سپریم کورٹ کا فیصلہ اور ”شیخ الاسلام“

کالم نگار  |  سید روح الامین

 ”شیخ الاسلام“ کی الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست تین دن مسلسل سماعت کے بعد عدالتِ عظمٰی نے جب یہ کہہ کر خارج کر دی کہ ”طاہر القادری حق دعویٰ اور نیک نیتی ثابت کرنے میں ناکام رہے عدالت کو نیچا دکھانے کی کوشش کی اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی نہیں ہوئی اور یہ کہ 342 ارکان قومی اسمبلی ہیں پارلیمنٹ سے باہر بھی جماعتیں ہیں آپ کے سوا کسی کو بھی الیکشن کمیشن سے اختلاف نہیں “ تو ”شیخ الاسلام“ آپے سے باہر ہوگئے اور سپریم کورٹ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ آئین کی پاسداری کے دعویدار ”شیخ الاسلام“ جو کہ ”اقتدار مارچ“ میں مسلسل پانچ روز تک اسلام آباد میں اپنے ”حواریوں“ اور ناظرین کو قانون کے احترام کی ”تبلیغ“ کرتے رہے اور سپریم کورٹ زندہ باد کے نعرے لگواتے رہے اور اسی دوران حسب روایت جب سپریم کورٹ نے رینٹل پاور کیس کے 16 نامزد ملزمان بشمول وزیراعظم راجہ اشرف کو گرفتار کرنے کے احکامات صادر کئے تو ”شیخ الاسلام “ نے یہ کہہ کر سپریم کورٹ زندہ باد کے نعرے لگوائے کہ اب ہمارا آدھا کام ہو چکا ہے باقی کل ہونے والا ہے۔ اس طرح وزیراعظم کی گرفتاری کے احکامات کا ”کریڈٹ“ بھی ”شیخ الاسلام “ نے لینا چاہا اور اس کے علاوہ الیکشن کمشن کے خلاف عدالت میں جانے سے قبل وہ کئی بار اپنے اس بیان کو دہرا چکے تھے کہ ”عدالت جو بھی فیصلہ دے گی انہیں من وعن قبول ہوگا اور عدالتی احکامات کو نہ ماننے کے کلچر کو وہ ختم کرنا چاہتے ہیں“ مگر جب فیصلہ ”شیخ الاسلام“ کی توقعات کے خلاف آیا تو ”موصوف“ اس قدر سیخ پا ہوگئے کہ سپریم کورٹ کو یہ کہنا پڑا کہ ہم نرمی برت رہے ہیں ورنہ توہین عدالت بھی لگ سکتی ہے۔“ بہرحال ”سیاست نہیں ، ریاست بچاو¿“ کے نعرے کے ساتھ پاکستان میں کینیڈا کا شہری عدالتِ عظمٰی میں اپنی رہی سہی ”ساکھ“ بھی نہ بچا پایا۔ اگر 23 دسمبر سے اب تک جناب ”شیخ الاسلام“ کے اس سارے ”ڈرامے“ کا بنظرغائرجائزہ لیا جائے تو ”شیخ الاسلام“ کے ایک نہیں کئیا قوال وافعال میں تضاد پر مبنی بیانات سامنے آتے ہیں۔ ماضی کے ”خوابوں“ کے علاوہ موجودہ اس ”ڈرامے“ میں جناب نے جس طرح ”اسلامی اقدار“ کی توہین کی وہ کسی بھی عالم دین کے شایان شان نہیں ہے۔ ”شیخ الاسلام“ کو یہ پورا یقین تھا کہ جب ان کا ”اقتدار مارچ“ لاہور سے اسلام آباد پہنچے گا تو حکومت انہیں فوراً نگران وزیراعظم یا اس سے بھی کوئی بڑا عہدہ سونپ دے گی مگر اسلام آباد کی سڑکوں پر شدید سردی اور بارش میں پانچ دن عورتوں اور بچوں سمیت چند ہزاروں افراد کو قسمیں دے دے کر ان کی ماو¿ں کے دودھ کے واسطے دے دے کر انہیں روکے رکھا گیا مگر پھر بھی ہر طرف ”خاموشی“ چھائی رہتی تو ”شیخ الاسلام “ کو اپنی ”طاقت“ کا اندازہ اس وقت ہوگیا تھا بہرحال حسینیت کے پیروکار کے دعویدار ”شیخ الاسلام“ کے پاس ان کے بقول ”یذیذیت“ کے چند نمائندے مذاکرات کے لئے آئے تو ”موصوف“ کی جان میں جان آئی اور کچھ ہی دیر میں ”دونوں“ ایک ہوگئے اور یوں یہ ”تماشا“ اختتام پذیر ہوگیا تھا۔ اس میں کوئی دورائے نہیں ہیں کہ ”شیخ الاسلام“ کو حکومتی آشیر باد حاصل ہے۔ موصوف جب کینیڈا سے تشریف لائے تو فرمایا کہ ایم کیو ایم اور وہ دو جسم اور ایک روح کی مانند ہیں۔ ایم کیو ایم بھی حکومتی پارٹی ہے چودھری برادران بھی ”شیخ الاسلام“ کے معتقد ہیں وہ بھی لاہور جا کر ”موصوف“ کو منانے کے ”ڈرامے“ کرتے رہے اور چودھری پرویز الٰہی صاحب بھی ڈپٹی وزیراعظم ہیں۔ ”مولینا“ کی ان ساری ” کارگزاریوں“ کے خلاف صدر، وزیراعظم کا کوئی بھی بیان سامنے نہیں آیا اور جب سپریم کورٹ نے مولینا کے خلاف فیصلہ دیا تو پی پی پی کے اہم رہنما جناب اعتزاز احسن صاحب نے کھل کر اپنے بیان میں ”شیخ الاسلام“ کی حمایت کی۔ ہماری نظر میں تو ”شیخ الاسلام“ عدالتِ عظمٰی کی تضحیک و توہین کے سلسلے میں حکومتی ارکان سے بھی سبقت لے گئے ہیں ۔ ”شیخ الاسلام“ کے لئے ہمارا عاجزانہ مشورہ ہے کہ موصوف چونکہ کینیڈا کے شہری ہیں لہٰذا پاکستان میں تو ان کا ”تبلیغ اسلام“ والا ”ڈراما“ پوری آب و تاب کے ساتھ منکشف ہو چکا ہے یہاں ان کے دام میں اب کوئی آنے والا نہیں ہے۔ موصوف اپنی پوری توجہ اب اگر اپنے وطن کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک پر مرکوز رکھیں اور اپنے ”خواب“ اور ”کرامات“ کو وہاں استعمال میں لائیں تو یقیناً انہیں بھی زیادہ ”فائدہ“ ہو گا۔ پاکستانی عوام پہلے ہی سیاستدانوں کے ہاتھوں ستم رسیدہ ہیں۔ اب وہ کافی حد تک باشعور ہو چکے ہیں ، اچھے بُرے کی پہچان کر سکتے ہیں۔ حالیہ الیکشن میں انشاءاللہ پاکستانی عوام ضرور دانشمندی کا مظاہرہ کریں گے لہٰذا اب وہ کسی بھی غیر ملکی کی ”شعبدہ بازیوں“ کے مزید متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہاں اگر ”شیخ الاسلام“ پاکستان کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے مغربی ممالک سے کہہ کر ڈرون حملے بند کرائیں۔ کشمیری مسلمانوں کو انصاف دلا کر انہیں بھارت کے قبضے سے آزاد کرا دیں۔ آخر میں جناب ”شیخ الاسلام“ سے التماس ہے کہ پہلے تو وہ عمر بھر صرف زبانی حد تک ” تبلیغ الاسلام“ کی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں اب وہ خود بھی عمل کرنا سیکھیں کیونکہ اللہ کریم فرماتا ہے“۔ترجمہ: ”جو تم کرتے نہیں ہو وہ کہتے کیوں ہو“
ا