مریم نواز اور بینظیر بھٹو

مریم نواز اور بینظیر بھٹو

2013ء کے عام انتخابات سے چند روز پہلے ’’نوائے وقت‘‘ لاہور میں ہمارا ایک مضمون 8 مئی 13 کو اس موضوع پر شائع ہوا تھا۔ ’’مریم نواز، مستقبل کی بینظیر‘‘… اتفاق کی بات ہے کہ اب جناب نواز شریف کے ’’لاڈلے وزیر‘‘ اور ’’ناکام وزیرِ داخلہ‘‘ جناب چودھری نثار علی نے جو ’’قلابازی‘‘ کھانے کیلئے سخت بے چین ہیں اب ایک چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں غیر ضروری طور پر مریم نواز اور بے نظیر کے درمیان فرق کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ نیت صاف ظاہر ہے کہ وہ مریم نواز کی سیاسی طور پر حیثیت کم کرنا چاہتے تھے۔ مریم نواز، چودھری نثار صاحب کی ’’بیٹی‘‘ ہیں، اور بیٹیوں سے یہ رویہ جائز نہیں ہے۔فرق تو شخصیات کے درمیان ہوتا ہے جو فطری بات ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) ایک بہت بڑی سیاسی جماعت ہے۔ جناب نواز شریف کے رُخصت ہو جانے کے باوجود آج بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت، وفاق میں بھی ہے اور پنجاب میں بھی، مگر ’’اکلوتی‘‘ آواز جو حق گوئی اور بیباکی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ وہ مریم نواز کی آواز ہے۔ حالات اور اداروں کے دباؤ کے باوجود وہ بڑی بہادری مگر وقار اور متانت سے اپنے فرض کو نبھا رہی ہیں۔ اس صورتحال میں چودھری نثار کو مریم نواز کی سپورٹ ضروری ہے۔ محترم چودھری نثار علی جیسے لوگ جو کرتے رہے ہیں اور اب کر رہے ہیں، عوام بخوبی جانتے ہیں۔ وزارتِ داخلہ، وزیراعظم کا آنکھ اور کان ہوتی ہے۔ نواز شریف کیخلاف ایک جماعت بعض شخصیات سے سازباز کر کے اتنی بڑی ’’سازش‘‘ کرتی رہی اور سادگی کی انتہا کہ چودھری نثار نے کمال ہُنرمندی سے وزیراعظم کو خبر نہ ہونے دی۔ چودھری نثار بیباک، نڈر اور طوفان میں اُبھرنے والی واحد آواز مریم نواز کو لیڈر ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ تو اِس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ یہاں بھی مریم نواز اور بے نظیر میں مماثلت ہے۔ بے نظیر کے ’’انکل‘‘ کب بھٹو صاحب کی مشکلات میں یا جانے کے بعد بے نظیر سے خلوص کا مظاہرہ کرتے تھے۔ مصطفی کھر، غلام مصطفی جتوئی، بھٹوکے کزن ممتاز بھٹو، حفیظ پیرزادہ، کوثر نیازی اور خود آصف زرداری کے ابا جان حاکم علی زرداری وغیرہ وغیرہ۔ اُمید ہے جناب چودھری نثار علی خان، اعلیٰ ظرفی اور حسبِ روایت اصول پسندی کا مظاہرہ فرمائیں گے۔جہاں تک بے نظیر اور مریم نواز میں فرق کا تعلق ہے تو کیا جناب نواز شریف اور ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیات میں فرق نہیں ہے۔ اصل بات دانستہ طور پر چودھری نثار باوجوہ سمجھنا ہی نہیں چاہتے جو یہ ہے کہ طاقتور وزیراعظم کو خواہ وہ منتخب ہوا ہو، خواہ عوام میں بے حد مقبول ہو، چند ادارے پسند نہیں کرتے۔ ساری دُنیا کو خبر ہے، سب کو پتہ ہے مگر چودھری نثار معصوم بندے ہیں، اُن کو پتہ نہیں کہ اُس وقت کی سپریم کورٹ نے بھٹو کے ساتھ کیا کیا تھا۔ پھانسی کے حوالے سے فیصلہ سپریم کورٹ کا ہی تھا۔ یہ تو تاریخ اور ریکارڈ کی بات ہے۔ جناب چودھری نثار کا یہ حوالہ ’’وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا‘‘۔ خود شاید اُن پر صادق آتا ہے۔ اُنہوں نے وزارتِ داخلہ کے دوران نواز شریف سے ’’بیوفائی‘‘ کی۔ اب میاں صاحب کی صاحبزادی مریم نواز جو حالات کے زبردست جبر اور دباؤ میں اکیلی ہیں بلاسبب اُن کیخلاف شوشے چھوڑ رہے ہیں…ع
شاید کہ تیرے دل میں اُتر جائے میری بات
چودھری صاحب کو علم ہے کہ میاں نواز شریف ہر ایک کے روبرو، سجدہ ریز ہونے کے سخت خلاف تھے۔ آج وہ اپنے ’’جُرمِ برحق‘‘ کی سزا بھگتنے کیلئے تیار ہیں، میاں صاحب حق پر ہیں۔ کوئی کسی منصب پر ہو، بشمول چودھری نثار ایک نہ ایک روز تاریخ کے کٹہریے میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ سب کی باری لگے گی۔ خدائے ذوالجلال کی عدالت میں!
آپ ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں
ہم اگرعرض کریں گے تو شکایت ہو گی
اُمیدِ کامل ہے کہ جناب چودھری نثار جیسا، اصول پسند، اعلیٰ ظرف، ذہین سیاستدان دُرست قدم اُٹھائے گا اور اپنا اور جناب نواز شریف کا تمسخر اُڑانے والوں کو کوئی موقعہ فراہم نہیں کریگا۔ہم اپنے حوالے سے کسی حسنِ ظن اور غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں۔ اِس لئے یہ تو نہیں لکھیں گے ’’تجھے ہم ولی‘‘ سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا۔ مگر ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ ہمارا ایک مضمون 8 مئی 2013ء کو نوائے وقت لاہور میں بعنوان ’’مستقبل کی بے نظیر‘‘ سیاستدان، مریم نواز‘‘ محترمہ مریم نواز کی تصویر کے ساتھ شائع ہوا تھا۔ یہ چار سال پہلے کی بات ہے، اس حوالے سے اس موضوع کے دفاع کا فرض ہم پر عائد ہو گیا ہے۔ ہم نے لکھا تھا کہ ’’بے نظیر بھٹو ایک نمایاں جدوجہد کی روشن علامت تھیں اور مریم نواز اُمید کی کرن ہیں‘‘۔چودھری نثار کی اہم خدمات، مسلم لیگ سے دیرینہ وابستگی اور بہرصورت نواز شریف کا ساتھ نبھانے کا ماضی، انہیں لائق احترام شخصیت قرار دیتا ہے۔ ہمارا مقصد ہرگز چودھری صاحب کی سیاست کا ہدف بنانا نہیں ہے اور نہ ہی یہ کہ اُنکے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور شخصیات کے درمیان تنازعہ پیدا کیا جائے۔ البتہ ایک نازک موقع پر اشاروں میں ہی سہی مریم نواز کو نشانہ بنایا، چودھری صاحب جیسے نیک کردار شخص کیلئے مناسب نہیں تھا۔ایسا بار بار ہوا ہے کہ ’’نہ انصاف ہوتا ہے، نہ ہوتا نظر آتا ہے‘‘۔ انا پرستی انصاف کو کھا جاتی ہے۔ تب ایک مقبول لیڈر کو گاڈ فادر اور منتخب سیاسی جماعت کو مافیا کہہ دیا جاتا ہے۔ پھر عمران خان بار بار یہ الفاظ دُھراتے ہیں۔آج پھر ایک بیٹی ظالموں کو للکار رہی ہے۔ بے نظیر، نظم پڑھتی تھی۔ میں باغی ہوں۔ آج پھر لاہور کی فضاؤں میں مریم نواز کی آواز گونج رہی ہے۔ وہی شخصیت ہے، وہ ہی جادو ہے، وہ ہی کشش ہے، وہ ہی آواز ہے، وہ ہی سحر ہے، وہ ہی للکار ہے، وہ ہی اصرار ہے اور ’’ایوان‘‘ کانپ رہے ہیں۔ چودھری نثار نہ مانیں یہ اُنکا حق ہے۔بعض حوالوں سے دیکھا جاتا ہے۔ بے نظیر اور مریم نواز کی ایک ہی للکار ہے، ایک ہی صدا ہے، ایک ہی گونج ہے۔ ورنہ شخصیات میں فرق ہوتا ہے۔ صدا یہ ہے کہ جمہوریت پاکستان کیلئے لازم و ملزوم ہے۔یہ الگ بات ہے کہ چودھری نثار کا راستہ بھی اور ہے اور منزل بھی اور… دیانتداری کی بات یہ ہے کہ وہ مسلم لیگ کی قیادت کیلئے کسی طرح مناسب شخصیت نہیں ہیں۔ اِس بناء پر اُنکی حالیہ سیاست، ہماری عاجزانہ رائے میں بے نتیجہ رہے گی۔چودھری صاحب پیارے انسان ہیں۔ بہتر تو یہی ہے۔ ہم مشورہ دینگے کیونکہ چودھری صاحب کو یاد ہو، ہم اُنکے پُرانے مداح ہیں۔ چودھری صاحب ایسے وقت میں مریم نواز پر دستِ شفقت اور زخموں پر رکھیں۔ وہ عمران خان کے دوست ضرور ہیں مگر عمران خان کے قافلے میں شامل ہوئے تو سابق گورنر چودھری سرور کی طرح گُم ہو جائینگے جبکہ مریم نواز کا سیاسی قد و قامت، چودھری نثار کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اُن کی محنت، ریاضت، جرأت اور حوصلے کی بناء پر بڑھتا جا رہا ہے۔