موت سے پانچ منٹ کے فاصلے پر

کالم نگار  |  امتیاز احمد تارڑ
 موت سے پانچ منٹ کے فاصلے پر

آپ تصور کریں کہ آپ اتوار کی صبح فیروز پور روڈ پر یوحنا آباد کے قریب کھڑے ہیں۔ اچانک دھماکے کی آواز آتی ہے اور آپ انسانی ہمدردی کے تحت دوڑتے ہیں تاکہ زخمیوں کو نکالیں کسی کی مدد کریں۔ کسی کو پانی پلائیں۔ کسی کو اٹھا کر ایمبولینس میں ڈالیں لیکن اچانک چند لڑکے آپ کی طرف لپکتے ہیں اور آپ کو دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیکر مارنا شروع کر دیتے ہیں۔ پولیس اہلکار آپ کو بچانے کے لئے آگے بڑھتے ہیں۔ ہجوم سے آپکو کھینچتے ہیں لیکن ساری کوشش کے باوجود ناکام ہو جاتے ہیں آپ اس بپھرے ہجوم میں چند لڑکوں کو جانتے ہیں۔ مشکل کی گھڑی میں انہیں پکارتے ہیں۔ لیکن ان کا رویہ تبدیل ہو چکا ہوتا ہے اور وہ آپ کو دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیکر مارنا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ بے بس ہو کر گر پڑتے ہیں۔ مشتعل نوجوان آپ کو ڈنڈوں، مکوں اور لاتوں سے مارتے ہیں۔ اس وقت آپ امی امی پکارتے ہیں۔ لیکن اتنی آوازوں میں آپ کی آواز دب جاتی ہے۔ اور آپ گر جاتے ہیں شرپسند آپ پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دیتے ہیں۔ کوئلہ بنی آپ کی لاش بوڑھے والد اور بوڑھی والدہ کے سامنے پہنچتی ہے تو ان پر کیا گزرے گی۔ ایک لمحہ رک کر سوچیئے کہ وہاں کوئلہ بننے والی نعش آپ کے جوان بیٹے، بھائی، خاوند یا کسی قریبی رشتہ دار کی ہو تو آپ کا ردعمل کیا ہو گا؟ اس کرب کا اندازہ صرف انہیں ہی ہو سکتا ہے جو ایسے سانحہ سے گزرے ہیںایک انسان ہونے کے ناطے ایسا سوچ کر بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ 22 سالہ محمد نعیم اور 17 سالہ بابر نعمان کی کوئلہ بنیں لاشیں ہمارے معاشرے اور نظام حکومت کو جھنجوڑ کر سوال کر رہی ہیں بتائو ہمارا جرم کیا ہے؟ سانحہ یوحنا آباد کے بعد جو درندگی ہوئی۔ جس طرح انسانیت کی تذلیل کی گئی کیا کوئی معاشرہ اس کی اجازت دیتا ہے۔ خدانخواستہ کوئی عیسائی جلا ہوتا جیسے ماضی میں کوٹ رادھا کشن میں ہوا تو اس پر یورپ کے ڈالروں پر پلنے والی این جی اوز نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں جلنے والے مسلمان تھے۔ نعیم کے سینے میں قرآن تھا اور چہرے پر داڑھی تھی۔ لہذا صدراوباما سے لیکر بانکی مون اور یورپ تک کسی نے اس بربریت کی مذمت نہیں کی۔ یہ سوچنے کی بات ہے کہ سانحہ کے بعد ابابیلوں کی طرح بلوائی کہاں سے آئے؟ گروہ در گروہ قاتلوں کی فوجوںنے یک دم نمودار ہو کر سب کچھ تہس نہس کیسے کیا ؟یہ سب کچھ انصاف کی علمبرداری نہ ہونے کے باعث ہے۔ مظلوموں کو بروقت انصاف نہ ملنے کے باعث انتہا پسندی جنم لیتی ہے۔ اگر ملک کو اچھی قیادت میسر ہو تو پھر سانحہ کے بعد مظلوموں کی سوچ بدلی جا سکتی ہے۔ ان کے غم و غصے کا رخ موڑا جا سکتا ہے عوام کی سوچ یک دم تبدیل نہیں ہوتی بلکہ یہ برسوں کے تدریجی عمل کے بعد تشکیل پاتی ہے۔
دہشت گردی اور فرقہ واریت کے لئے ہماری آب و ہوا ناساز گار تھی لیکن عوام کے دلوں میں کدورتوں کے بیج بونے نفرتوں کی آبیاری کرنے کے ذمہ دار ہمارے حکمران ہیں۔ ہم نے امریکہ کی فدویانہ اطاعت گزاری کی۔ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے چند جماعتوں کو بے گناہوں کی قتل و غارت کا سرٹیفکیٹ مہیا کیا۔ قوموں کے مسائل حل کرنے اور انصاف کی علمبرداری قائم کرنے کیلئے حکومت جب قاتلوں کی سرپرستی کریگی۔ تو پھر سانحہ یوحنا آباد اور پشاور کا ہونا کوئی اچنبے کی بات نہیں۔
انسانیت کو جلا کر اس کا تمسخر اڑانا کل تک ہم داعش کا مشغلہ سمجھتے رہے اخبارات میں خبریں پڑھی داعش کے انسانیت سوز اقدام پر ماتم کیا۔ لیکن آج یہ سیاہ دن ہمارے ہاں بھی طلوع ہوا تو اس کی اذیت کا اندا زہ ہوا۔ نعیم اور بابر نعمان کو جلانے کے مناظر ہمارے بچوں بڑوں کے حواس پر چھائے ہوئے ہیں۔ ایسی بربریت تو جنگ زدہ افغانستان میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ جو پاکستان میں نظر آ رہی ہے۔ چند دن سکون سے گزرنے کے بعد فتنہ فساد پھر انگڑائی لیکر سامنے آ جاتا ہے۔ ایسے سانحات میں میڈیا کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حقائق کا چہرہ مسخ کر کے خبر کو موم کی ناک بنا کر اپنی من پسند مطلب کے نقوش نہ ابھارے ۔ میڈیا کو اپنی ادائوں پر غور کرنا چاہئیے دلخراش مناظر کی عکس بندی کر کے اسے من و عن دکھاناکون سی خدمت ہے اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہمارا میڈیا بیدار، چوکس اور ہوشیار ہے لیکن وہ بھولتاجا رہا ہے کہ موج مستی، تماشا گری، شوخی و طراری، چسکا بازی اور ذوق بازاری کی آبیاری اس کی اصل قوت نہیں۔ اس کی اصل طاقت، اس کی ساکھ، وقاراور امتیاز ہے۔ بغیر تحقیق و تفتیش کس کے چہرے پر کالک تھوپ دینا بھی اس کی لا محدود طاقت کا اندھا مظاہرہ ہے میڈیا کا یہ پہلو خوش آئند ہے کہ وہ سرکاری دربار کی بدعنوانیاں بے نقاب کر رہا ہے۔ لیکن کبھی کبھی اسے اپنی ادائوں پر بھی غور کرنا چاہئیے کہ وہ کہاں کھڑا ہے؟سانحہ یوحنا آباد کی آڑ میں چند این جی اوز نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے جس طرح اس سانحہ کو توڑ موڑ کر پیش کیا۔ ہمارا میڈیا بھی اس کی تقلید کرتا نظر آیا۔ خدمت کی نام نہاد دعویدار این جی اوز کی فنڈنگ کے بارے بھی تحقیق ہونی چاہئیے کہ اس کا استعمال ملکی دفاع، استحکام اور خودمختاری کے خلاف تو نہیں ہو رہا۔ این جی اوز کے کارندوں کے جسموں میں بھی اگر دل ہے تو وہ بھی قیمتی وقت میں سے صرف پانچ منٹ نکال کر یہ سوچیں کہ نعیم اور بابر نعمان کی جگہ ان کا بھائی بیٹا یا خاوند ہوتا تو ان پر کیا گزرتی؟