اقبالؒ کے اخلاق و عادات

اقبالؒ کے اخلاق و عادات

علامہ اقبالؒ کے اخلاق و عادات بالکل درویشانہ اور حکیمانہ تھے۔ انہوں نے انگریزی لباس بھی پہنا مگر ان کی زندگی قلندرانہ سادگی کا مظہر تھی آپ بنیادی طور پر صوفی منش انسان تھے۔ ان کی شخصیت میں جلال و جمال کا حسین امتزاج لوگوں کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیتا تھا کہ شاید اقبالؒ بھی دوسرے سر صاحبان جیسے ہوں گے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس تھی آپ بہت نرم دل اور خوش اخلاق انسان تھے۔ آپ کے گھر کے دروازے ہر خاص اور عام کے لئے کھلے رہتے ہیں۔ آپ شاعر ہونے کے باوجود تنہائی پسند نہ تھے روزانہ شام کو آپ کے دولت کدہ پر ہر مزاج کے لوگ جمع ہوتے تھے۔ سید نذیر نیازی لکھتے ہیں۔
”ان کے درِ دولت پر بھی فرق مراتب یا امتیازات کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ معلوم نہیں لوگ کہاں کہاں سے آتے اور کیا خیالات اپنے دل میں لے کے آتے، ان میں عامی بھی ہوتے اور جاہل بھی اور ان ان کے ساتھ پڑھے لکھوں کو بھی مفہوم ثابت ہو گیا۔“ علامہ صاحب کی گفتگو کا حاصل وصول یہی ہوتا۔ ہم مخلوق ہیں اور رب تعالیٰ ہمارا خالق و مالک ہے۔
اقبالؒ نے قوم کو خود شناس بنایا اور خودی کی تعلیم دی اور خود بیخودی میں زندگی گزاری۔ آپ راز درون حیات پا گئے تھے اس لئے ہر چیز سے بے نیاز ہو گئے تھے جو لوگ ان کے قریب رہے جانتے تھے کہ وہ 24 گھنٹوں میں بس ایک بار کھانا کھاتے بہت کم سوتے اور سحر خیز تھے۔
علامہ صاحب خوش لباس خوش خوراک تھے۔ شلوار قمیض پسند فرماتے لنگی پہنتے سر پر پگڑی بھی باندھ لیتے کبھی جو پتلون کوٹ پہن لیتے تو سرپر ہیٹ کی بجائے ترکی ٹوپی ہوتی تھی۔ کھانا پینا اگرچہ کم تھا مگر جو کھاتے خوش ذوقی سے کھاتے۔ انہیں آم بہت مرغوب تھے۔ غذاﺅں میں کباب، بریانی اور سرخ مرچ، بہت پسند کرتے تھے کہتے یہ اسلامی غذا ہے۔ آپ کا طرز زندگی مسلم تہذیب کے مطابق تھا۔ طبیعت میں بے نیازی اور درویشی نے آپ کو متغنی، بے نیاز اور خوددار بنایا تھا۔ ایک بار پنجاب میں تحریک چلی کہ دو لاکھ کی رقم جمع کر کے آپ کی خدمت میں پیش کی جائے تاکہ آپ فکر معاش سے آزاد ہوں اور تمام وقت شعر و سخن کو دیں۔ مگر آپ نے انکار کر دیا۔
آپ نے ایک بار فرمایا۔ کہ
”یہ سچ ہے کہ میرے اوقات کا بیشتر حصہ فکر معاش اور دینوی مکروہات میں گزر جاتا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر میں زندگی کی کشمکش سے علیحدہ ہو جاﺅں تو میری شاعری بھی اس تڑپ سے محروم ہو جائے۔ جس کا سب سے بڑا منبع خود زندگی ہے۔“
دما دم رواں ہے یم زندگی
ہر اک شے سے پیدا رم زندگی
اقبالؒ کو مطالعہ کے بے حد شوق تھا۔ اس غرض سے فارسی، عربی اور یورپین زبانوں کی بہت ساری کتب موجود تھیں۔ مگر وفات کے وقت یہ وصیت کر گئے تھے کہ یہ تمام گورنمنٹ اسلامیہ کالج لاہور کودے دی جائیں، اقبالؒ ہم سب سے جڑے ہوئے مگر اپنی ذات میں جدا تھے اور یہی بات ان کی شاعری میں نمایاں ہے۔
٭....٭....٭