1818ء کا فرینکنسٹائن اور ہماری جمہوریت کا ڈھانچہ

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
1818ء کا فرینکنسٹائن اور ہماری جمہوریت کا ڈھانچہ

کتاب ایک بہترین استاد ہے۔ بعض اوقات صدیوں پرانی کتاب میں لکھی بات حال پر بھی پوری اترتی ہے۔ مثلاً یہ جملہ ہمیں اکثر سننے کو ملتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت راس نہیں آتی۔ اِس پر غور کریں تو ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے ہاں جمہوریت کا ڈھانچہ بنانے والوں سے کوئی مینوفیکچرنگ فالٹ رہ گیا ؟جس کے باعث ہم جمہوریت سے اس طرح مستفید نہیں ہوسکے جس طرح دوسرے ممالک جمہوریت کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ اس سوچ کو لے کر ماضی کی کتابوں میں جھانکیں تو 1818ء میں لکھا گیا ایک ناول ’’فرینکنسٹائن‘‘ یاد آجاتا ہے۔ اس شاہکار کی رائٹر ایک انگلستانی لڑکی مے ری شیلے تھی۔ یہ انگریزی ادب کی لازوال ڈرائونی کہانیوں میں سے ایک ہے۔ ناول کی مختصر آئوٹ لائن کے مطابق وکٹر فرینکنسٹائن جنیوا کے ایک امیر اور تعلیم یافتہ خاندان کا نوجوان تھا جسے کیمسٹری کے سائنسی تجربات کرنے کا بے حد شوق تھا۔ وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے جرمنی چلا گیا۔ ایک مرتبہ اس نے درخت پر آسمانی بجلی گرتی دیکھی جس سے ہرابھرا درخت جل گیا۔اس واقعے سے وہ بہت سہم گیا۔ اس کے علاوہ ماں کی موت کا بھی اُس پر بہت اثر ہوا۔ ان حادثات نے اس کے دل میں ایک خاص طرح کے سائنسی تجربات کرنے کا خیال پیدا کیا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ لیبارٹری میں ایک ایسی مخلوق پیدا کی جائے جو ناقابل تسخیر ہو۔ موت کو شکست دینے کے اس غیرفطری جنون پر فرینکنسٹائن نے کام شروع کردیا۔ اس نے اپنے چھوٹے سے رہائشی کمرے کو ہی لیبارٹری بنالیا۔ وہ مختلف جانوروں کے اعضاء اکٹھے کرتا، رات کے اندھیرے میں قبرستان سے ہڈیاں وغیرہ نکال کر لاتا اور ان اشیاء کو مختلف ترتیب سے جوڑتا رہتا۔ اس کی لیبارٹری میں ہرطرف گوشت، خون اور ہڈیوں کے ٹکڑے بکھرے رہتے۔ لیبارٹری کا پورا ماحول اتنا بدبودار ہوچکا تھا کہ وہاں سانس لینا بھی دشوار تھا لیکن فرینکنسٹائن نے اپنے مشن کی تکمیل کے لئے اسی لیبارٹری میں دو سال تک مسلسل تجربات کئے۔ اِس دوران اُس نے اپنے گھر والوں سے رابطہ بھی نہ کیا۔ دو برس کے بعد ایک اندھیری رات کو شدید برفباری ہورہی تھی جب اس نے اپنی تخلیق کردہ شے کا سوئچ آن کیا۔ عین اسی وقت بہت زور کی آسمانی بجلی کڑکی اور لیبارٹری میں روشنی پھیل گئی۔ فرینکنسٹائن نے دیکھا کہ اس کی تیار کردہ شے نے آنکھیں کھول دی ہیں اور اٹھ کر بیٹھ گئی ہے۔ فرینکنسٹائن اپنے انہوںنے کارنامے پر خوشی سے ناچنے کی بجائے نئی مخلوق کو دیکھ کر خوفزدہ ہوگیا۔ وہ 8فٹ کی بہت بدصورت بلا تھی جو اَب اس کے سامنے کھڑی تھی۔ فرینکنسٹائن انتہائی خوف کے عالم میں لیبارٹری سے بھاگ گیا۔ صبح کی روشنی میں ڈرتے ڈرتے جب وہ لیبارٹری میں واپس آیا تو وہ بلا وہاں موجود نہ تھی۔ تھوڑے عرصے بعد اسے اطلاع ملی کہ اس کے چھوٹے بھائی کو کسی نے قتل کردیا ہے۔ جب وہ اپنے گھر پہنچا تو اسے یہ بری خبر بھی ملی کہ اس کے چھوٹے بھائی کے قتل کے شبہے میں اس کی آیا کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ وہ اس سارے معاملے پر بہت حیران اور غمزدہ تھا۔ فرینکنسٹائن نے جب ان واقعات کے شواہد اکٹھے کئے تو وہ لرز گیا کیونکہ اس نے محسوس کیا کہ اس کے بھائی کی موت میں اسی بلا کا ہاتھ ہے۔ وہ بلا کی تلاش میں نکلا۔ آخر ایک ویرانے میں وہ اسے مل گئی۔ بلا نے اسے بتایا کہ لیبارٹری سے نکل کر جب وہ مختلف جگہوں پر گئی تو لوگ اس سے بہت خوف کھاتے اور نفرت کرتے۔ معاملہ اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ ایک دن اس نے اپنی شکل تالاب کے پانی میں دیکھی تو وہ خود بھی ڈر گئی کیونکہ وہ ناقابل یقین حد تک بدشکل تھی۔ بلا نے کہا کہ وہ اپنی بدصورتی کی وجہ سے اچھے اور خوبصورت لوگوں کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھی۔ بلانے فرینکنسٹائن کو کہا کہ میرے تمام مسائل کے ذمہ دار تم ہو کیونکہ تم نے ہی مجھے بنایا ہے۔ مجھے بنانے میں تم سے کوئی غلطی ہوئی یا تم نے جان بوجھ کر ایسا کیا، اس کا مجھے علم نہیں لیکن اب میں بہت مصیبت میں ہوں اور تم سے بدلے لیتی ہوں۔ تمہارے بھائی کو میں نے ہی قتل کیا اور اس کے گلے کا لاکٹ آیا کے پاس رکھ دیا تاکہ قتل کا شبہ اس پر ہو۔ بلا نے کہا کہ صرف ایک صورت میں تمہاری جان چھوٹ سکتی ہے کہ تم میری ہی طرح کی ایک اور بلا بنائو تاکہ میں اس سے شادی کرکے اپنی تنہائی دور کرسکوں۔ فرینکنسٹائن نے اپنے خاندان کو بچانے کے لئے نئی بلا پر کام شروع کردیا۔ جب وہ اس مشن کی تکمیل کے قریب تھا تو اس کا دوست لیبارٹری میں آیا اور فرینکنسٹائن کو سمجھایا کہ اگر یہ دو بلائیں اکٹھی ہو گئیں تو ان کے بچے بھی پیدا ہوںگے جو دنیا میں تباہی لائیں گے۔ لہٰذا تم یہ مشن چھوڑ دو۔ وہ بلا کھڑکی میں کھڑی دوست کی باتیں سن رہی تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر دوست کی گردن مروڑ دی۔ فرینکنسٹائن نے پستول اٹھاکر بلا پر فائر کئے لیکن وہ بچ گئی۔دکھی فرینکنسٹائن اپنے گھر واپس چلا گیا اور اپنی محبوبہ سے شادی کرلی۔ پہلی رات کو جب فرینکنسٹائن دوسرے کمرے سے کوئی چیز لے کر واپس اپنے کمرے میں آیا تو اپنی محبوبہ بیوی کو مردہ پایا۔ اس نے دیکھا کہ کھڑکی میں وہی بلا کھڑی تھی۔ ان تمام صدمات کے باعث اس کے والد کا بھی انتقال ہوگیا۔ فرینکنسٹائن اپنے آپ کو اپنے خاندان کی تباہی کا ذمہ دار سمجھنے لگا۔ اب اس کا ایک ہی مشن تھا کہ وہ کسی نہ کسی طرح اُس بلا کو نیست و نابود ردے۔ بلا آگے آگے ہوتی اور وہ پیچھے پیچھے۔ آخرکار بلا نے ایک دور دراز برفانی جزیرے میںڈیرے ڈال دیئے۔ فرینکنسٹائن نے ایک بحری جہاز کے کپتان کی منت سماجت کرکے اس طرف چلنے کو کہا۔ کھلے سمندروں کا طویل سفر کرنے کے بعد بحری جہاز برفانی تودوں میں پھنس گیا۔ جنونی فرینکنسٹائن نے سمندر میں تیرکر اس برفانی جزیرے تک جانے کی کوشش کی لیکن یخ ٹھنڈے پانی کے باعث وہ راستے میں ہی مرگیا۔ جہاز کے کپتان نے فرینکنسٹائن کی لاش نکال کر جہاز کے عرشے پر رکھ دی۔ کچھ دیر بعد کپتان نے دیکھا کہ ایک خوفناک بلا فرینکنسٹائن کے پاس کھڑی تھی اور آنسو بہاتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ اس کی تباہی کی ذمہ دار میں ہوں جبکہ میری تباہی کا ذمہ دار یہ ہے کیونکہ مجھے بناتے وقت اس نے میری خوبصورتی کا خیال نہیں رکھا۔ یہ مرگیا ہے اور میں اب اپنے آپ کو برفانی جہنم میں غرق کرلوں گی۔ کیا پاکستان میں بھی جمہوریت کا ڈھانچہ بناتے وقت اس کی خوبصورتی کا خیال نہیں رکھا گیاتھا؟ کیا موجودہ جمہوری ڈھانچے میں سے سیاست پر خاندانی قبضے اور کرپشن کی بدصورتی کو نکال کر جمہوریت کو خوبصورت بنانے کی ضرورت نہیں ہے؟