حکیم الا مّت

حکیم الا مّت

علامہ اقبالؒ کی قد آور شخصیت بڑی پہلو دار ہے وہ مفکر بھی ہےں فلسفی بھی، دانشور بھی اور شاعر بھی لیکن ان سب حیثیتوں کا محور ، مرکز مرجع و منبع ایک ہے فکر اقبالؒ ہے مفکر پاکستان علامہ محمّد اقبالؒ کے آبا¶ اجداد کا تعلق خطہ کشمیر سے تھا۔ وہ ہندو برہمن تھے اور ان کی گوت سپرد تھی۔حالیہ ایک تحقیق کے مطابق انکے بزرگوں کا مسکن گا¶ں چکو تھا جو سری نگر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر شوپیاں کے راستے میں تھا اب وہ گا¶ں امتداد کے باعث نابود ہو چکا ہے یہ برہمنوں کا گا¶ں تھا علامہ اقبالؒ کے جد اعلیٰ جب حلقہ بگوش اسلام ہوئے تو بابا لول حج کے نام سے مشہور ہوئے وہ حضرت نور الدین رشی ولی ؒ کے خلیفہ بابا نصیر الدین نصرو رشی ولی ؒ کے دست حق پر مسلمان ہوئے تھے ان کا اصل نام بابا صالح تھا اقبالؒ نے اپنے بزرگ کے برہمن ہونے کا ذکر کیا ہے ۔

میں اصل کا خاص سومناتی
آباءمرے لاتی و مناتی
اقبالؒ نے دین حق کی روشنی میں جو یقین محکم توکل علیٰ اللہ، اپنی ذات کا شعور اور خود اعتمادی پیدا کی ہے ، اس کا نام اس نے خودی رکھا ہے۔ اور لا الہٰ الاللہ کو اس خودی کا راز( سر نہاں) قرار دیا۔ اس خودی کے زور سے وہ ہندومومن کو دنیوی خواہشات سے بالا تر کر کے صرف اللہ کے دین کا داعی بنانا چاہتا ہے۔ دنیا کے مادی تصورات سے استثنیٰ کے بغیر اعلیٰ و ارفع مقاصد کیلئے قربانی دینا ناممکن ہے اس لئے اس کا پیغام ہے اقبالؒ گفتار کے غازی ہونے کیساتھ عملی سیاست میں بھی حسب توفیق دلچسپی لیتے تھے۔ بلاشبہ وہ میدان سیاست کے کھلاڑی تھے لیکن انہوں نے پوری عمر مسلمانوں کے معاملات میں تعمیری کردار ادا کیا اور بحیثیت مجموعی ان کی خدمات اتنی دور رس اثرات کی حامل ہیں کہ ان کو مسلمان قائدین میں بہت بلند مقام دیا جاتا ہے بیسویں صدی کے بالکل آغاز میں بلقان و طرابلس کی جنگوں میں حکیم الامّت نے ترکی کی بھرپور حمایت کی۔ اتحاد ملّت اسلامیہ کے جذبات کو ابھارا۔ سامراجی ہتھکنڈوں کو بے نقاب کیا اور ان اعلیٰ و ارفع جذبات کی آبیاری کی جو ملّت اسلامیہ کی سر بلندی کیلئے قربانی دینے کیلئے ضروری تھے انجمن حمایت اسلام پنجاب کے مسلمانوں کی حیات نو کا ذریعہ تھی۔ 1910ءمیں ان کی صفوں میں انتشار پیدا ہو گیا تو اقبال ؒان چند شخصیات میں سے تھے جن کو اختلافات دور کرنے کا فریضہ سونپا گیا۔ ثالثی بورڈ کے ایک رکن کی حیثیت سے آپؒ نے دونوں دھڑوں کے درمیان اختلافات کی خلیج پاٹنے میں اہم کردار ادا کیامیثاق لکھن¶ 1916ءاقبالؒ کو قطعی پسند نہ تھا۔ آپؒ نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اس میثاق سے مخلوط قومیّت کی راہ ہموار ہوگی اور ہندو اکثریت اس معاہدے کی آڑ میں مسلمانوں کو جذب کرنے کی کوشش کریگی۔ اس معاہدہ میں رواداری کیلئے اقلیتوں کو ان کے حق سے تھوڑی سی نمائندگی دیتے۔ آپؒ نے اس کا نقصان واضح کیا۔ اس وقت تک صوبہ سرحد میں اصلاحات کا نفاذ نہیں ہوتا تھا۔ سندھ ابھی بمبئی کا حصہ تھا۔ بلوچستان کو صوبہ کا درجہ ہی نہیں دیا گیا تھا۔ صرف پنجاب اور بنگال ہی ایسے صوبے تھے جن میں مسلمانوں کو اکثریت حاصل تھی۔ بدقسمتی سے "ویٹج" کی وجہ سے ان دونوں صوبوں میں مسلم اکثریت ختم ہو گئی۔ اسکے آئندہ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوئے مثلاµ جب تقسیم ملک سے ذرا پہلے مسلم لیگ کے راست اقدام کی وجہ سے خضر حیات وزارت مستعفی ہوئی تو مسلم لیگ انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود اس پوزیشن میں نہ تھی کہ وزارت بنا سکے۔ چنانچہ تقسیم کے وقت پنجاب کا نمائندہ انگریز گورنر ہی تھاکانگرس اور مہاسبھا کی سرگرمیوں کو علامہ اقبالؒ اس حد تک سمجھتے تھے کہ وہ کبھی بھی ہندو مسلم اتحاد کے قائل نہ ہو سکے۔ جب قائد اعظمؒ کانگرس سے اتحاد و تعاون کے خواہاں تھے۔ محمد علی جوہر یونٹی بورڈ بنانے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ دیگر مسلمان رہنما¶ں پر گاندھی جی کا جادو چل چکا تھاحکیم الامّت کا ذہن بالکل واضح تھا اور 1926ءمیں وہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس وجہ سے آئندہ چند سال وہ عملی سیاست دان رہے۔ سائمن کمیشن کی آمد پر محمد علی جناحؒ نے کانگرس کے اقتدار میں کمیشن کا بائیکاٹ کیا تو آپ ؒنے اس سے اختلاف کیا اور آپؒ لاہور مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری بن گئے۔ تجاویز دہلی کے بارے میں آپ کی رائے یہ تھی کہ یہ راستہ متحدہ قومیّت کی طرف جاتا ہے۔ آپؒ نے مخلوط انتخاب کو کسی صورت پر قبول نہ کرنے کا مشورہ دیاسر محمد شفیع اور سر فضل حسین نے نہرو رپورٹ کی مخالفت کی تو آپؒ انکے ساتھ تھے۔ آل پارٹیز مسلم کانفرنس کے انعقاد میں آپؒ بھی شریک تھے۔ جس میں سر آغا خاں جیسی شخصیت کی موجودگی اور محمد علی جوہر جیسے اتحاد پسند کی طرف سے اس اعلان نے کہ کانگرس اور مہاسبھا مسلمانوں کی معقول ترین تجاویز کو بھی سننے کو تیار نہیں ایسی فضا پیدا کر دی کہ نہرو رپورٹ متعصب ہندوﺅانہ پالیسی کے ایک شاہکار سے زیادہ کوئی حیثیت حاصل نہ کر سکی دسمبر 1930ءمیں مسلم لیگ کے اجلاس الہ آباد کے خطبہ صدارت میں علیحدہ مسلم مملکت کے بارے میں جواز پیش کرتے ہوئے علامہ اقبال نے فرمایا " ہندوستان مختلف اقوام کا وطن ہے جس کی نسل ، زبان ، مذہب سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں ، الگ ہیں۔ ان کے اعمال و افعال میں وہ احساس پیدا ہی نہیں ہو سکتا جو ایک ہی نسل کے مختلف افراد میں موجود رہتا ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو ہندوستان میں واحد الجنس قوم نہیں۔ پس یہ امر کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے کہ مختلف ملتوں کے وجود کا خیال کیے بغیر مسلمان ہندوستان کے اندر ایک اسلامی ہندوستان قائم کرے "علامہ اقبالؒ نے ایک قومیت کے تصور کے بت کو پاش پاش کر دیا تو تصور پاکستان کا خاکہ اور نمایاں ہو کر سامنے آگیا جس کے لئے علاقائی حد بندی کا تعین یوں ہوا " میری خواہش ہے کہ پنجاب، صوبہ سرحد، اور بلوچستان کو ایک ہی ریاست میں ملا دیا جائے خواہ یہ ریاست سلطنت برطانیہ کے اندر حکومت خود اختیاری حاصل کرے۔ خواہ اس کے باہر مجھے تو ایسا نظر آتا ہے اور انہیں تو شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو بالاخر ایک منظم آزاد اسلامی ریاست قائم کرنا پڑے گی۔ علامہ اقبالؒ کی عمر کے آخری حصّہ میں یہ عشق اتنی والہانہ کیفیت اختیار کر گیا تھا کہ جہاں نام رسول کریم زبان پر آیا اور آنکھوں سے اشک کی ندیاں رواں ہو جاتیں۔