اقبال کا یوم پیدائش اور پانامہ کیس

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک
اقبال کا یوم پیدائش اور پانامہ کیس

علامہ اقبال نے ہندوستان کے عصری نظام کا بڑا گہرا مطالعہ اور مشاہدہ کیا تھا.... اور اس مشاہدے کے نتیجے میں انہیں اس نظام میں بہت ساری خامیاں دکھائی دی تھیں.... علامہ اقبال نے دیکھا تھا کہ مغرب جمہوریت کی آڑ میں کمزور اور چھوٹی قوموں پر ظلم ڈھا رہا ہے اور جمہوریت کی شکل میں استبداد کی شکل موجود رہتی ہے.... عصری نظام کے گہرے مطالعہ اور مشاہدے کے علاوہ علامہ اقبال کو بعض ذاتی تجربات بھی ہوئے ان میں ایک تجربہ اس وقت کا تھا جب علامہ اقبال مجلس قانون ساز کے ممبر منتخب ہوئے تھے.... انہوں نے دیکھا تھا کہ صوبے پھر سے ان پڑھ اور بنیئے جمع کر لیے جاتے ہیں.... جو ہال میں بیٹھ کر اونگھتے رہتے ہیں اور جب رائے دینے کا وقت آتا ہے وہ وہ ہاتھ اٹھا کر رائے دے دیتے ہیں.... علامہ اقبال نے یہ دیکھ کریوں تصور کیا تھا کہ جیسے کسی جمعراتی یا کلو میاں سے زیادہ کی حیثیت نہیں ہے اس کے بعد انہوں نے عمر بھر کسی انتخاب میں حصہ نہیں لیا.... ہمارے ہاں آج بھی ووٹ اسی انداز میں دئیے جاتے ہیں مگر کسی جمعراتی یا کلو میاں کو اپنی بے حشیتی کا کبھی احساس نہیں ہوتا.... کیونکہ وہ ”حیثیت“ بنانے کو دوسرے معنوں میں استعمال کررہے ہوتے ہیں .... علامہ اقبال نے جمہوری نظام میں ملوکیت کی روح دیکھ لی تھی.... آج بھی جب جمہوریت اپنی اصل روح سے نکل کر ”جمہوری آمریت“ کی شکل اختیار کرنے لگتی ہے جیسا کہ اس حکومت کے اس دور میں اسی احساس کے تحت میں نے اپنے کالموں میں یہ لفظ متعدد بار لکھا تو ضروری ہو جاتا ہے کہ جمہوری نظام میں سے ملوکیت کو خارج کیا جائے.... ورنہ ترقی کے ثمرات غریب عوام تک نہیں پہنچ سکتے اور ایک ٹولہ جمعراتیوں اور کلومیاں کا مل جل کر عیش کرتے رہتے ہیں ....بقول مرتضے برلاس
رسوائیوں کو اپنی شہرت سمجھنے والے
کوئی بھی توبہ! توبہ! مشہور ہو تو یوں ہو
اور ہمارے لیڈر اپنی رسوائیوں کو شہرت کی وجہ سمجھنے لگتے ہیں ورنہ پانامہ جیسے کیس کبھی سامنے نہ آئیں آج علامہ اقبال کے افکار کی روشنی میں عصر حاضر کے کچھ اور معاملات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ غازی علم الدین کے مقدمہ کی پیروی کے لیے مسلمانوں کی نظریں سر تیج بہادر سپرد پر تھیں اور یہ انتخاب سوالیہ نشان تھا کہ اس مقدمہ کی پیروی میں ایک ہندو قانون دان کا انتخاب کیوں گیا اس سلسلے میں بیرسٹر اقبال نے کہا تھا ”تمہیں شاید علم نہیں کہ سر تیج بہادر عربی کے سکالر ہیں۔ تمہاری قوم میں کتنے وکلاءہیں جو اس علم اور اعزاز سے آراستہ ہیں؟ علامہ اقبال کا اس بات کے اندر یہ اشارہ موجود تھا کہ مقام رسالت کو سمجھنے کے لیے اسلامی تاریخ اور عربی زبان وادب سے واقف ہونا ضروری ہے اور غازی علم الدین شہید کے مقدمے کی نوعیت ایسی تھی کہ اس میں وہی وکیل اور قانون دان اپنی قابلیت کے جوہر دکھا سکتا تھا جو اس حقیقت سے واقف ہو کہ شان رسالت میں گستاخی کرنے سے خالص انسانی نقطہ نگاہ کو کیا نقصانات درپیش آسکتے ہیں .... غازی علم الدین شہید کی پھانسی سے ایک دن قبل کچھ طلباءمشاورت کے لیے علامہ اقبال کے پاس آئے کہ یہ موت شہادت ہے یا نہیں .... علامہ اقبال نے اس کا مدلل جواب دیا.... آج کل طالب علموں کو کوئی بھی فیصلہ سنتے وقت مشاورت یا کسی صاحب علم سے رجوع کرنے کی عادت نہیں اسی طرح سے بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں زباں علم اور ادب سے آراستہ شخصیات کی بھی کمی ہوتی جارہی ہے ورنہ علامہ اقبال جیسی شخصیات ہندو قانون دان پر بھی اعتماد کرسکتے تھے.... اب ہندو قوم میں سے کلبھوشن جیسے جاسوس ہی برآمد ہونے کی توقع ہے .... علامہ اقبال نے 1924ءمیں ”اجتہاد فی الاسلام“ کے موضوع پر انگریزی میں خطبہ دیا اسی خطبے پر نظرثانی اور ترمیم کے لیے دانشوروں‘ علماءاور قانون دانوں کے سامنے پیش کیا گیا.... اس خطبے میں اسلامی قانون ومعاشرت کو صدیوں سے بدلتے ہوئے حالات اور زندگی کے نئے تقاضات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے قانون اجتہاد کی اہمیت اور افادیت کو واضع کیا گیا تھا.... بیرسٹر اقبال چاہتے تھے کہ اسلامی تعلیمات کا مطالعہ غلامانہ نہیں بلکہ ناقدانہ انداز میں کیاجائے۔ اس زمانے میں بھی علماءنے قدامت پسندی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے علامہ اقبال کو کافر تک کہنا شروع کر دیا تھا۔ آج علامہ اقبال کی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے اس قدامت پسندی سے نجات حاصل کرنا چاہئے جس میں ایک طالب علم کو یونیورسٹی میں قتل کر دیا جاتا ہے۔ ایک تازہ ترین سروے کے مطابق یہ کہا جا رہا ہے کہ کالجوں‘ یونیورسٹیوں میں شدت پسندانہ سوچ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ علامہ اقبال کی فکر اور قائد اعظم کی کوششوں سے بننے والے اس ملک میں نوجوانوں کی بڑی اہمیت ہے۔ علامہ اقبال نے ان کے بارے میں کہا تھا
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
آج ہمارے نوجوان مشاورت اور مشورے پر یقین نہیں رکھتے اور خود کو علم کا سمندر سمجھنے لگے ہیں جس کے نتیجے میں غلط فیصلوں کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔ علامہ اقبال کا ایک دلچسپ واقعہ ظفر علی راجا کی کتاب ”قانون دان اقبال“ میں درج ہے کہ ایک روز بیرسٹر شہاب الدین اپنے پورے وکالتی لباس یعنی سیاہ پتلون ‘ سیاہ کوٹ اور سیاہ ٹائی لگائے ہوئے آئے۔ شہاب الدین سیاہ فام رنگت کے تھے۔ علامہ اقبال نے انہیں دیکھا تو کہنے لگے۔ سر شہاب الدین ....آپ ہائیکورٹ میں ننگے ہی تشریف لے آئے ہیں۔ واپس جائیے اور کچھ زیب تن فرما کر آئیے۔ آج سپریم کورٹ پانامہ کیس کا فیصلہ بھی آ گیا ہے اور کچھ ہوا ہو یا نہ ہو مگر یہ بات ضرور ہوئی ہے کہ کچھ لوگوں کو ہمیں یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ کرپشن کا لبادہ آئندہ چل کر ایسا لبادہ بن گیا ہے کہ لوگ اب خوش لباسیوں کو بھی ننگا ہی سمجھتے رہیں گے۔پانامہ کے اس مقدمے کا جس کے فیصلے کا بہت کھٹن انتظار کیا گیا۔ اس کے آگے چل کر کیا اثرات ہوتے ہیں۔ اس کا فیصلہ اب وقت ہی کرے گا! ....اپنا خیال رکھیئے گا۔