علامہ اقبال کا خطبہ الٰہ آباد

علامہ اقبال کا خطبہ الٰہ آباد

حکیم الامت علامہ اقبال اسلامیان برصغیر کے وہ عظیم رہنما ہیں جنہوں نے نہ صرف فکری رہنمائی کی بلکہ اسلامیان برصغیر کےلئے ایک الگ وطن کی نشاندہی کی تاکہ وہ اس خطہ ارض میں اپنی تہذیب وثقافت کو فروغ دے سکیں اور دنیائے اسلام کی رہنمائی ہو۔ علامہ اقبال نے مسلمانان برصغیر پاک وہند کےلئے صرف الگ وطن کا تصور پیش نہ کیا بلکہ اس عظیم قائد کی بھی نشاندہی کی کردی جو اس مقصد عظیم کے حصول کےلئے جملہ صلاحیتوں اور خوبیوں سے مالا مال تھا۔ ملت نے علامہ اقبال کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر حضرت قائداعظم کی قیادت میں اس تصور کو عملی جامہ پہنایا اور اس وقت کی دنیا کی سب سے بڑی مملکت اسلامی پاکستان قائم ہوئی۔ علامہ اقبال نے1926ءمیں عملی سیاست میں قدم رکھا اور اپنے افکار ونظریات کی تبلیغ شروع کی۔ وہ مسلمانوں کےلئے انتہائی پرآشوب تھا اورجذبات کا ایک تلاطم برپا تھا۔ علامہ کی علمی شہرت مشرق سے مغرب تک پہنچ چکی تھی اور ان کی فلسفہ شاعری کا ڈنکا چار سو بج رہا تھا۔ اس لیے ان کی آواز کو سنا گیا کہ برصغیر کے اندر مہاسبھائی زہنیت کے سبب مسلمانوں کی ترقی کا کوئی راستہ نہیں ہے اور وہ بے چارگی ومجبوری کے عالم میں ہندوﺅں اور انگریزوں کا کاسہ لیسی کےلئے مجبور ہوں گے تاکہ روح وتن کا رشتہ باقی رکھنے میں آسانی رہے۔ انگریز کا تصور جمہوریت ہندواکثریت کو ساتھ ملاکر عددی اکثریت سے مسلمانوں کو مطمئن کرکے ہمیشہ کےلئے مجبور ومحکوم بنانا ہے۔ بقول اقبال اس تصور حکومت میں بندوں کوگنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔ بلاشبہ یہ تصور اس ملک میں مفید ثابت ہوسکتا ہے جہاں ایک ہی عقیدہ وملک کے لوگ اور قوم آباد ہوں مگر ملک جہاں مختلف اقوام آباد ہوں یہ تصوراکثریت کو اقلیت پر حکمرانی کا کھلا موقع دیتا ہے۔ مسلمان قوم ایک طرف فرنگی حکمرانوں کی دشمن تھی کہ انہوں نے ان سے اقتدار چھینا تھا دوسری طرف ہندو اکثریت سے خوفزدہ تھی۔ مسلمان چونکہ فرنگی حکمرانوں کو نکالنا چاہتے تھے اس لیے ہندو اکثریتی قوم سے ملکر جدوجہد کے خواہاں تھے۔ یہ تھے وہ حالات جن میں علامہ اقبال نے بیداری ملت کا کام شروع کیا۔ سرسید احمد خان کی علمی تحریک علی گڑھ کے اثرات بھی سامنے آرہے تھے۔ تحریک خلافت وعدم تعاون سیاسی شعور کوجو جلابخشی تھی۔ علامہ اقبال نے فرمایا:
مُلا کو ہے جو ہند میں سجدے کی اجازت
نادان یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
کانگریس کی مہاسبھائی ذہنیت کوشاں تھی کہ ہردواقوام ملکر انگریز کو نکالیں۔ پھردونوں اقوام اکٹھی رہیں یوں ہندو اکثریت مسلمان اقلیت پر اپنا اقتدار قائم رکھے گی۔ اگرچہ سرسید احمد خان نے اپنی تحریک کے آغاز میں ہی یہ واضح کردیا تھا کہ ہندو اور مسلمان دوالگ اقوام ہیں جو اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔ سرسید احمد خان نے کہا تھا۔”اگرآج انگریز ملک چھوڑ کر چلے جائیں تو مسلمانوں کا کیا بنے گا؟ سرسید احمد خان نے مسلمانوں کی سماجی تعلیمی اور معاشی حالت بہتر بنائی۔ علامہ اقبال بھی ان اکابر میں تھے جوپہلے متحدہ جدوجہد کے قائل تھے اور ان کا یہ ترانہ زبان زدوخاص وعام تھا۔
سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
حالات وواقعات نے جلد ہی ان پر ہندوذہنیت واضح کردی او روہ ہندو مسلم اتحاد کوناممکن قراردینے لگے۔ کانگریس کے متحدہ قومیت کے مقابل مسلم قومیت کا تصور پیش کرکے الگ مملکت چاہنے لگے۔ علامہ نے مسلمانوں کو الگ قوم کا تصور عام کیا اورکہا۔
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
علامہ کا کہنا تھا کہ ہم محض مذہب کی بنا پر الگ قوم کا دعوی نہیں کرتے بلکہ ہمار موقف ہے کہ اسلام جاندار اور آفاقی مذہب ہے اور دنیا بھر کے مسلمان ایک ملت اور اسلام پر یقین نہ رکھنے والے دوسری قوم ہیں۔ یہاں تک مسلمانوں کے ہاں جو چیز حلال خوراک ہے۔ وہ ہندوﺅں کے ہاں مقدس اور ناقابل تقسیم گاﺅماتا ہے۔ دونوں اقوام کے تہذیب وتمدن الگ الگ ہے۔ اس پیغام کو عام کرنے کےلئے انہوں نے صرف اشعار ہی کہے بلکہ ہندوستان کے طول وعرض میں گئے۔ خطبات دئیے۔ خط لکھے اور لیگ کی تنظیم میں بھرپور کردار ادا کیا۔ دو قومی نظریہ اور مسلم لیگ میں شمولیت بارے وہ قائداعظم سے سینئر تھے۔ مگر دونوں بیرسٹر تھے۔ مغرب سے تعلیم یافتہ مگر دونوں کے سیاسی اختلافات تھے۔1927ءمیں دہلی میں مسلم رہنماﺅں کے اجلاس میں جو تجاویز منظور کی گئیں۔ قائداعظم ان کے حق میں جبکہ علامہ اقبال حق میں نہ تھے۔ پھر سائمن کمیشن آیا تو قائداعظم کے سخت مخالف جبکہ علامہ اقبال حق میں۔ 1928ءمیں نہرورپورٹ آئی تو قائداعظم ترمیمات کے ساتھ حق میں جبکہ علامہ اقبال مکمل رد کرنے کے حق میں تھے۔ پھر وقت آگیا کہ قائداعظم نے ان کا نقطہ نظر تسلیم کرلیا اور معروف عالم چودہ نکات پیش کئے۔ اب دونوں کے سیاسی مسلک ایک ہوگئے اور ملکرجدوجہد کرنے لگے اور مسلمانوں کو ایک کرنے کی کوشش کا آغاز کیا۔ قائداعظم بددل ہوکر لندن چلے گئے تاہم علامہ ان کو واپس لانے کےلئے گہری سوچ بچار کرتے رہے۔ اسی اثنا میں دسمبر1930ءمیں آل انڈیا مسلم لیگ کا تاریخی سالانہ اجلاس الٰہ آباد میں ہوا جس میں خطبہ صدارت دیتے ہوئے علامہ اقبال نے فرمایا۔ برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمانوں کےلئے الگ مملکت قائم کردی جائے کیونکہ دونوں اقوام کا یکجارہنا ناممکن ہے اور نہ ہی یکجا ہوکر آگئے بڑھ سکتے ہیں۔ الٰہ آباد میں گنگاوجمنا کا پانی جس طرح الگ الگ نظر آتا ہے۔ اس طرح یہ دونوں اقوام اکٹھی رہنے کے باوجود الگ الگ ہیں۔ مزید فرمایا ہندوتان کے مسئلے کا حل علیحدہ قومیت کا جودناگزیر ہے۔ ہندوستانی معاشرہ کی اکائیاں یورپی ممالک کی طرح علاقائی نہیں۔ یہ خطہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی مختلف نسلوں پر مشتمل انسانی گروہوں کا ہے۔ الگ الگ قومیتی گروہوں کو تسلیم کئے بغیر پوری جمہوری اصول کا اطلاق ہندوستان پر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے مسلمانوں کا یہ مطالبہ جائز ہے کہ ہندوستان کے اندر مسلم انڈیا کا قیام عمل میں لایا جائے۔ مزید فرمایا۔”میں پنجاب، سرحدی صوبہ، سندھ، بلوچستان کوضم کرکے ایک الگ مملکت کی صورت دیکھنا چاہتاہوں۔ مذکورہ ریاست مسلمانوں کی آخری منزل ہے“۔ ....
ہندوستان کے بعض متعصب لوگوں کا جواب دیتے کہا۔”ہندﺅں کو یہ تشویش نہیں ہونی چاہیے کہ ایسی خود مختار ریاستیں قائم ہوئیں تو ان میں مذہبی قسم کی حکومت چلائی جائےگی۔ میں پہلے بھی اشارہ دے چکا ہوں کہ مذہب کا لفظ اسلام پربولا جائے تو اس کے کیا معانی ہوسکتے ہیں“ کے آگے چل کرفرمایا”غرض ہندﺅں اور مسلمانوں کے بہترین مفاد میں متحدہ اسلامی مملکت کا مطالبہ کرتا ہوں“ مزید فرمایا۔”کہ قرآن کی زبان میں اپنے آپ کو مضبوطی سے تھامے رہو۔ کوئی غلط کار تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکتا۔ بشرطیکہ تمہاری قیادت بہترین ہو وہ آزادی کی جنگ بہتر لڑسکتی ہو۔ جس کے پاس سپہ سالار بہتر ہو“اس واضح نصب العین کے بعد وہ منزل کی جانب روزانہ ہوگئے اور ان کی نظر بہتر قیادت کےلئے قائداعظم پر جاٹھہری۔ ان سے خط وکتابت کرکے ان کو الگ مسلم قومیت کا نکتہ نظر پیش کیا۔ مئی1936ءمیں اقبال دوبارہ صدر آل انڈیا مسلم لیگ منتخب ہوئے۔ اس دوران انہوں نے قائداعظم کو مسلمانان برصغیر کو مسلمانان برصغیر کی قیادت کےلئے آمادہ کرلیا۔