آمریت اور جمہوریت میں فرق ایک ہے

آمریت اور جمہوریت میں فرق ایک ہے

آمریت میں بھی ایک صدرِ مملکت ہوتے ہیں۔ جنرل ایوب خان پہلے مارشل لاء میں صدرِ مملکت تھے۔ اِس میں شک نہیں کہ ’’آمر‘‘ یعنی الیکشن کے بغیر لوگوں کے ووٹوں کے بغیر صدارت سنبھالنے کے باوجود ایوب خان نے پاکستان کے لئے بہت کام کیا۔ ملک میں اُن کا دورِ حکومت واحد دور تھا جب ’’ڈیم‘‘ بنائے گئے۔ یوں زرعی انقلاب آیا۔ صنعت کے حوالے سے اُنہوں نے انفرا اسٹرکچر رکھا۔ اُن کے دور میں ترقی ہوئی۔غیر جمہوری حکومت ہونے کے باوجود دُنیا میں پاکستان کا وقار تھا، امریکہ تشریف لے گئے تو صدر امریکہ استقبال کے لئے آگے، امریکہ کے نائب صدر جانسن نے پاکستان کا دورہ کیا، مقبول شخصیت جیکولین کینیڈی امریکہ کی خاتونِ اول پاکستان آئیں، ملکہ برطانیہ نے پاکستان کا دورہ کیا۔ ایوب خان کے دور میں دُنیا بھر کے معروف حکمران، سوئیکارنو جیسے پاکستان آمد پر فخر کرتے تھے۔ اشیائے ضرورت سستی تھیں۔ ایک غریب آدمی کا یقین کیجئے سو روپے 100) روپے) ماہانہ میں گزارا ہو جاتا تھا۔ یہ آمرانہ حکومت کی کمزوری ہے کہ جب عوامی تحریک چلی تو ایوب خان کی حکومت ریت کی دیوار ثابت ہوئی، نام نہاد اسمبلی بھی تھی، ججز بھی تھے، عدالت بھی تھی، بہترین افواج بھی تھیں۔

مگر اتنا مقبول فوجی صدر ایک معمولی عوامی احتجاج کا سامنا نہ کر سکا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں 6 ستمبر 1965ء کی دوپہر کلمۂ طیبہ پڑھ کر ایوب خان نے قوم میں بھارت سے ٹکرا جانے کا ولولہ پیدا کر دیا۔ لیکن ایک چیز کی کمی تھی۔ یہی آمریت اور جمہوریت کا فرق ہے۔ دس سالہ دور میں ووٹوں سے منتخب مقبول سیاستدان نہیں تھا۔ ایوب خان کے بعد جنرل یحییٰ خان تشریف لائے۔ ایک نہایت غیر مقبول اور عقل سے محروم شخص جس نے پاکستان کو دولخت کر دیا۔ ہمارے تحریک انصاف کے صف اول کے رہنما جناب اسد عمر، جو اسلام آباد سے منتخب رکن اسمبلی ہیں، اور گورنر سندھ زبیر عمر کے والدِ محترم جنرل عمر یحییٰ خان کے مشیر تھے۔ اِس دور میں بھی یہی کمی تھی کہ کوئی مقبول سیاسی منتخب رہنما حکومت میں نہیں تھا۔
1970ء میں پہلے عام انتخابات ہوئے مگر پاکستان کے دو حصوں میں الگ الگ قیادت منتخب ہوئی۔ مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن جو آج کا بنگلہ دیش ہے اور مغربی حصے میں ذوالفقار علی بھٹو، یہ الگ بات ہے کہ ہم نے بطور پاکستانی تقسیم پاکستان سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کریہاں ہم ایک اضافی بات کریں گے۔ اِس کا مطلب کسی قسم کے تعصب کا اظہار نہیں۔بلکہ ایک تاریخی حقیقت کی نشاندہی ہے۔ پاکستان اللہ کی دین ہے، اِس ملک کی بنیادوں میں ہزاروں مسلمانوں کا خون شامل ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جن سیاستدانوں کی سازش سے پاکستان ٹکڑے ہوا، ملکوں کے مختلف ہونے کے باوجود اُن سیاستدانوں اور اُن کی اولادوں کو فطری موت نصیب نہ ہو سکی۔بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی سب سے آگے تھیں مگر یہ تقدیر کا کرشمہ ہوا کہ اندرا گاندھی خود اپنے گھر میں سِکھ حفاظتی گارڈ کے ذریعے ہلاک ہوئیں۔ اُن کے ایک بیٹے سنجے گاندھی خود اندراگاندھی کی زندگی میں فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد اُن کے بیٹے راجیو گاندھی برسرِ اقتدار آئے، جو خاتون خودکش حملہ آور کے حملے میں مارے گئے۔ ہمارے مُلک میں تو خودکش حملہ آوروں کی ’’وبا‘‘ اب آئی ہے، بھارت میں بہت پہلے آ چکی تھی۔ پاکستان میں جناب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ اُن کے ایک بیٹے شاہنواز بھٹو کو زہر دیا گیا۔ دوسرے بیٹے مرتضیٰ بھٹو خود اپنی بہن بے نظیر بھٹو کے دورِ اقتدار میں مارے گئے۔ بے نظیر، پنڈی میں ہلاک کر دی گئیں۔ بنگلہ دیش میں بھی ایسے ہی واقعات نے جنم لیا۔ بنگلہ بندھو مجیب الرحمن فوجی انقلاب میں مارے گئے۔ اُن کے سارے خاندان کو قتل کر دیا گیا۔ موجودہ وزیراعظم حسینہ واجد اس لئے محفوظ رہیں کہ بیرونِ وطن تھیں۔
یہ تاریخ کا سبق ہے۔ جو عبرتناک بھی ہے اور دردناک بھی ہے۔ تیسری آمریت ضیاء الحق کی تھی۔ فوج بھی تھی۔ عدلیہ بھی بعد میں غیرجماعتی نام نہاد الیکشن بھی مگر مقبول سیاسی قیادت نہیں تھی۔ خود ضیاء الحق بھی 17 اگست 1988ء کو ایک فضائی حادثے میں مارے گئے۔ 1999ء میں جناب نواز شریف کو بے اقتدار کرنے کے بعد جنرل پرویز مشرف کی تشریف آوری ہوئی۔ سارے کمالات دکھانے کے باوجود آخر مقبول سیاسی قیادت بے نظیر اور نواز شریف کو پاکستان آنے کی اجازت دی گئی۔ دونوں مقبول رہنما ایک ’’پیج‘‘ پر تھے۔ جو اب نہیں تھیں۔ بے نظیر الیکشن مہم کے دوران ہلاک کر دی گئیں۔ زرداری صاحب پی پی کے کرتا دھرتا ہو گئے۔ یہ حقیقت ہے کہ نواز شریف اور پی پی کی قیادت ایک "Page" پر تھی تو اُنہوں نے مشرف کو یوں بے اقتدار کر دیا، جیسے دودھ سے مکھی کو نکال دیتے ہیں۔ جب تک مفاہمت میں رہے زرداری صاحب جیسے کم پڑھے لکھے شخص پانچ برس صدارت کر گئے۔ جناب نواز شریف اب عمران خان کی ایک Petition کے ذریعے بے اقتدار ہو گئے ہیں۔ مقبول قیادت کو بیدخل کر کے مُلک نہیں چلائے جا سکتے۔ نواز شریف بے اقتدار ہیں تو کسی ادارے کو بھی وہ ’’قرار‘‘ حاصل نہیں ہے جو ملکوں اور قوموں کو استحکام اور ترقی کے لئے حاصل ہوتا ہے۔لوگ منتظر ہیں مگر تادمِ تحریر عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف فیصلہ نہیں آیا ہے۔ بے دِلی، مایوسی، افراتفری، انتشار ملکوں کو ہلا دیتے ہیں۔
آمریت اور جمہوریت میں ایک ہی فرق ہے کہ آمریت میں کوئی مقبول سیاسی قیادت نہیں ہوتی اور جمہوریت میں مقبول سیاسی قیادت قوم کے لئے حوصلہ مند ہوتی ہے۔ جی ٹی روڈ پر مشوروں کے باوجود جناب نواز شریف تشریف لے گئے۔ اُنہوں نے اپنی مقبولیت ثابت کر دی ہے۔ حلقہ 120 کے انتخاب میں مریم نواز نے تنہا اپنی بیمار والدہ کی مُہم چلا کر مقبولیت ثابت کر دی ہے۔ مصنوعی طریقوں سے قومی قیادت ختم نہیں ہو سکتی۔ کوئی گاڈ فادر اور مافیا قرار دے کر دِل کی آگ ٹھنڈی کر لے۔ وہ الگ بات ہے۔ نواز شریف لوگوں کے دِلوں میں ہے۔ رکاوٹیں کیوں کھڑی کرتے ہیں۔ الیکشن کتنا دور ہے؟ الیکشن سے پہلے یہ اکھاڑ پچھاڑ کیسی۔ عمران خان اور اکیلا رُکن، ایک سیاسی جماعت کا… کیوں اداروں کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔ عمران خان جلسوں پر جلسے کیوں کر رہے ہیں۔ کس ادارے کو ڈرانا چاہتے ہیں؟ نواز شریف، اپنی شرافت اور سادگی کی وجہ سے لوگوں کے دِلوں میں ہے۔
جو دلوں کو فتح کر لے وہ ہی فاتح زمانہ