دوعملی کب ختم ہوگی؟

کالم نگار  |  آغا امیر حسین
 دوعملی کب ختم ہوگی؟

ماڈل ٹائون لاہور سے منسلک یوحنا آباد کے دو گرجا گھروں کو خودکش حملہ آوروں نے اڑانے کی کوشش کی جسکے نتیجے میں 21 بے گناہ انسان لقمہ اجل بن گئے یہ آبادی غریبوں کی آبادی ہے۔ درمیانہ طبقہ یا مال دار لوگ اس علاقے میں نہیں رہتے۔ تباہی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ردعمل قدرتی تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ دہشت گردوں کی کارستانیاں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پچھلے آٹھ دس سال سے مسلسل دہشت گرد تباہی پھیلا رہے ہیں۔ مظلوم، معصوم اور غریب لوگ ان کا نشانہ بن رہے ہیں۔ فوج، پولیس، رینجرز سب انکے نشانے پر ہیں وہ جب چاہتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں، جس وقت چاہتے ہیں، تباہی و بربادی پھیلا کر چلے جاتے یا مر جاتے ہیں۔ یوحنا آباد سے بڑے تباہی کے واقعات ہوچکے ہیں جن میں 60 ہزار سے زیادہ پاکستانی شہید ہوئے حتیٰ کہ آرمی پبلک سکول پشاور میں جو کارستانی ہوئی اور جسکے نتیجے میں تقریباً 160 سے زیادہ معصوم بچے شہید ہوئے، اس سانحے کی گونج ساری دنیا میں سُنی گئی اور جسکا ماتم آج بھی پاکستان کے گھر گھر جاری ہے، اتنے بڑے سانحے پر بھی ایسا ردعمل سامنے نہیں آیا جیسا ہم نے یوحنا آباد کے سانحے کے بعد دو دن تک فیروز پور روڈ لاہور پر دیکھا۔ دو افراد کو مشتبہ کہہ کر زندہ جلا دیا گیا۔ قیمتی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ کاروں کے شیشے توڑے گئے۔ ان ہنگاموں کے نتیجے میں مزید چند لوگ مارے گئے۔ ہم پچھلے کئی سال سے دشمن کے منصوبوں کا تفصیل سے ذِکر کرتے چلے آرہے ہیں ہمیں قطعاً حیرت نہیں ہوئی کیونکہ یہ ردعمل ایک پروگرام کے تحت کیا گیا تھا۔ دشمن کے عزائم ہیں کہ پورے ملک میں افراتفری پھیلا کر معیشت کو تباہ و برباد کرکے خانہ جنگی کی فضا پیدا کی جائے۔ فاٹا کا علاقہ ہو، بلوچستان ہو، کراچی ہو یا پاکستان کا کوئی بھی اور شہر بڑے منظم طریقے سے دشمن اپنے پروگرام پر عمل کر رہا ہے۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے نیشنل سیکیورٹی انچارج اجیت دووال نے تو کھلے لفظوں میں دھمکی دی ہے کہ وہ کشمیر اور پانی جیسے سنگین مسائل پر بھارت سے محاذ آرائی نہ کرے، ورنہ ہم پاکستان میں وہی کچھ کرینگے جو مشرقی پاکستان میں کیا تھا۔ پچھلے دنوں اجیت دوول نے برملا پاکستان سے بلوچستان کو علیحدہ کرنے کی بات بھی کی تھی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران گھسی پٹی روایتی بیان بازی سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں ہیں اور اقتدار سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی دوڑ میں مصروف ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ لاشیں اٹھانے، رسمی بیانات جاری کرنے اور چند لاکھ روپے کے چیک ہلاک شدگان میں تقسیم کرنے کے علاوہ انکی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ کیا یہ دہشت گرد اچانک کسی بھی جگہ زمین سے نکل آتے ہیں یا آسمان سے نازل ہوتے ہیں؟ یہ لوگ پاکستان میں رہنے بسنے والوں کیساتھ رہتے ہیں انکے سہولت کار بھی موجود ہیں جو انہیں دامے درمے سخنے انکی مدد کرتے ہیں دنیا بھر میں پاکستان وہ واحد ملک بن کر رہ گیا ہے جسے دہشت گردوں کی جنت کہا جاسکتا ہے۔ سیاست دان، حکمران، بیوروکریٹس اور جج سب کے سب بے حس اور اندھے بہرے ہوچکے ہیں۔ اربوں کھربوں روپیہ ملک کی سیکیورٹی کے نام پر خرچ کیا جا رہا ہے امراء اور حکمران قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ عام پاکستانی دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہے۔ دہشت گرد ظالم، سفاک اور درندہ صفت لوگ ہیں جنہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ انسان کہلانے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ چند روز قبل اچانک نائن زیرو پر جو متحدہ کا ہیڈ کوارٹر ہے، پر چھاپہ مارا۔ نامی گرامی سفاک قاتل، ٹارگٹ کلرز وہاں سے پکڑے گئے جو اب 90 دن کے ریمانڈ پر رینجرز کے پاس ہیں۔ بڑی تعداد میں ممنوعہ بور کا اسلحہ برآمد ہوا، جو میڈیا نے عوام کو دکھایا۔ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے اطراف میں 16 گلیاں لگتی ہیں جہاں گھر گھر تلاشی لی گئی اور اسلحہ برآمد کیا گیا جگہ جگہ مورچے بنا کر لوگوں کو بٹھایا ہوا تھا جس کا جواز متحدہ کی طرف سے یہ دیا گیا تھا کہ ہمیں سنگین خطرات کا سامنا ہے اس لیے ہم نے اپنی حفاظت کیلئے یہ مورچے بنا رکھے ہیں لیکن اسلحہ کے لائسنس ہمارے پاس موجود ہیں متحدہ کے قائد جناب الطاف حسین نے جو ردعمل ظاہر کیا وہ یہ تھا کہ میں بھی تو طویل عرصے سے باہر بیٹھا ہوں، یہ سنگین وارداتوں میں ملوث لوگ وہاں کیوں چھپے بیٹھے تھے، اتنی بڑی دنیا میں انہیں کوئی اور جگہ نہیں ملی تھی۔ ان کی وجہ سے تنظیم کو شرمندگی اٹھانا پڑی پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلحہ رینجرز کمبلوں میں لپیٹ کر لائے تھے۔ ایک اور بیان میں انہوں نے رینجرز کے افسران کو دھمکیاں بھی دیں۔ ان بیانات پر رینجرز نے بجاطور پر ایف آئی آر کٹوائی ہے مزے کی بات یہ ہے سابق صدر آصف زرداری نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہم الطاف بھائی کیساتھ ہیں اور جلد ہی متحدہ سندھ حکومت کا حصہ بن جائیگی۔ انہوں نے صوبائی اسمبلی کے ممبران کو ایک عشائیہ دیا اور فرمایا کہ ہم مشکل گھڑی میں متحدہ کیساتھ رہیں گے لیکن دو ممبرز کے علاوہ سب خاموش رہے مجبوراً زرداری صاحب کو اجلاس ختم کرنا پڑا۔ باقی تمام سیاسی جماعتیں بھی الطاف حسین کے بارے میں کچھ کہنے سے کترا رہی ہیں۔ سوائے عمران خان کے، کوئی بھی الطاف حسین اور اسکے اندر چھپے ہوئے دہشت گردوں کیخلاف نہیں بولا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں عوام کی صحیح سچی نمائندہ حکومت قائم ہواور یہ اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک ظالم، لٹیرے، مفاد پرست اور منافق سیاستدانوں سے نجات نہ مل جائے۔ پاکستان کو ’’مملکت خداداد‘‘ بھی کہا جاتا ہے غالباً یہی وجہ ہے کہ اندر سے ہونے والی ریشہ دوانیوں کے باوجود ملک قائم و دائم ہے ۔