’’خدا کرے کہ‘‘

کالم نگار  |  مسرت قیوم
 ’’خدا کرے کہ‘‘

خدا کرے کہ پاکستان میں امن و استحکام ہو، ’’مسیحیوں‘‘ کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند ہو جائے۔ ’’یورپ فرانسیس‘‘ یہ دعا تو پوری قوم کے لبوں پر ہے چرچ آف انگلینڈ نے بعد میں رد عمل دینے کا بیان جاری کیا جبکہ برطانوی ہائی کمشنر نے متاثرہ لوگوں سے اظہار ہمدردی کیا ہے پوری قوم اس آگ سے متاثرہ ہے حسب روایت سرکار نے کارروائی کو بزدلانہ فعل قرار دیا، بے قصور، نا حق کو مارنے والا ہمیشہ بزدل ہی ہوتا ہے چھپ کر وار کرتا ہے سو اس دن بھی یہی کچھ ہوا زمین لرز اٹھی اور پھر افراتفری بھگڈر مچ گئی۔ میلوں تک دھماکوں کی گونج سنی گئی لوگوں میں اشتعال کا یہ عالم تھا کہ موقع پر موجود دو افراد کو مشکوک سمجھ کر زندہ جلا ڈالا، انسان کے ہاتھوں انسانیت کش، وحشیانہ حرکت کی وہ تصویر کہ پتھر کے دور کا زمانہ متمدن و مہذب اور چنگیز خان معصوم معلوم ہونے لگا چند گھنٹوں میں اپنے ہی لوگوں نے اپنے ہی وطن کی املاک کو جلا دیا توڑ پھوڑ کا تماشا لگا خوب سڑکوں پر اور میڈیا کو 24 گھنٹے کی خوراک، دوائی مل گئی۔ ہلاک ہونیوالوں میں 7 مسلمان بھی شامل تھے۔ اس سانحہ کو بین المذاہب تصادم سے تعبیر کرنا درست نہیں 13 سال سے جاری جنگ میں اسکولز، مساجد، امام بارگاہیں، شاپنگ مراکز، فوجی تنصیبات، خاکی و سول ملازمین حتیٰ کہ پاک فوج کے متعدد جرنیل بھی سفاکیت کا شکار ہوئے حملہ ایک طبقے پر ہویا ایک شہر یا کسی بھی عمارت پر یہ ملک پر حملہ ہوتا ہے۔ سب لوگ اس ملک کے باشندے ہیں لوگوں کو جلانے کا واقعہ چرچز پر حملے سے بھی زیادہ غیر انسانی، قابل مذمت فعل ہے۔ یقیناََ بے لاگ، بے رحمانہ اقدامات کئے بغیر اس ناسور کو اکھاڑنا ممکن نہیں۔ اس کے تدارک کیلئے بنائی گئی فورس کے دعوے حکومتی رٹ کی طرح مفقود النجر تھے۔ شدید عوامی رد عمل میں پولیس کو استعمال نہ کرنے کا فیصلہ درست تھا مگر کچھ ایسا ضرور کیا جانا چاہیے کہ احتجاج میں سازش اور تشدد کا عنصر نہ ملنے پائے۔ برقی چینلز کے آگ لگاتے ماحول میں بیٹھ کر جو لوگ لفظی بارود برساتے ہیں جب کوئی ٹریجڈی ہوتی ہے تو ان کی تلواریں غائب ہوتی ہیں موجودگی کا سراغ ہی نہیں ملتا۔ معاشرے میں بڑھتا ہوا تشدد ناراضی کی وجوہات معاشی نا انصافی، سماجی درجہ بندی اور ایک کلاس کی بے انتہا فروغ پاتی امارت ہے۔ انتہا درجہ کی مایوسی، غم شدید اشتعال کا باعث بن رہا ہے۔ جس نظام میں عوامی شنوائی نہ ہو۔ اس کا کیا فائدہ سیاست سے کاروباری مراکز تک، پیشہ وارانہ تنظیموں سے اداروں تک احتجاج، شکوہ، مظاہرے، شور ہے، الزامات کا گند ہے مگر متاثرہ صرف عوام ہیں۔ تکلیف دہ زندگی کا بوجھ صرف عام آدمی پر پڑ رہا ہے جب بھی کوئی بُری صورتحال جنم لیتی ہے تو دل میں دو طرح کے خیالات ابھرتے ہیں۔ بیانات کے آئینہ میں دیکھیں تو حکومت مظلوم نظر آتی ہے اور عوام کی عدالت میں کھڑے ہوں تو انتہا درجے کی ظالم لاپرواہ ۔یہ سوچ بھی ضرور سر اٹھاتی ہے کہ واقعی حکومت کیخلاف کوئی سازش تو نہیں ہونے جا رہی۔ پاکستان مختلف مذاہب کے حامل لوگوں کا گلدستہ ہے۔ خدا کرے کہ دشمن کی سازشیں اور اپنوں کی ملی بھگت اور مکاری ختم ہو۔ اس دیس کی مٹی میں امن کا خیر جاگے۔ امن کے پھول لہرائیں، برسوں بعد کراچی سے تازہ ہوا کی خوشبو چلی ہے تو یہ دھرتی ضرور ناسور پر قابو پا لے گی۔ اربوں روپے کی کرپشن، ٹارگٹ کلنگز، بد انتظامی، بغضِ وطن کی سینکڑوں کہانیاں، چشم دید واقعات، ناقابل تردید کہانیاں۔ کیا سب قومی اداروں سے پوشیدہ تھا۔ خرابی کو اتنا بڑھنے کیوں دیا گیا کہ کینسر بن گئی۔ اب اگر بگاڑ کو سدھارنے کا آغاز کر دیا ہے تو یاد رکھیں پیچھے ہٹنے یا کسی کو رعایت دینے کا آپشن ختم ہو چکا ہے۔ یہ قوم دھرنوں کی سیاست کے بعد کی باشعور اور اپنے حقوق سے آگاہ قوم ہے۔ دہشت گردی کے چند واقعات میں عوامی ناراضی کے شدید مظاہر میں عوامی مسائل کے علاوہ شرپسند عناصر کی شرارت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ قومی قیادت پر لازم ہے کہ سبق سیکھے۔ سڑکوں پر احتجاج، دھرنوں کو خلافِ قانون قرار دے دیں۔ پہلے بھی تجویز کیا تھا کہ ایسے کاموں کیلئے ہر شہر کے کچھ پارک مخصوص کر دیے جائیں تا کہ روز مرہ زندگی کے معاملات متاثر نہ ہوں۔ خدا کرے کہ مفاہمتی سیاست کے علاوہ اس پہلو پر بھی اتفاق رائے ہو جائے۔ آسمان سیاست پر کچھ نئے اتحاد بننے جا رہے ہیں کچھ عرصہ کیلئے ن لیگ اور پی ٹی آئی کی مفاہمتی پتنگ ہی خوب نظارہ دکھائے گی۔ کوئی کتنا ہی زیرک، دانا کیوں نہ ہو، چالاکی میں کسی نہ کسی مرحلہ پر مار ضرور کھاتا ہے۔ گھن گرج دن بدن منمناہٹ میں بدلتی جائے گی۔ پی پی پی نے مشکل وقت کے ساتھی کا انتخاب کر کے راستہ بند کر دیا ہے۔ عوامی کو محب وطن اداروں سے بڑی توقعات ہیں۔ سیاست میں بھتہ، قتل و غارتگری، عسکری ونگز کا کیا کام، جس شہر، جس پارٹی میں بھی ایسے لوگ اور ایسے کام ہیں، کوئی رعایت نہ کی جائے۔ اس ضمن میں چودھری نثار کا پالیسی بیان بڑا واضح اور جاندار تھا۔ قوم کو تقسیم کرنے کی سازش حکومت ناکام بنا دے۔ اس موقع پر مسیحی برادری کا رد عمل بھی فضا کو خوشگوار بنانے کا باعث بنا، مسلمان، عیسائی برابر کے شہری اور محب وطن ہیں۔
’’بھارت بُری مثال کیوں نہیں‘‘
پاکستان کو شاید اسلامی ملک ہونے کے ناطے جرم سے زیادہ جرمانہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ انڈیا میں 75 سالہ عیسائی راہبہ کی بے حرمتی پر مسیحی برادری سراپا احتجاج ہے مگر عالمی برادری کی طرف سے اس کی مذمت میں ایک سطر بھی پڑھنے کو نہیں ملی حالانکہ یہ واقعہ انسانیت پر دھبہ ہے اور وہاں عیسائیوں پر حملے بھی جاری ہیں اور یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ انڈین تاریخ اقلیتوں کے ساتھ غیر مناسب، شرمناک مظالم، سلوک اور بے حرمتی کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ہم تو بیرونی سازشوں کا شکار ہیں۔ انڈیا میں تو ایسا کچھ نہیں۔ دنیا کے سامنے انڈیا بُری مثال کیوں نہیں بنا؟؟