اور اس صوبائی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر خواجہ محمد آصف کو منتقل ہو گئی تھی۔ حمزہ ایم اے برسوں خواجہ صفدر کے ڈپٹی رہے اور اب ان کے سیاسی وارث کو بھی تو ابھر کر سامنے آنے کی ضرورت تھی۔ (ختم شد)