زرداری بدستور صدر، شہباز وزیراعظم

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان

کچھ حلقوں کی خواہش اور کوشش کے باوجود انتخابات کا التوا کا مشکل نظر آتا ہے۔ موجودہ اسمبلیوں کی مدت میں اضافے کا امکان ہے نہ دو تین سال کے عبوری سیٹ اپ کا اندیشہ۔ فوج کے اقتدار میں آنے کا تو پہلے بھی خدشہ نہیں تھا نہ جنرل کیانی کے آرمی چیف ہوتے ہوئے آئندہ کوئی خطرہ ہے۔ وہ اسی سال گھر کو سدھار جائیں گے۔ اگلی جمہوریت جنرل راشد محمود کے رحم و کرم اور ٹمپرامنٹ پر ہو گی۔ جنرل کیانی نے بہت سے دل دہلا اور دل دکھا دینے والے معاملات پر بھی” ٹھنڈ “رکھی۔ میمو سکینڈل سے زیادہ فوج کی کیا سبکی ہو سکتی ہے۔ ملک کرپشن کی دلدل میں ایسا دھنسا کہ ملکی معیشت بھنور میں پھنس گئی اس سے بحرانوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جس نے ملک و عوام کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا۔ قومی وقار اور خود مختاری مشرف دور کی طرح ”گروی“ رکھی جاتی رہی۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جارحیت سے گذشتہ چند ہفتوں میں 4 فوجیوں کو شہید کر دیا گیا۔ راستہ بھٹکے ایک جوان کو شناخت کرکے قتل کیا گیا۔ بھارت کے اس غیر انسانی رویے کے باوجود بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کے ہمارے حکمرانوں کے عزم میں کمی نہیں آئی۔ حفیظ شیخ کی جگہ لینے والے سلیم مانڈوی والا اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی پھرتی دکھا رہے ہیں۔ حکومتی گورو کئی بار کہہ چکے ہیں کہ بھارت کو پسندیدہ ترین قوم کا درجہ دینے پر فوج کو اعتراض نہیں۔ فوج کی جانب سے ایسے بیانات کی کبھی وضاحت نہیں کی گئی۔ جب آپ ایک ملک کو پسندیدہ ترین قرار دیتے ہیں تو اس کے ساتھ پھر کیسا تنازع اور کیسی کشیدگی !۔ اگر فوج بھی دشمن کو پسندیدہ ترین سمجھنے پر تیار ہے تو پھر خطے میں آپ کا کوئی اتنا بڑا دشمن نہیں ہے جس کے لئے اتنی بڑی فوج کی ضرورت ہو۔ بری، بحری اور فضائی افواج کی تطہیر کرتے ہوئے صرف حکمرانوں کی خدمت گزاری کے لئے عملہ رکھ لیا جائے۔ موجودہ بھاری بھر کم دفاعی بجٹ پسماندگی، خواندگی دور کرنے کے کام آئے گا۔
خدا خدا کرکے حکمران پارٹیوں نے اپنے اقتدار کی مدت پوری کر لی۔ اگر ایک سال کے لئے ایسے حالات کا جواز پیش کر کے آئین میں دی گئی رعایت کو بروئے کار لاتے ہوئے اسمبلیوں کی مدت ایک سال بڑھا دی جاتی ہے تو کچھ پارٹیاں اس کی تحسین کریں گی جو تحسین نہیں کرتیں اعتراض ان کو بھی نہیں ہو گا۔ ایک پارٹی تو لگتا ہے بڑی منصوبہ بندی سے اسمبلیوں کی مدت بڑھانے کا جواز پیدا کرنے کے لئے حالات کی سازگاری کی کارسازی کر رہی ہے۔ کراچی اور کوئٹہ میں قیامت برپا ہے ایسے میں وزیر داخلہ بیرونی دوروں میں مصروف ہیں لیکن الیکشن کے التوا کی کسی کی امید برآنے کی توقع نہیں ہے۔ انتخابات کے التوا کی راہ میں چیفس رکاوٹ ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر، چیف جسٹس اور چیف آف آرمی سٹاف ہر صورت بروقت انتخابات کے لئے کمٹڈ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انتخابات ہوں گے، ضرور ہوں گے اور بروقت ہوں گے۔ ایران میں تو جنگ کے دوران بھی الیکشن ہو گئے تھے۔ الیکشن کے التوا کے حامی جس کو حالتِ جنگ کہتے ہیں اس کا پورے ملک پر اطلاق نہیں ہو سکتا۔ ویسے بھی ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں تو ہے حالت جنگ میں نہیں۔ جن لوگوں نے حالت جنگ دیکھی ہے ان سے پوچھا جا سکتا ہے، بہرحال انتخابات ہوں گے۔ آج تک کی صورتحال کے مطابق انیس بیس کے فرق کے ساتھ وہی پارٹیاں اقتدار میں آئیں گی جو آج ہیں۔ آصف علی زرداری اگلے پانچ سال کے لئے بھی صدر ہوں گے۔ جی ہاں! ایسا ہی ہو گا۔ ان کو امریکہ صدر بنوائے گا نہ فوج۔ ان کو مفاہمتی پالیسی اسی عہدے پر متمکن رکھے گی جس کے خالق وہ خود ہیں۔ مسلم لیگ ق کا پتہ کٹے گا تو نہیں البتہ پہلے والی سج دھج قائم نہیں رہ سکے گی۔ یہ گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں ایک چوتھائی نشستیں بھی لے جائے تو بڑی بات ہو گی۔ اس خلا کو تحریک انصاف پورا کرے گی۔ تحریک عمران کو تحریک قادری کی حمایت حاصل ہو جائے اور ق لیگ بھی ان سے اکٹھ کر لے تو بھی یہ اتحاد زیادہ سے زیادہ اتنی ہی سیٹیں حاصل کر سکے گا جتنی ق لیگ نے 2008ءکے انتخابات میں حاصل کی تھیں۔ مرکز کی مایوس کن کارکردگی کے باعث انتخابی نتائج میں ن لیگ کو معمولی برتری حاصل ہو سکتی ہے۔ ہیوی مینڈیٹ کی امید نہیں، مرکز میں حکومت سازی کیلئے ن لیگ کو پیپلز پارٹی کے تعاون کی محتاجی ہوگی۔ یہ تعاون زرداری صاحب اپنی مفاہمتی حکمت عملی کے تحت فراہم کریں گے۔ ن لیگ پیپلز پارٹی کو نظر انداز کرکے دیگر پارٹیوں کی مدد سے حکومت بناتی ہے تو پی پی حالات کو نوے کی دہائی کی سطح پر لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی، اُن حالات میں ن لیگ اور پی پی کو دو دو بار اقتدار ملا اور چاروں ان کی مدت ادھوری رہی۔ الیکشن کے بعد پی پی ن لیگ اتحاد یا دونوںکا مخلوط حکومت بنانا اچنبھے کی بات نہیں،2008 کے بعد بھی تو مرکز اور پنجاب میں دونوں اقتدار میں شراکت دار تھیں۔شہباز شریف ہفتے میں تین بار زر بابا اور چالیس چوروں کے ورد کی تسبیح پڑھتے ہیں اس سے لگتا ہے کہ وہ کرپشن کے بادشاہوں سے ہاتھ نہیں ملائیں گے۔ یہ سب سیاسی شعبدہ بازی اور بازی گری ہے۔میاں شہبازشریف سے کوئی پوچھے کہ جب ن لیگ نے زرداری سے مفاہمت کی،مرکز میں وزارتیں لیں اور پنجاب میں دیں تو اس وقت کیا زرداری صاحب کی شہرت ولی اللہ کی تھی؟ زرداری صاحب کی یہی شہرت اُس وقت بھی تھی ۔جو اُس وقت تھی وہی شہرت آج بھی ہے۔ اگر اُس وقت اتحاد ہوگیا تو اب بھی ہوجائے گا اور یہ اتحاد شاید مروجہ جمہوریت کے مفاد میںہی ہوگا عوام کے مفاد میں ہو نہ ہو۔ مسلم لیگ ن حکومت میں آتی ہے تو وزیراعظم نواز شریف ہوں گے یا شہباز شریف،اس حوالے سے ابھی سے چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔ میاں نواز شریف کی ان باتوں سے لوگوں میں مایوسی پھیل رہی ہے کہ نوے دن میں مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ مسلم لیگ ن کا ووٹ بینک میاں نواز شریف کے دم قدم سے ہی اپنی جگہ قائم ہے۔ ووٹر ووٹ نوازشریف کو دیناچاہتا ہے لیکن حکمرانی شہباز شریف کی پسند کرتا ہے۔پیپلز پارٹی کے بگاڑے ہوئے معاملات اور اجاڑے ہوئے حالات سدھارنے کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ہر کام کی شروعات بنیادوں سے ہوتی ہے شہباز شریف اوپر سے کام شروع کرکے مزید اوپر لے جاتے ہیں۔ یہ کام بے بنیاد ہوںیا کمزور بنیادوں والے البتہ آپ کے سامنے منصوبے مکمل صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ بجلی اور گیس کے بحرانوں پر قابو پانے،ریلوے پی آئی اے،سٹیل مل اور دیگر اجڑے ہوئے اداروں کو آباد کرنے کیلئے شہباز شریف جیسا شخص ہی کار آمد ہو سکتا ہے۔میاں نواز شریف دل چھوٹا نہ کریں پارٹی سربراہ کی حیثیت سے تمام معاملات پر آج کی طرح ان کا ہی کنٹرول ہوگا۔ اگر پارٹی حیرت انگیز کامیابی حاصل کرتی ہے تو بڑے میاں صاحب صدر بھی تو بن سکتے ہیں۔