’’ اقتدار کی چابی عوام کے پاس ‘‘

کالم نگار  |  مسرت قیوم
’’ اقتدار کی چابی عوام کے پاس ‘‘

میک اپ ۔ ٹی وی ۔ کھلونے کی حد تک ٹھیک سہی مگر کھانے پینے کی تمام اشیاء پر 80" فیصد" ڈیوٹی کا نفاذ۔ بروقت انصاف سے گریزاں حکومت ڈیوٹی وصولی میں اتنی بے قرار کہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ۔ فیصلہ کے ساتھ ہی حکم نافذ بھی ہوگیا ۔ اب ایک طوفانِ بد تمیزی برپا ہے ۔80" فیصد" اضافہ اشیائے خوردنی و دیگر اشیائے صرف پر حکومت کی طرف سے ہوا ۔ بقیہ اضافہ" منافع خور مافیانے کر دیا ۔ بھلے وقتوں میں ایک پیسہ اضافہ پر سڑکیں مظاہرین سے بھر جاتی تھیں ۔ اسمبلیاں مچھلی منڈی بن جاتی تھیں ۔ عوام کا دباوٗ ۔ حقیقی اپوزیشن کا شور مِل کر فیصلہ واپس کروا لیتے تھے پر اب قو م اور اعصاب "ایمان "کی طرح کمزور ۔ضعیف ہو چکے ہیں ۔ گھر میں پڑے پڑے لوگ جوتے کھا رہے ہیں مگر بد مزگی کا نشان ہے نہ آثار ۔ موج میلے پر آئی اشرافیہ ۔ دنیا میں جہنم بُگھتنے پر قادر قوم ۔ اِن کے دُکھوں پر لکھنا بھی اب خود کے دماغ کو کچوکے لگاتاہے ‘پر لکھنا مجبوری ہے کیونکہ" تصویر" اچھی نہیں تھی تو "سچ" بولا تھا مگر اعتراف کی بجائے لٹھ لیکر چڑھ دوڑے اُسی منہ سے اب واپسی کی خبریں رواں ہیں ۔ رجوع کی اطلاعات ہیں ۔ خود" وزیر تجارت "کا قائمہ کمیٹی میں اعتراف ریکارڈ پر ہے کہ معیشت کے بُرے حالات ہیں۔ واحد چیز جو موجود ہے وہ ہے بے حسی ۔ اصل ۔ متعین فرائض سے دانستہ غفلت ۔ پہلو تہی ۔ جمہوریت دل ۔ جان سے عزیز ہے ۔ مگر جمہوری روایات کی پاسداری ۔ نفاذ کے90 ڈگری مخالف ۔ آئین کے مطابق چلنے کا عزم بہت۔ پر دوسروں کے لئے اپنا لائحہ عمل یکسر اُلٹ ۔ حکومتی موقف کی پُر زور حمایت کرتے ہیں کہ" حکومت سازی کا اختیار عوام کا حق ہے ۔ جمہوریت چلے گی تو بہتری آئے گی "۔ سوال یہ ہے کہ35 سالوں سے مسلسل بر سر اقتدار چلے آرہے" لوگ "اب مزید کیا تمنا کر رہے ہیں ؟ کِس خواہش کی تکمیل تشنہ ہے ؟۔ طویل ترین دورِ جمہوریت ۔ "جمہوریت" ہے کیا چیز ؟ اِس کی روح کیا ہے ؟ جمہوریت میں حکمرانوں کی ذمہ داری اور عوام کے حقوق کا تناسب ۔ تقاضا ۔ مشن کیا مذکور ہے ؟ کیا ہم یا حکمران غافل ہیں۔ حقائق سے نابلد ہیں ۔
یہ کیسی جمہوریت ہے کہ حکومتی قرضے" 568 ارب سے823 ارب "ہوگئے ۔ آسمان کو چھوتے قرضوں کے کوہ ہمالیہ سے خوشحالی کی کوئی لہریں لپکتی ہوئی نظر آئیں ۔ ترقی ۔ ترقی کے راگ الاپتے گانوں کی مدھر موسیقی عوام کے کانوں کو ابھی تک کیوں نہیں لُبھا پائی ۔ عوام کو نہ نظر آنے والے "سایوں" سے ڈرانے والے خاطر جمع رکھیں۔ انصاف کی چھلنی سے سب کو اب گزرنا پڑے گا ۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا ۔ جن خود تراشیدہ خاکوں ۔ شبِ خون سے خوفزدہ کیا جارہا ہے ۔ نہ بوٹوں کی چاپ ہے نہ قبل از وقت رُخصتی کی تمنا بر آئے گی ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جمہوریت کو واقعی خطرہ ہے ۔ شدید ترین بحران کا سامنا ہے تو اپنے رویوں سے ۔ اعمال سے ۔ اداروں سے تصادم نہ کرنے کا مشورہ اب بھی بروقت ہے ۔ اِس قبیل کے پیغامات ۔ مشورے پہلے بھی بروقت تھے ۔ "حکومت بمقابلہ حکومت" کی روش جمہوریت کے کِس باب کا عنوان ہے ؟ اب صورتحال یہ ہے کہ جس اختیار کو عوام کے ہاتھ میں ہونے کی بازگشت سُنائی جارہی ہے وہ ہماری 72" سالہ تاریخ "کا ووٹ بینک ہے۔ 35"سالوں" سے مستفید ہونے والوں نے اپنے "بینک "کے ساتھ کیا سلوک کیا ۔ ایک نہیں ۔ دو نہیں یکمشت 80" فیصد" کا وولٹ گِرا دیا ۔ چلئیے مان لیتے ہیں ڈیوٹی درآمدی اشیاء پر لگائی گئی ۔ یقینا اشیائے تعیش کی آمد کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے مگر جو اضافہ مُلکی ساختہ چیزوں ۔ پیداوار پر ہوگا (جو کہ پہلے ہی کنٹرول ۔ چیک سے باہر ہیں) اُس کو کون روکے گا ۔ منڈی تو پہلے ہی عرش تک پہنچ چکی ہے۔ سادہ سا اصول سمجھ نہیں آیا کہ ٹیکس جتنے زیادہ لگیں گے ۔ "ریونیو" اُتنا ہی زمین کو چھوئے گا۔ ماضی گواہ ہے ۔ صرف ملک ہی نہیں ۔ سرکاری اداروں پر قرضوں کا حجم1000"ارب " روپے سے بڑھ چکا ہے ۔ سرکاری تحویل میں ادارے کالے پتھر کی چٹان مانند ہیں ۔ نہ کھود سکتے ہیں نہ کھا سکتے ہیں ہر دو صورت میں موت کو از خود دعوت ۔ ایک بوجھ کی صورت ہے ۔ ادارے حکومت پر اور حکومت عوام پر ۔"بقول وزیر خزانہ" ۔ معیشت مستحکم ہے اگر سرمایہ کاری اور ٹیکسوں میں اضافہ ہوا ہے اُس کے فوائد کِس طرف منتقل ہوئے (اِس دعویٰ کی روشنی میں) ۔ بنیادی ضروریات پر 80"فیصد ڈیوٹی" لگانے کی تُک ؟ ہمارا "معاشی ان داتا عالمی بینک" خبردار کر رہا ہے کہ مالیاتی خسارہ بڑھ رہا ہے ۔ اگلے سال ادائیگیوں کے لیے17" ارب "کی ضرور ت ہوگی ۔ قارئین روپے نہیں 17" ارب ڈالرز"۔
"اقتدار کی چاپی عوام کے پاس"۔3مرتبہ وزیراعظم بننے والے" میاں نواز شریف "جب یہ کہتے ہیں تو کچھ بھی غلط نہیں ۔ بھروسہ اتنا کہ "عوام ہمیں دوبارہ لائیں گے"۔ مگر درد ۔ احساس زیرو ۔ ایک وقت کی روٹی نہ کھا سکنے والے پے در پے غلط فیصلوں کی زد پر ہیں ۔ سبزی بحران ۔ پٹرول قیمت میں اضافہ اب یکدم ہو شربا ڈیوٹی کا نفاذ ۔اپنی ہی "چابی" پر اتنا کار ی وار ۔ ڈیوٹی لگانی ہے تو" سگریٹ ۔ شراب" پر لگائیں ۔ عوام کی صحت کا خیال ہوتا تو سب سے پہلے یہ خرافات پابندی میں آتیں ۔ اُسی موقع پر" چھوٹے میاں صاحب" نے مشاورت کا دائرہ وسیع کرنے اور مشیروں کے غلط مشورے کے نتائج بتلائے تو یہ سب بھی صائب تھا ۔ دنیا بھر میں اپوزیشن کو حکومت سے لڑتے دیکھا ۔ سُنا ہے مگر حکومت کو خود سے لڑتے ۔ اپنے ہی "بینک" (عوام) میں نقب لگاتے کبھی نہیں دیکھا ۔ عوامی بہبود کے حقیقی ترجمان ہوتے تو "ماہر ارضیات" کی تحقیق پر کان ضرور دھرتے ۔ "سونا ۔ چاندی ۔ دولت "کھودنے سے دریافت ہوتے ہیں ۔ پچھلی تحقیقات کو چھوڑیں ۔ حالیہ انکشاف پر عمل کرلیں کہ "آزاد کشمیر "کے پہاڑ "نصف ارب ڈالرز یاقوت" کے مالک ہیں ۔ مالک اسلئیے لکھا کہ جب تک "یاقوت "مدفون ہیں وہ مالک ہیں ہم محروم ۔ جب "چھوٹے میاں صاحب "کہتے ہیں کہ خالی نعروں ۔ تقریروں سے خدمت نہیں ہوتی تب بھی ہم شک نہیں کرتے مگر جب پڑھتے ہیں کہ ہر شعبہ زندگی کی طرح قومی بینک میں 100سے زائد سنیئر عہدے سیاسی بھرتیوں کا ورثہ ہیں ۔ نہ اشتہار ۔ نہ قاعدے قانون کی پابندی ۔ بس منظورِ نظر ہونا وصف ٹھہر ا تو پھر دل پر شکوک کے دھبے مزید گہرے ہو جاتے ہیں ۔ جو ایک مرتبہ بھرتی ہوگیا ۔ طبعی رخصتی نے اُتارا ۔72" سالوں" سے کھربوں روپے کی کرپشن میں سوئمنگ کرتی" ایک کروڑ اشرافیہ" کا دل ابھی نہیں بھرا ۔" احمد پور شرقیہ" کا یہ سانحہ کِسی کا بھی دل موم نہ کر پایا مگر یقین ہے کہ" وزیر اعلیٰ پنجاب" ضرور نوٹس لیں گے اور اِس بات کا بھی کہ پنجاب کے "اے سی ۔ سیکشن افسر"10 سال سے ترقی سے محروم ہیں ۔ محرومیت کا خاتمہ میرٹ پر عمل درآمد سے ممکن ہے اور" خادم اعلیٰ" میرٹ کی بالادستی کے ہمیشہ خواہاں نظر آئے ۔ گزشتہ ماہ حکومت نے نجکاری کا پروگرام بحال کرتے ہوئے 16"اداروں "کی فہرست تیار کی تھی ۔ یہ فیصلہ بھی غلط نہیں ہوگا اگر ’’عوام نامی ادارے ‘‘کو بھی اِس لسٹ میں شامل کر لیں ۔