کراچی آپریشن!

کالم نگار  |  رابعہ رحمن
 کراچی آپریشن!

کراچی نہ صرف ہمارے ملک کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ بہت سے حوالوں سے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل بھی ہے۔ ملک کی فی الحال واحد بندرگاہ ہونے کی وجہ سے یہ ہمارا معاشی دارلحکومت بھی ہے۔ ملک کے تقریباً ہر علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگ کراچی میں آباد ہیں جسکی وجہ سے اسے چھوٹا پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں پر بسنے والے لوگوں کی اکثریت قیامِ پاکستان کے وقت ہندوستان سے ہجرت کر کے آنیوالے مہاجرین اور اُنکی نسلوں سے تعلق رکھتی ہے جس کی وجہ سے اُنہیں 68 سال گزر جانے کے بعد بھی حرفِ عام میں مہاجرہی کہا جاتا ہے جو کہ ایک مثبت سوچ نہیں۔ کراچی کی یہ اکثریت نسبتاً زیادہ تعلیم یافتہ اور باشعور ہے۔ انکے بزرگوں نے بے تحاشا قربانیاں دے کر قیامِ پاکستان کے وقت اپنے گھربار چھوڑے اور یہاں آکر آباد ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی کراچی کی اس اکثریت نے پاکستان کی تعمیرو ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ہر لحاظ سے ہمیشہ اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیا۔ ان لوگوں نے اَسی کی دہائی کے اواخر تک ہمیشہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی قوتوں کا ساتھ دیا اور ملک سے اپنی والہانہ محبت کا ثبوت دیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی الیکشن میں بھی کراچی اور حیدرآباد کے عوام کی بڑی اکثریت نے محترمہ کا ساتھ دیا۔ اَسی کی دہائی کے اواخر میں مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے ایک سیاسی جماعت کا وجود عمل میں آیا جس نے اپنے آپ کو مہاجروں (اردو بولنے والوں)کا علمبردار ہونے کا دعوہ کیا۔ اُس دن سے لیکر آج تک کراچی کے سیاسی و سماجی حالات یکسر بدل چُکے ہیں اور معاشرہ گروہی، لسانی، سیاسی اور سماجی بُنیادوں پر بُری طرح تقسیم ہو چُکا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے کراچی کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے اور آج ایک ناسور کی طرح ہمارے سامنے ہیں۔
ایک عام تاثر یہ ہے کہ MQM، PPP، ANP اور جماعت اسلامی سمیت کراچی میں متحرک تمام سیاسی، مذہبی اور لسانی گروہ کسی نہ کسی صورت میں اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ سپریم کورٹ کو پیش کی جانے والی رپورٹس کے مطابق ان تمام سیاسی، مذہبی اور لسانی جماعتوں کے عسکری ونگز ہیں جو حالات کو ٹھیک نہیں ہونے دیتے۔ امن و امان کی اسی صورتحال کے پیشِ نظر گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے رینجرز کراچی میں Deployed ہیں جو کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے ایک لمحہ فکریہ اور ناکامی کا ثبوت ہے۔ پولیس سیاسی بنیادوں پر استعمال ہونے کی وجہ سے بالکل غیر موثر ہو چُکی ہے۔ موجودہ حکومت نے برسرِاقتدار آنے کے بعد کراچی میں امن و امان کے قیام پر خاص توجہ دی ہے اور سندھ رینجرز کی زیرِ نگرانی ایک جامع آپریشن کا آغاز کیا گیا جسکی مجموعی ذمہ داری پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو دی گئی۔ گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصہ سے جاری اس آپریشن کی وجہ سے امن وامان کی مجموعی صورتحال میں بہتری آئی ہے مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ بہت سے دہشت گرد اور مجرم پکڑے اور مارے جا چُکے ہیں مگر اصل مقاصد اُس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتے جب تک شہرِ قائد میں سر گرمِ عمل تمام سیاسی، مذہبی اور لسانی جماعتیںپوری نیک نیتی اور دیانت داری سے تعاون نہ کریں۔ بدقسمتی سے یہ ساری جماعتیں امن کی باتیں تو کرتی ہیں مگر الزام تراشی اور اپنی اپنی سوچ سے باہر نہیں نکلتیں۔ ہر کوئی دوسرے کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے لیکن اپنے گریبان میں جھانکنے کو تیار نہیں۔ گذشتہ دنوں رینجرز نے MQM کے مرکز نائن زیرو رپر چھاپہ مارا اور بہت سے مُبینہ مجرم بمع اسلحہ بھاری تعداد میں گرفتار کئے۔ یہ جگہ MQM کے حوالے سے ایک انتہائی مقدس مقام سمجھا جاتا تھا اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ یہاں کارروائی کرنے سے ماضی کی تمام حکومتیں ہچکچاتی رہی ہیں۔ اسکے بعد الزام تراشی اور سیاسی بُنیادوں پر نشانہ بنانے کا واویلہ کرنے کا ایک لا متناہی سلسلہ جاری ہے۔ MQM کے قائد الطاف حسین نے حسبِ معمول ایک دھواں دھار تقریر کی اور انٹرویو بھی دیا جس میں اُنہوں نے پاک فوج اور رینجرز کیخلاف انتہائی قابلِ اعتراض زبان استعمال کی۔ یاد رہے کہ یہ وہی الطاف حسین ہیں جو حال ہی میں فوج کی شان میں نہ صرف قصیدے پڑھتے رہے ہیں بلکہ اُسے اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کا بھی کہتے رہے ہیں۔ MQM اور الطاف حسین نے فوجی حکمران جنرل (ر) پرویز مشرف کانہ صرف ہمیشہ بھرپور ساتھ دیا ہے بلکہ آج بھی دے رہے ہیں۔ سابق صدر کی لیگل ٹیم کے سربراہ اور ایک اور اہم رُکن MQM کے سنیٹر زہیں۔ متحدہ کے وفود تواتر کے ساتھ جنرل (ر) پرویز مشرف کے ساتھ ملتے ہیں۔ یہ ذاتی مفاداور منافقت پر مبنی طرزِ عمل نہیں تو اور کیا ہے۔ اپنی فوج اوراُسکے اعلیٰ آفیسرز کیخلاف اس طرح کی زبان تو کوئی دُشمن بھی استعمال نہیں کرتا۔ اس پیش رفت کے بعد رینجرز کی جانب سے الطاف حسین کیخلاف ایک مقدمہ بھی درج کرایا گیا ہے جو کہ اُن کا قانونی حق ہے۔ وفاقی حکومت اور قومی سلامتی کے ادارے کراچی کی صورتحال کو ٹھیک کرنے میں سنجیدہ نظر آ رہے ہیں جس کی ایک اور مثال وہ چند ثبوت ہیں جو وفاقی حکومت کی طرف سے برطانوی حکومت کو الطاف حسین کیخلاف دیئے گئے ہیں جو کہ ایک قانونی راستہ ہے۔ اس ساری صورتحال میں سندھ کی صوبائی حکومت کا کردار اور رویہ بہت اہم ہے مگر بدقسمتی سے اس جانب سے مثبت اور خلوص پر مبنی اشارے نہیں مل رہے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرے نہ کہ اپنی ریٹنگ بڑھانے کیلئے سنسنی خیز طریقہ کار اپنائے جیسا کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہوتا ہے۔ ملزموں کے اعترافی بیانات کو سوشل میڈیا کے ذریعہ مشتہر کرنا بھی ایک دانش مندانہ طرزِ عمل نہیں کیونکہ اس سے انصاف کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں۔ مختصراً یہ کہ تمام اربابِ اختیار کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے اور یہ آپریشن اپنے منطقی انجام کو پہنچے۔ کسی بھی قسم کی مصلحت پسندی حالات کو مزید کشیدہ کر دے گی اور پھر شاید ہم انہیں کبھی بھی درُست نہ کر سکیں۔ کراچی منی پاکستان ہے اور اس کا پُرامن رہنا نہ صرف یہاں کے کروڑوں بسنے والوں بلکہ پورے پاکستان کی ترقی اور خوشی کا ضامن ہے۔