حکومتی اتحاد کو دھچکا

کالم نگار  |  خواجہ عبدالحکیم عامر

بھائی لوگوں کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی کے بعد عوامی و سیاسی حلقوں میں کسی خاص حیرت کا اظہار نہیں کیا گیا۔ غیر فطری اتحادوں نے ایک نہ ایک دن ٹوٹنا ہی ہوتا ہے۔ نظریہ ضرورت کے تحت بننے والے سیاسی وفد میں اتحادوں کو جلد یا بدیر ٹوٹ ہی جانا ہوتا ہے کیونکہ ان کی بنیاد جذبہ ” مصلحت “کے تحت رکھی گئی ہوئی ہوتی ہے۔ MQM پہلی بار حکومتی اتحاد سے باہر نہیں آئی۔ جب جب متحدہ کے دوستوں کو خوب سے خوب تر کی ضرورت محسوس ہوئی حکومتی اتحاد سے باہر آتے رہے ہیں اور ضرورت پوری ہونے کے بعد کئی بار حکومتی اتحاد کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ ماضی قریب تک کا کوئی دور حکومت ایسا نظر نہیں آتا۔ متحدہ قومی موومنٹ اقتدار کا حصہ نہ رہی ہو جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ مچھلی کو پانی سے باہر نکال لیا جائے تو اس کا دم گھٹنے لگتا ہے ۔ ایم کیو ایم بظاہر تو حکومتی اتحاد/ اقتدار سے باہر آگئی ہے مگر یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہی جا سکتی ہے کہ بھائی لوگ جب تک اقتدار سے باہر رہیں گے ان کی سانسیں ٹوٹتی رہیں گی اور وہ ایسی ایسی حرکتیں کریں گے‘ بیانات دیں گے جن سے ان کی کیفیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اقتدار کے بغیر بھائی لوگوں کی سیاسی و دیگر سرگرمیاں نئے نئے رخ اختیار کرتی ہوئی نظر آئیں گی۔
MQM نہایت باریک بینی سے حالات کا جائزہ لینے والی سیاسی جماعت ہے۔ سچ کہا گیا ہے کہ باریک بین لوگ اکثر گھاٹے کا سودا نہیں کرتے اور ہوا کے رخوں سے بخوبی آشنا ہوتے ہیں۔ پاکستان میں انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔ بھائی لوگوں کو اس بات کا ادراک ہے کہ پی پی پی کے پاس عوام کو دینے کے لئے کچھ بھی تو نہیں سوائے کرپشن کی داستانوں کے‘ متحدہ جانتی ہے کہ پی پی پی کو عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے چونکہ پی پی پی کے سب کئے دھرے میں متحدہ بھی برابر کی شریک رہی ہے اس لئے وہ بھی عوامی غضب سے بچ نہیں سکتی۔ بھائی لوگوں کے باریک دماغوں نے عافیت اسی میں جانی کہ پی پی پی کو خیرباد کہہ دیا جائے تاکہ عوام کے تندوتیز سوالات سے بچا جا سکے۔ اس سے پہلے بھائی لوگ جب جب بھی حکومتی اتحاد سے باہر آتے رہے رحمن ملک اگلی ہی فلائٹ پر لندن یا نائن زیرو پہنچتے رہے مگر لگتا ہے کہ اس بار پی پی پی خود بھی ایک فاصلہ رکھنا چاہ رہی ہے کیونکہ پی پی پی خاص کر صدر زرداری خود بھی نہیں چاہتے کہ ایم کیو ایم کے دورانِ اقتدار کارناموں میں پی پی پی کا بھی نام آئے۔ لیکن اس سب کے باوجود بعض حلقے آج بھی امید سے ہیں کہ بھائی لوگ ایک بار پھر صدر زرداری اور رحمن ملک کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر حکومتی اتحاد میں واپس آجائیں گے لیکن امکان غالب ہے کہ بھائی لوگ گھونسلہ تبدیل کرنے کا پختہ ارادہ کر چکے ہیں۔
سندھ پاکستان پیپلز پارٹی کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا رہا ہے لیکن حالات و واقعات اس سچ کی چغلی کھا رہے ہیں کہ پی پی پی کے اس تاریخی قلعے میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ کچھ دراڑیں تو نواز شریف ڈالنے میں کسی حد تک کامیاب ہو چکے۔ ممتاز بھٹو و دیگر قوم پرستوں سے عہدو پیماں دراڑوں کے زمرے میں ہی تو آتے ہیں رہی سہی کسر پیر پگاڑہ کی فنگشل مسلم لیگ پوری کر رہی ہے۔ اگر عام انتخابات میں سندھی قوم پرست فنگشنل لیگ اور نواز شریف پی پی پی کے خلاف محاذ بنانے میں کامیاب ہو گئے تو پی پی پی کا سندھ قلعہ لڑکھڑائے بغیر نہیں رہ سکے گا اور اگر بھائی لوگ بھی پی پی پی مخالف اتحاد یا محاذ کا حصہ بن گئے تو پی پی پی کو سندھ میں بھی کافی ٹف ٹائم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نواز شریف پوری طاقت کے ساتھ پی پی پی کے سندھ قلعے کو ڈانوا ڈول کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں انہیں کتنی کامیابی ملتی ہے کچھ کہنا قبل ازوقت ہے کیونکہ یہ بھی تو کہا جا رہا ہے کہ سندھی گڑھی خدا بخش میں پڑی ہوئی مدفون ہستیوں سے بے وفائی نہیں کریں گے خیر یہ تو ایک سوچ ہے البتہ سیاست اور جنگ میں سب کچھ ممکن ہوتا ہے۔
ایک طرف نواز شریف سندھ کا مزاج بدلنا چاہ رہے ہیں دوسری طرف بعض ہوائی طاقتیں پنجاب خاص کر نواز شریف گروپ کے درپے ہیں ان آسیبی فورسز کی ڈور خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں میں ہے یا صدر زرداری کے پاس حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے البتہ ایک بات تو ببانگ دہل کہی جا سکتی ہے کہ مذکورہ ہوائی مخلوق پنجاب میں نواز شریف کو ٹف ٹائم دیگی بلکہ نقصان پہنچائے گی۔
جس طرح سندھ میں قوم پرستوں‘ فنگشنل لیگ‘ ن لیگ کے بننے والے اتحاد کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور ظاہر ہے یہ اتحاد پی پی پی کے خلاف ہو گا اسی طرح پنجاب میں مسلم لیگ ق‘ تحریک انصاف‘ طاہر القادری‘ ڈاکٹر قدیر‘ شیخ رشید اور شاید جماعت اسلامی متحد ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور یہ اتحاد نواز شریف کا راستہ روکنے کے لئے بنایا جائے گا۔ بھائی لوگ کس سیاسی پلڑے میں اپنا وزن رکھیں گے کچھ کہنا قبل ازوقت ہے کیونکہ ایم کیو ایم شاید ایک واحد سیاسی فورس ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی دوستی اور دشمنی دونوں قابل تعریف نہیں۔ یہ تو صدر زرداری کی سیاسی بصیرت کا کمال ہے کہ ایم کیو ایم کو پانچ سال تک خود سے چمٹائے رکھا ورنہ کوئی جماعت یا گروہ ایم کیو ایم کو آسانی کے ساتھ ساتھ نہیں ملائے گا۔ بالآخر ایم کیو ایم کو اقتدار کی طرف جانے والی جماعت کے ساتھ ہی جانا ہے اور جائے گی۔ ق لیگ اے این پی اور پی پی پی کا اتحاد برقرار ہے اور الیکشن تک رہے گا۔ اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہیں اللہ پاکستان کی خیر کرے پاکستان زندہ باد پاکستان کھپے۔