دوقومی نظریہ اور قیام پاکستان

دوقومی نظریہ اور قیام پاکستان

پاکستان کا قیام تاریخ انسانی کا ایک منفرد اورتابناک تجربہ تھا ۔ رنگ ونسل ، جغرافیائی حد بندیاں ، معاشی اورسیاسی مفادات کی بنیادپر قائم قومیت کے تمام رائج الوقت تصورات سے بغاوت کرکے ملت اسلامیہ ہندنے صر ف لاالہ الااللہ کی بنیاد پر ایک آزاداورخود مختار مملکت کے حصول کے لیے جدوجہد کی اورحق تعالی کی عنایت ومہربانی سے یہ جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوئی ۔ حق تو یہ تھا کہ اس بنیاد پر قائم ہونے والی مملکت کی تعمیر ان ہی تصورات کی روشنی میں کی جاتی تاکہ آنے والی نسلیں اس حقیقت سے باخبر رہتیں کہ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزادی اسلامی مملکت کے قیام کی ضرورت کیوں محسوس کی ؟ لیکن المیہ یہ ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک حکومت کی سطح پر نظریہ پاکستان کی اشاعت اوراسے عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی مخلصانہ کوشش نہیں کی گئی بلکہ اب تو بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پاکستان کی نظریاتی اساس کا ذکر بھی جرم قرار دیا جارہا ہے ، حالانکہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی نفی درحقیقت جغرافیائی سرحدوں کی نفی سے بھی سنگین ترجرم ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نظریہ پاکستان کوقومی سطح پر اجاگر کیا جائے تاکہ پاکستان کی نظریاتی اورجغرافیائی سرحدوں کا تحفظ کما حقہ ہو سکے اورعوام الناس کو آزادی کی حقیقی لذتوں سے بہر ہ ورہونے کا موقع مل سکے ۔
قائداعظمؒ کا یہ ارشاد نظریہ پاکستان کی مکمل ترین وضاحت ہے ۔ کلمہ توحیدکی بنیاد پر قومیت کا تصوراسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ قومیت کے اسی عقیدہ کو دوسرے لفظوں میں دوقومی نظریہ کا نام دیا گیا ہے۔ تحریک پاکستان میںجس چیز نے مسلمانان ہند کو ایک نیاولولہ قربانی کا جذبہ اورجدوجہدکا داعیہ دیا تھا وہ محض ہندوستان کی حدبندی کا تصورنہ تھا بلکہ یہی دوقومی نظریہ تھا اور اسی قومی تصوراورنظریہ پاکستان کی اساس پر پاکستان کا مطلب کیا؟ ”لا الہ الا اللہ“ کا نعرہ بلندہ ہوا تھا۔ ”پاکستان اسی روز وجود میں آگیا تھا۔ جس روز ہندوستان میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب یہاں مسلمانوں کی حکومت ابھی قائم نہیں ہوئی تھی ۔مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ طیبہ (توحید )پر ہے وطن اورنسل پر نہیں۔ جب ہندوستان کا پہلا فرد مسلمان ہوا تووہ پہلی قوم کا فرد نہ رہا بلکہ ایک جدا قوم کا فرد بن گیا اور ہندوستان میں ایک نئی قوم وجود میں آگئی۔“
(مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں قائداعظم کا خطاب۔ 8مارچ 1944ء)
اس امت نے مظالم برداشت کیے ، مشقتیں اٹھائیں ، مصائب جھیلے لیکن اسلام کے علاوہ کسی اورمقصد کی خاطر دل وجان سے قربانی کے لیے کبھی تیار نہ ہوئی۔ اسلام سے محبت اورعقیدت کا یہی نظریہ تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کا سبب بنا اوراورآج بھی قوم اسی نظریہ سے سرشار ہے۔ آئین سازی کا مرحلہ ہو یا حکومت سازی کا، ہر آن قوم نے اسلام کو بنیادی اہمیت دی قرارداد مقاصد جو 12 مارچ 1949ءکو منظوری کی گئی جسے دستور پاکستان کی بنیاد قرار دیا گیا تھا اسی نظریاتی عوامی تحریک کا نتیجہ تھا لیکن جب ارباب اختیار اس قرارداد سے فرار کی راہیں نکالنے لگے۔ تو قوم کے تمام مکتبہ ہائے فکر کے علماءنے بائیس نکات کی صورت میں حکومت کو دستور سازی کے لیے اپنے مطالبات پیش کئے۔ اسی طرح 1973ءمیں دستور سازی کے موقع پر قوم کے رہنماﺅں نے اسے اسلامی دستور بنانے میں اہم کر دار اداکیا ۔
اسلام اپنے ماننے والوں سے تقاضا کرتا ہے کہ اگر کسی ملک میں غلبہ اسلام کی کوششوں کو بارآور ہو تا ہو انہ دیکھ رہے ہو ں اوروہا ں مسلمان مسلسل ظلم وجبر سے ستائے جارہے ہو تو وہ کسی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں آزاد ی کے ساتھ اللہ کا قانون نافد کر سکیں اور وہ ظلم و جبر سے بھی نجات پاجائیں ہجرت کی سب سے پہلی بہترین مثال خود نبی کریم ﷺ نے قائم کی۔ مکہ میں دس سال مسلسل دعوت وتبلیغ کے باوجود وہاں اللہ کی حاکمیت قائم کرنے کی کوششیں بارآور نہ ہو رہی تھی بلکہ مسلمان جبروظلم سے ستائے جارہے تھے، چنانچہ آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ (یثرب) تشریف لے گئے، وہاں ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست قائم ہو گئی جہاں مسلمان نہ صرف ظلم وجبر سے بچ گئے بلکہ اپنے مخصوص نظریہ کے مطابق آزادانہ زندگی گزارنے لگے۔ یہ قرآن کے اس حکم کی بجاآور تھی جس میں کہا گیا تھاکہ! ”جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کررہے تھے، ان کی روحیںجب فرشتوں نے قبضہ کیںتو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزورومجبور تھے۔ فرشتوں نے کہا ، خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے“۔ (النساء97)۔ یعنی قرآن حکیم باطل اورکا فر انہ نظام کے تحت بلا جواز زندگی گزارنے کو بھی ظلم سے تعبیر کرتا ہے۔ چنانچہ قیام پاکستان کا اہم ترین مقصد ملت اسلامیہ کے لیے ایک ایسا آزاد وطن حاصل کرنا تھا جہا ں مسلمان کفر کی غلامی سے آزاد رہ کر اپنے مخصوص نظریات و افکار کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ اب جبکہ انگریز ہندوستان کو آزادی دے کر واپس انگلستان جارہا تھا تو مسلمان یہ نہیں چاہتے تھے کہ اب وہ انگریزوںکی جگہ ہندوں کی غلامی میں چلے جائیں، اس لیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ انگریز جانے سے پہلے مسلم، اکثریت کے علاقے مسلمانوں کے سپر کردیں تاکہ وہ بھی وہاں اپنے ایمان ویقین کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کر سکیں۔