علامہ اقبال اگر آج زندہ ہوتے

کالم نگار  |  محمد یسین وٹو
علامہ اقبال اگر آج زندہ ہوتے

آج ہم علامہ اقبال کا یوم وفات ایک بار پھر نہایت عقیدت واحترام سے منا رہے ہیں۔ ہم علامہ اقبال کی تعلیمات پر عمل کا عہد اور اظہار ان کے یوم ولادت اور یوم وفات پرضرور کرتے ہیں مگراپنی زندگی میں ان کو اپناتے نہیں۔آج ہم آزادی کی جس نعمت سے سرفراز ہیں وہ علامہ کے تصور پاکستان کے ہی بدولت ہے۔ حضرت قائداعظم محمدعلی جناح نے اس تصور کو عملی روپ دے کر ہمیں انگریزکی غلامی سے چھڑایا اور ہندو کی غلامی میں جانے سے بچایا۔1930ءکو مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس الہ آباد میں منعقد ہوا۔ اس کی صدارت ڈاکٹر سر علامہ اقبال نے کی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطبے میں بڑی وضاحت سے ہندوستان کے حالات، مسلمانوں کی مشکلات، ان کے مستقبل اور مسلمانان ہند کی منزل کی نشان دہی کی۔جہاں نئی نسل کے لئے خطبہ الہ آباد کا تذکرہ برمحل ہو گا جو اسلامیانِ برِصغیر کی آزادی اور پاکستان کے قیام کی بنیاد ہے۔ 

”اسلام ریاست اور فرد دونوں کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے‘ دستور حیات ہے اور ایک نظام ہے جس شخص کو آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کی صدارت کے اعزاز سے نوازا وہ اب بھی ایک اسلام کو ایک طاقت سمجھتا ہے اور یہی طاقت انسان کے ذہن کو وطن اور نسل کے تصور کی قید سے نجات دلا سکتی ہے۔
یورپ میں مذہب ایک فرد کا ذاتی معاملہ ہے۔ وہاں فرد روح اور مادہ میں تقسیم ہے‘ ریاست اور کلیسا جدا ہیں‘ خدا اور کائنات میں کوئی تعلق نہیں لیکن اسلام ایک وحدت ہے جس میں ایسی کوئی تفریق نہیں ہے۔ اسلام چند عقائد کا مجموعہ نہیں بلکہ مکمل ضابطہ حیات ہے۔ مذہب کو فرد اور ریاست کی زندگی میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔
ہندوستان کے مسلمان اپنی تہذیب و تمدن، ثقافت اور اسلام کی وجہ سے یہاں کی دوسری قوموں سے مختلف ہیں۔ ان کی تعداد برعظیم میں سات کروڑ ہے اور ہندوستان کے دوسرے باشندوں کی نسبت ان میں زیادہ ہم آہنگی اور یکسانیت پائی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہی جدید ترین معنی میں قوم کہا جا سکتا ہے۔
مغربی ممالک کی طرح ہندوستان کی یہ حالت نہیں ہے کہ اس میں ایک ہی قوم آباد ہو۔ ہندوستان مختلف اقوام کا وطن ہے جن کی نسل‘ زبان‘ مذہب سب ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں وہ احساس پیدا نہیں ہو سکا ہے جو ایک ہی نسل کے مختلف افراد میں ہوتا ہے۔
ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، ان میں کوئی بھی قدر مشترک نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گزشتہ ایک ہزار سال میں اپنی الگ حیثیت قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ایک ہی ملک میں رہنے کے باوجود ہم میں یک جہتی کی فضا اس لیے قائم نہیں ہو سکی کہ یہاں ایک دوسرے کی نیتوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ کس طرح فریق مقابل پر غلبہ اور تسلط حاصل کیا جائے۔
ہندوستان دنیا میں سب سے بڑا اسلامی ملک ہے۔ تنہا ایک ملک میں سات کروڑ فرزندان توحید کی جماعت کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اسلام بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رہے تو اس مقصد کے لیے ایک مرکز قائم کرنا ہو گا۔
میں یہ چاہتا ہوں کہ صوبہ پنجاب، صوبہ شمال مغربی سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ایک ریاست کی شکل دی جائے یہ ریاست برطانوی ہند کے اندر اپنی حکومت خوداختیاری حاصل کرے‘ خواہ اس کے باہر۔ مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو آخر ایک منظم اسلامی ریاست قائم کرنا ہی پڑے گی“۔
قائداعظم نے اسلامیان ہند کے لئے الگ وطن کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ پاکستان اسلام کی تجربہ ہوگا۔ قائد کے اس فرمان کی جو بھی تشریح کی جائے اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اسلام میں سب کے حقوق برابر ہیں۔ تعلیم، صحت، انصاف اور وسائل کی تقسیم میں کوئی تفریق نہیں۔ آج ہمیں ویساپاکستان نظر نہیں آتا جیسا بانیان چاہتے تھے۔ پاکستان وسائل سے بھرپور ملک ہے۔ ہم عالم اسلام کی واحد نیو کلیئر پاور ہیں۔ وسائل کو درست طریقے سے استعمال کیا ہوتا تو پاکستان خطے میں ایک مضبوط، طاقتور، ترقی یافتہ اور خوشحال ملک یقینا ہوتا۔ قائداعظم نے جن کھوٹے سکوں کی نشاندہی کی انہوں نے اور ان کے بعد ذاتی مفادات کے اسیر سیاستدانوں اور طالع آزماﺅں نے پاکستان کو اپنی خواہشات کی بارآوری کی آماجگاہ بنا کر اس کا حلیہ تک بگاڑ دیا۔ یہ نااہل لوگ پاکستان کا تحفظ ہی نہ کر سکے۔ قیام پاکستان کے بعد ابھی ربع صدی بھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ اسے دولخت کر دیا گیا۔ ہندو لیڈر شپ اپنے اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کبھی غافل نہیں ہوئی ہمیں اس سے کہیں زیادہ ہشیار رہنے کی ضرورت تھی مگر حکمرانوں کی خواب غفلت اور اس سے بھی بڑھ کر انکی نااہلی کے باعث نہ صرف بھارت اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں پیش رفت کر رہا ہے بلکہ ہم قیام پاکستان کے مقاصد سے بھی بہت دور ہیں۔
اقبال اگر آج زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ وہ جس قوم کو ہندو کے غلبے سے نجات دلانا چاہتے تھے وہ کس طرح ایک آزاد مسلم ملک میں ہندو کلچر کواپنانے کے لئے بے چین ہے۔ ہندونے پاکستان کو دوٹکڑے کیا۔اب اسے مزید بکھیرنے کے لئے سرگرداں ہے۔ بلوچستان میں اس کی مداخلت کے ثبوت فوجی و سیاسی قیادت سنبھالے پھرتی ہے مگر اپنے عوام پر آشکار کرتی ہے نہ عالمی برادری کے سامنے رکھتی ہے اور نہ اس پر زندہ قوموں کی طرح جو ایکشن لیا جانا چاہیے لیتی ہے۔ فوجی ترجمان کہتے ہیں کہ بھارت ان دہشتگردوں کی مدد کر رہا ہے جن کے خلاف اپریشن ضرب عضب جاری ہے مگر حکومت اس پر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتی اور بھارت کے ساتھ تجارت جاری رکھے ہوئے ہے وہ بھی خسارے کی، اس کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا بڑی بے شرمی سے عزم دہرایا جاتا ہے۔ بھارت کے ساتھ دوستی اور تعلقات کو نئی جہتیں دینے کا اعلان کیا جاتاہے۔ اس ملک کے ساتھ جو آپ کی سلامتی وسالمیت کا دشمن ہے جو آپ کے اس حصے پر قابض ہے جسے قائد نے پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا۔
علامہ زندہ ہوتے تو سوچتے کہ انہوں نے ان لوگوں کے لئے آزاد وطن کی جدوجہد کی تھی جو آپس میں دست وگریباںہے، عام آدمی بنیادی ضروتوں سے محروم رکھا گیا ہے، غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو رہا ہے۔ غریب پر تعلیم صحت اور انصاف کے دروازے بند ہیں۔ وسائل پر ایک طبقے کا تسلط ہے۔ تیسری نسل خود کو مہاجر کہہ کر مظلومیت کا شور کرتی ہے۔ بعید نہیں علامہ یہ سب کچھ دیکھ کر اپنا خطبہ الہ آباد واپس ہی لے لیتے۔
٭....٭....٭