قبر کا نصیب (دہلی۹)

کالم نگار  |  روبینہ فیصل ....دستک
 قبر کا نصیب (دہلی۹)

لال قلعے میں تاریخ آپکا دامن تھام لیتی ہے،آپ سے بڑے سوال پوچھتی ہے ،آپ کو انسانی تہذیب کے بسانے اور لوٹنے والوں کی کہانی بتاتی ہے ، مغل بادشاہوں کی شان و شوکت دکھاتی ہے اور پھر عبرت کی کہانی بھی سناتی ہے ۔آ پ اس سے سوال پوچھتے ہیں اوروہ آپکی طرف سوالیہ انداز سے دیکھتی ہے اور پوچھتی ہے کیا کہتے ہو ؟ مجھ سے کیا سیکھا ؟ کیا بتاتے ہو ؟ مجھ میں کیا دیکھا ؟ کیا کہو گے ؟ جب آنے والی نسلوں کو میری کہانی سنائو گے ۔ تاریخ میں لٹیرا کوئی بھی ہوا چاہے چنگیزی ، عربی ، افغانی اور چاہے گورا کام سب کا ایک ہی تھا ، شہروں کو اجاڑ نا اس میں انسانوں کی کھوپڑیوں کے میناروں سے لیکر عمارتوں کی تباہی تک ۔ کسی مفتوح ملک کی تہذیب سوزی کرنا ہو تو بڑے بڑے تہذیب یافتہ فاتح بھی وحشی پن کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ماضی کے دریچوں سے تاریخ کے اس گھنائونے منظر کو دیکھو یا حال کی کھڑکی سے پردہ اٹھا کر جھانکو ۔ لال قلعہ پر جو vandalism برطانیہ نے کی وہ کسی طرح اس لوٹ مار اور غارت گری سے کم نہیں جو محمود غزنوی نے سومنات پر کی تھی ۔آج کے" نئی ،پرانی تہذیبوں کے رکھوالے" ، جو کہیں کسی مذہبی یا سماجی عمارت کو کوئی نقصان پہنچا دے تو تہذیب کا جھنڈا نکال کر لہرانے لگتے ہیں ، ہیر وشیما اور ناگا ساکی تباہی سے لیکر عراق اور افغا نستان کے لٹیروں کو مہذب اور فرسٹ ورلڈ کہا جاتا ہے ۔ یہ وقت کا ظلم ہے جو شاید تاریخ بہت صدیوں بعد جا کر( شاہوں کی زندگی سے نہیں عام لوگوں کی زندگی سے) سچ پہچاننے میں کامیاب ہوجائے ۔ 1850 میں بہت سے برطانوی افسروں نے مغل دربار کو مکمل ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔اور وہ نہ صرف ہندوستان میں برطانوی قانون اور ٹیکنالوجی بلکہ عیسائیت بھی لاگو کرنا چاہتے تھے ۔ یہ سب حالات اور واقعات ہندوستانیوں کو 1857کی بغاوت کی طرف لے گئے تھے ۔ اپنے حق کی بات اپنی زمین پر کرنے والوں کو آج کے آزادی ٗ اظہار کے علمبرداروں نے اس وقت خون میں نہلا دیا تھا ۔ اپنی ہی زمین پر اپنے حق کی آواز اٹھانے والے دہشت گرد قرار دے دیئے گئے تھے اور آج ہی کی طرح انگریز سے بنا کر رکھنا ناگزیر ہوگیا تھا۔

مغل بادشاہت کی آخری علامت بہادر شاہ ظفر کو عبرت کی نشانی بنا دیا گیا ۔وہ شاعر تھے وہ اپنے کرب کو، لٹنے کو ، دوستوں کے دشمن بننے کو ، خوشامدوں کو جو، اب کڑی تنقیدوں میں بدل چکی تھیں ۔ وفاداریوں کوجو اب بک چکی تھیں ، اپنے ناکارہ وجود کو جو ملک کو بچا نہ سکا ،ان سب کو لفظوں میں ڈھال سکتے تھے ۔
سمجھنے اور سبق لینے والے شاہ ظفر کی اس غزل پر غور کر لیں تو زندگی کے کسی لمبے چوڑے فلسفے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ۔ شاہ کا کرب آپ کا دامن تھام لیتا ہے ، لفظ دیواروں سے جھانکتے ہیں اور لال قلعے دیکھنے آنیوالوں کی لمبی قطار ان کے سحر میں جکڑی ہوئی ہے ۔ شاہ کی بے جان آنکھیں آپ کو دیواروں سے جھانکتی نظر آتی ہیں،آپ بُت بن جاتے ہیں اور وہ خاموش باتیں کر تی ہیں :
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آسکے میں وہ ایک مشت ِ غبار ہوں
میں نہیں ہوں نغمہٗ جاں فزا کوئی سُن کے مجھ کو کریگا کیا
میں بڑے بُِروگ کی ہوں صدا میں بڑے دکھی کی پکار ہوں
میرا رنگ روپ بگڑ گیا میرا یار مجھ سے بچھڑ گیا
جو چمن خزاں سے اجڑ گیا میں اسی کی فصل ِ بہار ہوں
نہ تو میں کسی کا حبیب ہوں نہ تو میں کسی کا رقیب ہوں
جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں
پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوں
کوئی آکے شمعیں جلائے کیوںمیں وہ بیکسی کا مزار ہوں
(بہادر شاہ ظفر)
قلعے سے باہر آکر میں نے سُکھ کا سانس لیا ۔ سڑک پر چلتی پھرتی رنگ برنگے کپڑے پہنے گھومتی عورتیں نظر آئیں ۔ کسی نے جینز اور شرٹ پہن رکھی تھی تو کوئی گھاگھرے میں اور تیز سبز رنگ کی بھاری ساڑھی میں بھی ایک عورت بہت اطمینان سے چہل قدمی کرتی نظر آئی ۔ بچوں کے قہقہے پاس گونجے ۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں کی بولیاں کانوں سے ٹکرائیں ۔ ہر کوئی اپنا اپنا لباس پہنے اپنی اپنی بولی بولتا نظر آیا ۔ ان سب کی طاقت نے مجھے ماضی سے کھینچ کر حال میں لا کھڑا کیا ، مگر ان سب کے وجود میں بھی میرا ایک سوال تھا ۔ یہ میری طرح کے لوگ تھے لیکن مجھے انہیں سے رنگ ، نسل ،تاریخ ،زبان اور مذہب کی بنیاد پر علیحدہ کر دیا گیا مگر آج ہندوستان کے دوسرے علاقوں سے آنے والے لوگ دلی کے لوگوں سے الگ رہے تھے اور میں جو کہ ان سے کاٹ کر الگ کر دی گئی تھی اپنی بولی اورانداز سے لاہور کی نہیں دلی کی تھی ۔ پھر یونہی ایک اور خیال بھٹک کر آ گیا بابری مسجد کی شہادت میں یا گجرات کے مسلمانوں کو زندہ جلانے میں کس کا ہاتھ ہو گا ؟ کیا اس سبز ساڑھی والی کا جو مجھے دیکھ کے مسکرا کر گزری ہے ؟ یا اس بوڑھے مراٹھی جوڑے کا جنہوں نے میرے ساتھ تصویر اترواتے ہوئے مجھے گلے سے لگا لیا تھا ؟ یا ان جوان شوخ لڑکیوں کا جو ممبئی کی تھیں اور مجھے دلی والی سمجھ کے مجھ سے کوئی ایڈریس پوچھ رہی تھیں ؟ یا اس پراسرار آدمی کا جو ایک ہمایوں کے مقبرے کے باہر ہمارے ٹیکسی سے اترتے ہی جھٹ سے ہمارے پاس پہنچ گیا اور پوچھنے لگا آپ لوگ کہاں سے ۔( مظفر صاحب نے ہمارے بولنے سے پہلے کہا ہم لکھنو کے ہیں ۔ وہ لکھنو کے تھے میں اور ناصر پاکستانی تھے) ۔کس کا ہاتھ ؟ اس صدراتی محل کا ؟ جس کی شان دکھانے ہمیں شام ٹیکسی والا لے آیا تھا ؟وہ ہاتھ آج بھی پہچانا کیوں نہیں گیا؟ لال قلعے کی بربادی اور پریذیڈنٹ ہائوس تک کا سفر صدیوں نے طے کیا مگر سوچ نے نہیں عمارتیں اور انسان اسی طرح بے رحمی سے قتل ہورے ہیں ۔قاتلوں اور مقتولوں کی شکلیں آپس میں بدل چکی ہیں مگر عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔راج گھٹ (گاندھی جی کی آخری آرام گاہ )کے سامنے سے گزرے تو دل میں گاندھی جی کو سلام پیش کیا، ان کوششوں کو جو انہوں نے ہندوستان کی تقسیم کے بعد ہندو اکثریت والے علا قوں میں میلوں ننگے پائوں پیدل چل چل کر بے گناہ مسلمانوں کی جان بچانے کیلئے کی تھیں ۔جب ہندو انتہا پسند وں نے حسین شہید سہر وردی کو جو انکے ساتھ لوگوں کی جان بچانے کے مشن میں مصروف تھے ، مارنے کی غرض سے رات کو ان کے گھر پر حملہ کر دیا تھا تو کیسے اس کمزور ننگ دھڑنگ انسان نے بپھرے ہوئے جنونیوں کے آگے سینہ تان کر کھڑے ہو کر کہا ہوگا پہلے مجھے مارو پھر اس تک پہنچ سکتے ہو ۔ان سب کے سر جھک گئے اور وہ چلے گئے ۔