افکار اقبال پر عمل لمحہ موجود کی اولین ضرورت

کالم نگار  |  مسرت لغاری
افکار اقبال پر عمل لمحہ موجود کی اولین ضرورت

قارئین آج مصور پاکستان حضرت علامہ اقبال کا یوم رحلت ہے مگر یہ کوئی عام دن نہیں ہے نہ ہی محض ایک دن ہے بلکہ جانتے ہیں پاکستان کی تاریخ میں دو ایسی تاریخیں موجود ہیں جن کی تاریخی اہمیت بجائے خود وطن عزیز کے وجود سے بھی بڑھ کر ہے ایک وہ تاریخ ساز تاریخ یعنی 9 نومبر جس روز علامہ اقبال پیدا ہوئے اور ہماری زمین کو آسمان کر دیا۔ دوسری وہ تاریخ جب وہ دنیا سے رخصت ہوئے جس سے برصغیر کے مسلمانوں کو اتنا شدید روحانی دھچکا لگا کہ ایسے نازک موقعہ پر اگر قائداعظم آگے بڑھ کر مصور پاکستان کے تصور کو تصویر اور پاکستان کو تعمیر نہ کردیتے تو وہ من حیث القوم کبھی بھی عالم اسلام میں وہ اہمیت حاصل نہ کر پاتے جو لمحہ موجود میں انہیں میسر ہے۔ ہم علامہ اقبال اور قائداعظم جیسی نابغہ روزگار ہستیوں کے دن منا کر انہیں بجا طور پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں بلکہ ہم تو سمجھتے ہیں وطن عزیز کے ہر گھر میں ہر دن کا آغاز ان محبوب ہستیوں کے افکار و اقوال کو یاد کرنے بلکہ ان پر عمل پیرا ہونے سے کیا جائے تاکہ نئی نسل کو معلوم ہو سکے کہ ہر پاکستانی کے سر پر یہ جو مٹھی بر آسمان اور قدموں کے نیچے دو قدم کی زمین ہے تو وہ اقبال کے تفکرو تدبر اور قائداعظم کے بیمار رتجگوں کی دین ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ زندہ قوموں کیلئے ان کے عظیم محسنوں کا ہر دن ان کی پیدائش کا دن ہوتا ہے اور ان کے افکار و اقوال اور روشن پیغام کو بھلا دینا قوموں کے زوال کا سبب بن جاتا ہے جہاں تک حضرت علامہ اقبال کی زندہ و جاوید شاعری کا تعلق ہے تو وہ صرف ہمارے یا عالم اسلام کیلئے انہیں بلکہ دنیا بھر کے لئے انسانیت کا آفاقی پیغام اپنے اندر رکھتی ہے۔ 

اس حوالے سے دیکھا جائے تو اقبال آج بھی اپنے زندہ افکار عالمی کے آفاقی پیغام کی صورت میں ہمارے درمیان زندہ وجاوید موجود ہے ضرورت صرف اس امرکی ہے کہ ان کے تمام تر فلسفے کو نوجوان نسل کے رگ و پئے میں اتاردیا جائے اقبال شناسی کوقوم کیلئے آکسیجن کی طرح ناگزیر قرار دیا جائے کیونکہ ہمارے پاس صرف یہی نسخہ کیمیا ہے جو اقوام عالم میں ہمیں حیات ابدی عطا کرسکتاہے ہم سر اٹھا کر کہہ سکتے ہیں کہ اقبال ہمارا ہے، خالدوقاسم ہمارے ہیں قائداعظم اور محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر خان ہمارا ہے۔ اقبال صرف ہمارے قومی شاعر یا مصور پاکستان ہی نہ تھے وہ ایک عظیم فلسفی، بلند پایہ مفکر، اعلیٰ درجہ کے درویش صفت انسان اور باعمل صوفی تھے ان کا پیغام خودی و خود شناسی ہو، فلسفہ فقروغنا ہویا عالمگیر انسانیت کا عالمگیر نظریہ ہو ان کے اشعار کی ہر سطر کا ہر نقطہ ہمارے لئے بقا کا پیغام ہے انہوں نے عشق رسول کی روشنی میں بندہ¿ مومن کی جو صفات مرتب کیں وہ ان سے نوک برابر بھی ادھر ادھر ہونے کا تصور نہیں کرسکتے تھے۔ برصغیر کے مسلمانوں کو اپنی الہامی شاعری کے ذریعے ہندوﺅں اور انگریزوں کی دوہری غلامی سے نجات دلانے کیلئے جس طرح انہوں نے ابھارا وہ صرف انہی کا کمال ہو سکتا ہے۔ ایک غافل اور غلام قوم کے بدن بے جان میں جان ڈالنے کیلئے ان کا ہر شعر اکسیر ، انکی ہر سوچ امن مسلمہ کے مسائل حل کرنے کیلئے اسم اعظم اور ہر قول، قول زریں ثابت ہوا۔ غلامی کی زنجیریں توڑنے کیلئے مسلمانوں کے جذبات اورجذبوں کو مسلسل متلاطم رکھنا، ان کا دوسرا بڑا معجزہ کلام تھا یہاں تک کہ ان کا خواب حقیقت کا روپ دھار گیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ لمحہ موجود میں جسطرح مسلمان دنیا بھر میں مغربی استعماریت سے پنجہ آزما ہیں خاص طور پر کشمیری مسلمانوں پر جس طرح مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں یا ملک بھر میں کرپشن، بے ایمانی، دوغلاپن، معاشی نا انصافیاں، اسلامی نظام کو کھوکھلا کر رہی ہیں اس کا علاج کیا ہے؟
ہمارے نزدیک اس کا واحد حل اور حتمی علاج صرف اور صرف اقبال شناسی میں ہے لیکن اقبال شناسی اس طرح ہرگز ممکن نہیں ہے کہ نصاب کی کتابوں میں ان کی ایک نظم، ایک غزل یا شکوہ جواب شکوہ کے چند بند شامل کرلئے جائیں بلکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ماہرین اقبال کی کمیٹیاں بنا کر ان کے ذریعے ابتدائی کلاسوں سے لے کر ایم اے تک نصاب میں ”اقبال شناسی“ کو بطور لازمی مضمون شامل کرایا جائے ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ اقبال ہر عمر اور ہر دور کے ہر انسان کی ہر سوچ پر پورا اترتا ہے۔ صرف اقبال کا دن منالینے یا تقاریر کرلینے سے قوم اسکے افکار پر عمل پیرا نہیں ہوسکتی۔
اقبال کا مہ کامل بننے کے بجائے آج کی نئی نسل جس طرح بے روزگاری، مایوسی اور سماجی کرپشن کیوجہ سے ٹوٹے ہوئے تاروں کی طرح بکھر گئی ہے۔ اس کو فکری عروج و ارتقا عطاکرنے اور ہر لمحہ عملی جدوجہد میں مصروف رہنے کے فلسفے پر عمل پیرا کرنے کیلئے ”اقبال شناسی“ کیطرف ان کو لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے یوں وہ اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔ اور اپنی دنیا آپ پیدا کرنا ہی دراصل علامہ اقبال کو ان کے یوم پیدائش ورحلت پر خراج عقیدت پیش کرنے کی صحیح عملی صورت ہے۔