علامہ محمد اقبالؒ بحیثیت ایک عہدساز شخصیت

علامہ محمد اقبالؒ بحیثیت ایک عہدساز شخصیت

رب کائنات نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے اور یوں تو ہر انسان اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے مگر کچھ انسان ایسے ہوتے ہیں جو اپنی ذات میں انجمن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں سے تاریخ کا رُخ موڑ دیتے ہیں اور ان کی قابلیت، ذہنیت اور محنت سے دنیا میں ناصرف خوشحالی، ترقی اور امن کو فروغ حاصل ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات یہ لوگ تمام دنیا کے انسانوں کا مسیحا بن جاتے ہیں۔علامہ سر محمد اقبال کا شمار ایسی ہی عظیم اور عہدساز انسان دوست شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں اور دانشمندانہ اقوال اور لازوال شاعری کے ذریعے ناصرف انسانیت کو اُس کی حقیقت اور اہمیت سے آگاہ کیا بلکہ خصوصی طور پر عالم اسلام کے مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگا کر بیدار کیا اور خودی کے فلسفہ سے آگاہ کر کے دنیا میں عزت و وقار سے جینے کا حوصلہ عطا کیا۔سر محمد اقبال 1877ءمیں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے لندن جا کر قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بیرسٹر بن کر وطن واپس ہوئے۔ آپ شروع ہی سے عام طالب علموں سے منفرد تھے اور پڑھائی کے ساتھ ساتھ آپ مسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر پریشان ہو جاتے تو ادبی مجالس میں اپنی شاعری کے ذریعے اس المیہ سے متعلق نظمیں سنایا کرتے تھے۔جب آپ نے باقاعدہ مشاعروں میں جانا شروع کیا تو اُن کے کلام سن کر بڑے بڑے شعراءدنگ رہ گئے اور اُن کی شہرت کا چرچا پورے برصغیر میں ہونے لگا۔ علامہ سر محمد اقبال ایک سچے اور مومن مسلمان تھے اور ایک انسان دوست شخصیت بھی۔ آپ فرقہ واریت، ظلم و جبر، استحصال، بے انصافی، اقرباپروری، ذات پات اور جھوٹ و منافقت کے سخت خلاف تھے جبکہ آپ ہر انسان کو آزاد، خوشحال اور تحفظ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ آپ نے مسلمانوں کو بیدار کر کے انہیں بھولا ہوا سبق یاد دلایا۔ حضور رسالت مآب کی تعلیمات کو اپنانے پر زور دیا۔ آپ نے مسلمانوں کو پیغام دیا کہ تم دنیا کی امامت کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔ اٹھو اور اپنا فرض ادا کرو۔
سبق پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
سر علامہ محمد اقبال کی فلسفیانہ شاعری میں خصوصی طور پر آزادی، حریت اور خودی کا پیغام دیا گیا ہے۔ آپ مسلمان نوجوانوں کو ایک شاہین کی مانند دیکھنا چاہتے ہیں جس کی اڑان ہمیشہ بلند ہوتی ہے اور وہ کبھی تھک کر ہار نہیں مانتا۔آپ نے فرمایا:
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
تبھی آپ نے مسلمان نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے پیغام دیا کہ
تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
علامہ اقبال نے ایک جگہ مسلمان نوجوانوں کو شاہین سے تشبیح دے کر کہا کہ تم دنیا میں قیادت اور امامت کے لئے پیدا کئے گئے ہو لہٰذا اپنا کردار صاف ستھرا رکھو کہ لوگ تمہیں دیکھ کر رشک کریں۔ آپ نے کہا کہ:
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک جہاں میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
علامہ اقبال نے مسلمانوں کو ایک اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے، محمد رسول اللہ کی پیروی اور ان سے محبت کرنے اور قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر زندگی کو اس کے مطابق اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ نے فرمایا:
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
اپنے ایمان اور یقین کو کامل بنانے اور دین و دنیا کی کامیابی اور کامرانی کیلئے دامن مصطفےٰ سے وابستہ ہونے کا سبق دیتے ہوئے قلندر لاہوری نے کیا خوبصورت شعر کہا جو کہ تمام کلام پر بھاری اور دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے کامیابی و کامرانی کا پیغام ہے کہ لوگوں اللہ تعالیٰ کی توحید کا پرچم بلند رکھو اور محمد عربی سے پکی اور سچی محبت کرو ساری دنیا تمہارے زیر نگیں ہو جائے گی۔ آپ نے فرمایا:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
علامہ اقبال جاگیرداری، سرمایہ داری اور لاقانونیت کے سخت مخالف تھے اور وہ انسان کو آزاد، خوشحال محفوظ اور خوش دیکھنا چاہتے تھے۔ آپ تمام دنیا کو تمام انسانوں کا گھر سمجھتے تھے اور دنیا میں امن، سلامتی، خوشحالی کیلئے مساوات اور انصاف پر مبنی نظام قائم کرنا چاہتے تھے۔ غریب، مفلوک الحال اور ظلم و جبر کی چکی میں پسے ہوئے مزدوروں اور ہاریوں کو پیغام دیا:
کاخِ اُمراءکے درو دیوار ہلا دو
اُٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت سے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
علامہ اقبال نے مسلمانوں کو کھوئی ہوئی عظمت واپس دلانے کیلئے قرآن سے وابستہ ہونے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:
وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو گر
اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر
آپ اتحاد امت کے علمبردار تھے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو متحد دیکھنا چاہتے تھے۔ اسی عظیم مقصد کیلئے آپ نے مسلمانوں سے فرمایا:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
علامہ سر محمد اقبال نے آزادی اور حریت کے تحریک پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ نے تنبیہہ کرتے ہوئے فرمایا:
غلامی میں نہ کام آتی ہیں تدبیریں نہ شمشیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
علامہ سر محمد اقبال کو انگریزوں نے آپکی لازوال خدمات پر سر کاخطاب دیا جبکہ آپ کو مسلمانوں کا نمائندہ اور پاکستان کا قومی شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ شاعر مشرق کی تعلیمات اور پیغام آج بھی مسلمانوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ آپ نے مسلمانوں کو بیدار کر کے دنیا میں عزت و وقار اور آزادی کے ساتھ جینے کا جو سبق دیا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو یہ سبق پڑھائیں اور پھر عملی زندگی میں یہ اوصاف پیدا کر کے دنیا میں اسلام کا عالمگیر پیغام محبت پہنچائیں اور توحید کی سربلندی، حضور سید عالم سے پکی سچی محبت اور قرآن کے نظام کے نفاذ کی تحریک کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کا فریضہ ادا کریں۔