صدرچین شی چن پنگ کادورہ پاکستان

کالم نگار  |  منیر احمد خان
صدرچین شی چن پنگ کادورہ پاکستان

  • 21اپریل کادن پاکستان کی تاریخ کاشانداردن تصورہوگاجس دن چین کے صدر شی چن پنگ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرینگے۔جبکہ 20اپریل کوچینی صدرکی پاکستان آمداورانکے شانداراستقبال نے پاک چین دوستی کی ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔کسی غیرملکی سربراہ کواتنابڑااستقبال پاکستان کی تاریخ کاایک اہم واقعہ ہے۔چینی صدرکادورہ پاکستان اورچین کے تعلقات کوایک نئی جہت دے گا۔یہی وجہ ہے کہ اس دورے کابڑی بے تابی کے ساتھ انتظار کیا جارہا تھا۔میاں شہبازشریف اوراحسن اقبال نے اس دورے کوکامیاب بنانے کیلئے دن رات ایک کئے۔ دونوں راہنماکئی مرتبہ چین کادورہ کرچکے ہیں۔میاں شہبازشریف چینی صدرکے دورے کواللہ تعالیٰ کااحسان عظیم کہتے ہیں اوراس کوپاکستان کے استحکام سے تعبیرکرتے ہیں اورانکویقین ہے کہ دورے کے نتیجے میں پاکستان مضبوط اورخوشحال ملک بن کر ابھرے گا جبکہ احسن اقبال کہتے ہیں کہ پاکستان کواس بات کی ضرورت ہے کہ چین کی پیشکش سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اوراپناکام خودکریں۔کیونکہ چائنیزیہ کام مفت نہیں کررہے۔انہوںنے انکشاف کیاکہ دومرتبہ چائنیز اپناکام بندکرچکے ہیں پاکستانیوں کے عدم تعاون اورکام نہ کرنے کی وجہ سے۔ احسن اقبال نے بہت درست کہاہے کہ ان فوائدکوحاصل کرنے کیلئے جن کی بنیادمستقبل کی ترقی کیلئے رکھی جارہی ہے ہمیں اپنے وسائل کومختص کرناہونگے۔تمام اختلافات کودفن کرکے اوراعلیٰ قسم کے رابطوںکوبروئے کارلانا ہوگا پھر ہی ہم پاکستان کوسنوارسکتے ہیں۔چین کی دوستی کوپاکستان میں بے حدقدرکی نگاہ سے دیکھاجاتاہے چین کی قیادت کس لیڈرکے پاس ہے اس سے پاکستان کوکوئی غرض نہیں ہوتی۔ہرچینی لیڈرپاکستان کیلئے محترم ہے ہماری محبت کایہ عالم ہے کہ چین کے صدرکانام درست لکھنے کیلئے وزارت خارجہ نے ہدایت جاری کی ہیں جس کے مطابق کہاگیاہے کہ چین کے صدرکانام اردومیں”شی چن پنگ“تحریرکیاجائے۔

    62سالہ صدر شی چن پنگ بیجنگ میں15 جون 1953ءکوپیداہوئے۔1975ءسے لیکر1979ءتک بیجنگ یونیورسٹی سے کیمیکل انجینئرنگ میں تعلیم حاصل کی۔1998ءسے لیکر2002ءتک اس یونیورسٹی سے مارکسٹ فلاسفی پڑھی اورڈاکٹرآف لاءکی ڈگری حاصل کی۔1971¾ میں کیمونسٹ یوتھ لیگ اور 1974ءمیں کیمونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیارکی۔صدرشی نے دوکاموں کی وجہ سے شہرت اور ٹاپ لیڈرشپ کی توجہ حاصل کی پہلاکام14% سالانہ گروتھ ریٹ حاصل کرنااوردوسراکام کرپٹ لوگوں کیخلاف سخت موقف اختیارکرنا،اسی وجہ سے شہنگائی میں پارٹی چیف کی2006ءمیں برطرفی کے بعدصدر شی چن پنگ کومارچ2007ءمیں شہنگائی پارٹی کاچیف بنادیاگیا۔اس عہدے کے ملنے سے تمام لوگوں کوپیغام چلاگیاکہ شی چن پنگ اب کسی بھی بڑے عہدے کے اہل ہیں۔ بالآخر 15 نومبر 2012ءکوکمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور چیئرمین سنٹرل ملٹری کمیشن منتخب ہوگئے۔یہ انتخاب کمیونسٹ پارٹی چائنہ کے18سنٹرل کمیٹی کے اجلاس میں کیاگیا جس کے نتیجہ میں وہ کمیونسٹ پارٹی کے اصل لیڈربن گئے۔انکی پہلی تقریربڑی تاریخی تھی جس میں انہوںنے کہاکہ : ”ہمارے لوگ اچھی تعلیم کی توقع رکھتے ہیں۔پائیدارملازمتیں چاہتے ہیں۔زیادہ آمدنی اوربہترماحول پسندکرتے ہیں۔سوشل سکیورٹی،اعلیٰ پیمانے کی میڈیکل کیئراوررہنے کی اچھی سہولتیں حاصل کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔انہوںنے اپنی پہلی تقریرمیں کرپشن کےخلاف سخت کارروائی کی بات کی ہے اوراس حدتک کہاکہ کرپشن پارٹی کی بقاءکوخطرہ ہے“۔14مارچ2013ءکو شی چن پنگ کوچائنہ کاصدرمنتخب کرلیاگیا۔انکی منظوری نیشنل پیپلزکانگرس کے 12ویں اجلاس میں کی گئی جس میں انہیں 2952 ووٹ ملے۔ایک خلاف اورتین غیرحاضرتھے انہوں نےHu Jintooکی جگہ لی جوکہ دودفعہ اسی عہدے پررہ چکے تھے۔صدر شی چن پنگ کوڈنگ پیاﺅنگ کے بعدچائنہ کاطاقتورترین لیڈرکہاجاتاہے۔
    5'-11" کے قدوالے شی چن پنگ نے پہلی بیوی کوطلاق دیکر1987ءمیں پنگ لیاوان سے دوسری شادی کی جس سے انکی بیٹی شی سنگزہے جوکہ ہارورڈ یونیورسٹی میں2010ءمیں انرول ہوئی۔چین اور پاکستان کے تعلقات کومعمول کے تعلقات کی نظرسے نہیں دیکھناچاہئے۔ 4جنوری 1950ءکوپاکستان نے چین کوتسلیم کیاجبکہ 21مئی1951ءکوسفارتی تعلقات قائم ہوئے۔پاکستان میں کوئی بھی حکومت ہوچین سے اچھے تعلقات ہونے میں کوئی فرق نہیں آیا۔سچ تویہ ہے کہ ہرآنے والی حکومت نے دونوں ملکوں کے تعلقات کوبہتربنانے میں اضافہ کیاہے اس لئے توکہتے ہیں کہ پاک چین دوستی
    ٭پہاڑوں سے بڑھ کر ٭سمندرسے گہری ٭شہدسے زیادہ میٹھی ٭لوہے سے زیادہ مضبوط ٭اورہرحالات اورہرموسم میں آزمائی ہوئی ہے۔
    امریکہ اورچین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرانے میں پاکستان نے اہم رول اداکیاتھا۔اسی طرح چین کوسلامتی کونسل کی رکنیت کیلئے بھی پاکستان نے اپنابھرپورکرداراداکیاتھا۔یہی وجہ ہے کہ 20 کروڑ پاکستانی چینی صدرکیلئے فرش راہ ہیں۔
    9سال بعدچین کے صدرکی پاکستان آمدپرہر پاکستانی خوش ہے۔ چینی صدرکادورہ2014ءمیں متوقع تھاجوکہ پاکستان کے سیاسی حالات کی وجہ سے ملتوی ہوگیاتھامجھے یقین ہے کہ عمران خان کی خواہش یاکوشش نہیں تھی کہ انکی دھرناتحریک کی وجہ سے صدر چین کادورہ ملتوی ہو۔بحرحال”دیرآیددرست آید“ پاکستان کی کوئی سیاسی پارٹی حتیٰ کہ کوئی آرمی چیف یہ Affordنہیںکر سکتاکہ صدر چین کے دورے پر منفی بات کی جائے۔پکے دوست اوربھائی کی حیثیت سے چین،پاکستان کی ترقی کی جانب ہرپیش رفت اور کامیابی پربہت خوش اورمسرور ہے۔وہ کہتے ہیں کہ چین اورپاکستان کے درمیان سلامتی کے مفادات ایک نوعیت کے ہیں۔سلامتی کی صورتحال اوراقتصادی ترقی دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں اوراسکے حصول کیلئے باہمی تعاون اشدضروری ہے۔ اسکامطلب یہ ہے کہ دوپہیوں کوایک ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔چینی صدرکے خیالات عمومی نوعیت کے نہیں ہیں بلکہ انتہائی خصوصی نوعیت کے حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے20کروڑعوام ،وفاقی حکومت اورصوبائی حکومتیں اس دورہ کوپاکستان کی معاشی ترقی کیلئے اہم سمجھتی ہیں۔پاکستانی قوم کویقین ہے کہ صدرچین کے دورہ کے نتیجے میں نہ صرف بجلی کامسئلہ حل ہوگابلکہ سڑکوں اوردیگرپراجیکٹ کے معاہدے بھی ہونگے۔میاں شہبازشریف اوراحسن اقبال انتہائی دیانتدار،محنتی اورمنتظم ہیں۔انہیں 47 ارب ڈالرکے معاہدوں کی نہ صرف مکمل نگرانی کرنی چاہئے بلکہ ان میں کسی قسم کی دیرنہیں ہونے دینی چاہئے۔ ہمارے ملک کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ رشوت لینے کی خاطرقومی منصوبوں کی فائلیںروک لی جاتی ہیں۔قومی مفادکوذاتی مفادپرقربان کردیاجاتاہے۔ اس طرح چین کے معاملہ پرکوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے۔کیونکہ چین پاکستان کی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔اس کویہ بھی غرض نہیں کہ پاکستان میں جمہوری حکومت یافوجی ،چین کیلئے پاکستان کی دوستی اورترقی سب سے زیادہ اہم ہے۔