معطل وزیراعظم نواز شریف اور فرد جرم!!

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک
معطل وزیراعظم نواز شریف اور فرد جرم!!

مشرقی جرمنی میں کمیونسٹ نظام سے نجات کے بعد ان کے لیڈر ہائیکر کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مقدمہ چلایا گیا اور سرکاری وکیل نے انہیں سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔ مسٹر ہائیکر جگر کے سرطان میں مبتلا تھے اور ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ وہ چھ مہینے سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ عدالت نے مسٹر ہائیکر کو موت کی سزا دینے کی بجائے چھ ہفتے زندہ رہنے کی سزا دی۔ بقول اقبال …ع
مرگ مشکل، زندگی مشکل تراست
کبھی کبھی زندہ رہنے کی گنجائش ملنے کے فیصلے بھی کسی سزا سے کم نہیں ہوتے۔ مسٹر ہائیکر تو یوں بھی زندہ رہنے کی تھوڑی سی گنجائش لئے ہوئے تھے لیکن اگر کوئی محسوس کرنے والا ہو تو ضمیر پر ملکوں اور قوموں کی تباہی کا بوجھ لے کر زندہ رہنا دشوار ہو جایا کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے عام آدمی تو چند دوستوں، عزیزوں رشتے داروں کے حقوق کی جوابدہی میں خدا کے قہر اور غضب کا شکار ہو جاتا ہے تو جہاں ذمہ داری کسی ملک یا پوری قوم کی ہو اور وہاں فرائض ٹھیک طرح سے ادا نہ کئے جائیں تو جوابدہ ہونے کا عمل کتنا سخت اور ’’مکافات عمل‘‘ کا سلسلہ کتنا طویل ہو سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا دشوار ہوتا ہے۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال جس میں معاشی بد حالی کا سلسلہ بھی شامل ہے اس کی ذمہ داری سیاستدانوں اور حکمرانوں کے کاندھوں پر ہے اور جس کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے یہ پاکستان کا خطہ ایسا تھا کہ یہ آزادی کے بعد ’’زرعی ملک‘‘ کی صورت میں تھا۔ لیکن یہاں صنعتی ترقی کی اشد ضرورت تھی اور بد قسمتی سے اس صنعتی ترقی میں ’’فیوڈل سٹرکچر‘‘ کی موجودگی نے ملک میں جمہوریت کی آب و ہوا کو برقرار رکھنے میں مشکلات بھی پیدا کیں اور جمہوریت کے اصلی حسن کہ جس میں طاقت کا سر چشمہ عوام کو ہونا تھا اس کو بھی مجروح کئے رکھا اور ملک میں اصلی شکل کی جمہوریت بھی قائم نہ ہو سکی اور امیر طبقہ امیر تر اور غریب طبقہ غریب تر ہوتا چلا گیا جبکہ متوسط طبقہ ناپید ہوتا چلا گیا۔ کیونکہ سماج کے ہنرمند افراد کا بھی خاتمہ ہوتا چلا گیا اور گھریلو صنعتوں کی بھی تباہی ہوئی اور زراعت کو تو بالکل ہی فراموش کر دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں زرعی زمین ہونے کے باوجود آج ہم ٹماٹروں کو ترس رہے ہیں۔ دراصل کسی بھی قسم کے انقلاب کا فائدہ چاہے وہ منفی ہو یا سیاسی انقلاب مگر معاشی انقلاب کے بغیر عوام کے فائدے کا نہیں ہوتا کیونکہ ایک تو دولت غیر منصفانہ تقسیم کا شکار ہوتی رہتی ہے اور دوسری طرف تمام ادارے حکمرانوں یا ان کے اتحادیوں اور دوستوں کے زیر اثر کر دیئے جاتے ہیں تا کہ مل جل کر کرپشن کا کھیل کھیلا جاتا رہے اور کوئی بولنے والا نہ ہو۔ پاکستان میں اس وجہ سے سرکاری اخراجات بے بہا لٹائے جاتے رہے ہیں۔ رشوت اور کرپشن کا بازار گرم رہا ہے اور اقرباء پروری کی وجہ سے میرٹ کی دھجیاں اڑائی جاتی رہی ہیں۔ بد قسمتی سے پچھلے دنوں ہی ایک پڑھے لکھے نوجوان انجینئر نے خود کشی کی اور لاہور میں ایک خاتون نے سڑک پر بچی کو جنم دیا۔ جبکہ حکمران الرجی کا علاج بھی برطانیہ اور امریکہ جا کر کروانا پسند کرتے ہیں۔ یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ قائداعظم کے بعد ہمیں ’’لیڈر‘‘ نہیں ملا۔ ہمارے دوست ملک چین میں بڑے کم عرصے میں انقلاب برپا ہوا تھا۔ چین کے لیڈر مائوزے تنگ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ فوج میں ملازم رہے تھے۔ پولیس کے محکمے میں بھی کام کیا تھا۔ صابن سازی کے کارخانے میں بھی کام کیا ایک کالج میں لائبریرین بھی رہے اور تاریخ، فلسفے اور دیگر علوم کا مطالعہ بھی کیا۔ تب انہوں نے لیڈر بن کر قوم کو ایک ایک پیسہ بچانے کی تلقین کی۔ اداروں میں بچت اور سادگی کی روایت قائم رکھنے کی ہدایت کی۔ ہم موجودہ معطل وزیراعظم اور ان کے خاندان کے اقتدار میں رہنے والے افراد اور سیاستدان بننے کا راستہ اپنانے والے افراد کا جائزہ لیں تو ان میں کسی کو فوج میں رہ کر مشقت والی ٹریننگ کا اندازہ نہیں۔ انہوں نے پولیس کو اپنا ملازم تو سمجھا مگر ان کے بچے ایک دن بھی دھوپ میں صبح سے شام تک کھڑے نہیں ہو سکتے ان میں سے کسی کو کسی کارخانے میں سارا دن کام کرنے والے مزدور کے دکھوں کا احساس نہیں اور نہ ہی نواز شریف یا شہباز شریف کو کو تاریخ، فلسفے یا دوسری زبانوں کے علوم کو سیکھنے یا دسترس حاصل کرنے کا شوق ہے تو پھر انہیں عوام کے مسائل کا نہ عملی تجربہ ہے اور نہ ہی علم ہے۔ اس لئے وہ بڑے بڑے ٹھیکوں والے بڑے بڑے پراجیکٹس تو کرتے ہیں مگر بڑے بڑے چوکوں، چوراہوں سے ہٹ کر گلیوں، محلوں کے اندر کی زندگی کو تبدیل کرنے کا نہیں سوچتے ہیں اور آج کل مشکلات کا شکار ہیں ہماری عوام کی چونکہ ’’جمہوریت‘‘ کے پھل کا مزا لینے کی صحیح تربیت نہیں ہوئی لہٰذا وہ ان باتوں کو اس ملک کی سلامتی کے نام پر بھی برداشت کرتے ہیں اور کسی حد تک ان حکمرانوں اور سیاستدانوں کے ہاتھوں سادہ مزاجی کی وجہ سے بے وقوف بھی بنتے رہتے ہیں اور جب یہ حکمران اور ان کی اولادیں لندن امریکہ کے دورہ سے واپسی پر یا پر فضا مقام پر اپنے دل و دماغ کو معطر کر کے واپس گلیوں محلوں میں چہرہ دکھانے کو جاتے ہیں تو عوام پھر نعرے مارنے نکل پڑتی ہے دراصل عوام کو ذہنی تربیت کی ضرورت ہے ورنہ وہ ’’فیوڈل سٹرکچر‘‘ سے آراستہ اس منفی انقلاب میں غلام بن کر رہنے کے سوا کچھ نہیں کر سکیں گے۔ پاکستان کے پہلے بجٹ کا ذکر کرتے ہیں جو فروری 1948ء میں پیش ہوا تھا۔ یہ بجٹ 80 کروڑ کا تھا جس میں 20 کروڑ پاکستان کے تھے اور 40 کروڑ تجارتی بنکوں کے تھے جبکہ 20 کروڑ نواب حیدر آباد دکن نے دیئے تھے۔ اس کے بعد سے آج تک قرضوں کی واپسی کا سلسلہ تو سوچا جاتا رہا مگر عملی طور پر ملک قرضوں کی دلدل میں دھنستا چلا گیا حتیٰ کہ آج ملک کی عمارتیں اور سڑکیں تک گروی ہیں مگر حکمرانوں کا کمال یہ ہے کہ ملک کا سارا اثاثہ گروی رکھ کر اپنی کامیابیوں کا اعلان کر کے عوام سے تالیاں بھی بجوا لیتے ہیں جبکہ ملک اندر ہی اندر کھوکھلا ہوتا چلا گیا۔ ملک کا یوں کھوکھلا ہو جانا ملکی معیشت کا تباہ حال ہونا اور پھر ایک مخصوص بنئے کا دونوں ہاتھوں سے اللّے تللّے اڑانا اور چند لوگوں کے ہاتھوں میں ادارے کا تباہ ہونا یہ سب منظر ان خالات میں سامنے آ رہا ہے جب ملکی سلامتی کے بعض معاملات انتہائی حساس اور اہمیت کے حامل تھے کیونکہ اب جنگ محاذوں پر آمنے سامنے کھڑے ہو کر نہیں بلکہ ان دیکھے ماحول کے اندر موجود حالات کی وجہ سے مسلسل عمل کی صورت موجود ہے لہٰذا افواج بھی مسلسل بر سر پیکار ہیں اور اسی صورت میں بہ تباہ حالی سلامتی کے تقاضوں کے ساتھ جڑ جاتی ہے اور یہ بات ہماری پسند نا پسند سے بالاتر نظر آتی ہے لہٰذا بدلتی دنیا کے نئے حالات میں نئے تقاضوں کے ساتھ ایمان دار قیادت ضروری ہو چکی ہے۔ معطل وزیراعظم اور ان کے ساتھی کرپشن کے کیسز بھگت رہے ہیں پروٹوکول کا شکار اور وی آئی پی کلچر کے دلدادہ حکمران اب مکافات عمل کا شکار ہیں۔ نواز شریف، مریم اور صفدر پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ بقول اقبال
مرگ مشکل، زندگی مشکل تراست!!