دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

کالم نگار  |  نذیر احمد غازی
 دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

ہر دین پسند اور محب وطن پاکستانی اپنے دین اور وطن کو سربلند رکھنا چاہتا ہے۔ انکی ہر ذ اتی خواہش دین ووطن کے وقار پر قربان ہو جاتی ہے۔ یہ لوگ دین اور وطن کے نام پر اپنی ذات کو دائو پر لگا دیتے ہیں۔ معرکہ دین و وطن میں جان کو قربان کرنا ان کیلئے ایک بڑی سعادت ہوتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ عوام الناس اسلام کے نام پر اور پاکستان کی آن پر کوئی آنچ نہیں آنے دیتے۔ دامے، درمے، سخنے اور قدمے اسلام و پاکستان کے وقار اور بقا کیلئے ہمیشہ ہی متحرک رہتے ہیں۔ وہ راہبران قوم جو اسلام اور پاکستان کے نام پر قافلے کی گھنٹی بجاتے ہیں اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اس نام پر سادہ طبیعت ایثار پسند پاکستانی مسلمان ان راہبران قوم کے پیچھے سادہ بھیڑوں کی طرح چلے آئینگے۔ کچھ راہبران قوم اور کچھ رہزنان ملت ہیں، انکی طبیعتوں میں لومڑی کی سی مکاری ہے اور بھیڑیوں کا سا طریقہ ظلم ہے۔ فطرت کے شرکا مکروظلم جب ایک قبائے جور میں جمع ہوتا ہے تو بے چارے سادہ لوح پاکستانی مسلمان اسے لباس فرشتہ جان کر پناہ فطرت سمجھ بیٹھتے ہیں اور وہ اس کے سائے میں آنا اپنی نجات جان سمجھتے ہیں۔ … ؎
تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
پاکستان کے نظریئے اور اسلام کی بالادستی کے نام پر سیاست کرنیوالے روزانہ نئی ٹیم ترتیب دیتے ہیں، پاکستان بحران کا شکار ہے اور اسلام خطرات میں گھر گیا ہے، یہ فکر مند نعرے مختلف اوقات میں مختلف الفاظ میں بدل کر عوام کے معصوم ذہنوں میں گونجتے ہیں۔ بے چارے دل تھام کر مصائب میں گھری پاکستانیت کو بچانے کیلئے اور طوفان میں پھنسی اسلام کی کشتی کو نکالنے کیلئے سرفروشی پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور یہ بے چارے سب کچھ بھول کر آلودہ کردار قافلہ بازوں کی صدائے فریب کو بھی صدائے نجات سمجھ کر تجدید عہد کرتے ہیں اور سچ سمجھتے ہیں کہ یہ عہد لینے والے سالاران قافلہ ہیں۔ … ؎
خود رہبران قوم ہیں آسائشوں میں گم
ہم سے مطالبہ قربانیوں کا ہے
الیکشن ہوتے ہیں تو قوم کو بتایا جاتا ہے کہ دوسرا فریق ملک ووطن مصیبت کا پروانہ ہے۔ ان کو ووٹ مت دیجئے گا، یہ لوگ برسراقتدار آ کر وطن کی آبرو پر بٹہ لگا دینگے۔ یہی حالت ان نعرہ برداروں کی ہوتی ہے جو ہر لمحہ اسلام اسلام کا نام لیتے ہیں۔ اپنی تعبیر دین کو تائید آسمانی بتاتے ہیں، مخالف خیال کو وسوسہ شیطانی قرار دیتے ہیں اور اپنے افکار جداگانہ کو تعبیر سنت کہتے ہیں، دوسروں کے اعمال کو شرک وکفر کا درجہ دیتے ہیں۔ مساجد کے خطبات میں سامعین کے جذبات کو آگ دکھاتے ہیں اور انکے اعتقادات پر اپنی خوشنودی اور اپنی علمیت کا پہرہ بٹھا کر ایک نئے عسکری وعملی گروہ میں بدل ڈالنا ان کا شیوہ تبلیغ ہے۔ اپنے اکابر کے اعمال و کردار کو خانہ فرشتگان میں رکھ کر ان کو نیابت خداوندی کا مظہر قرار دینا ہی ان کی تعبیرات دینیہ کا قرینہ فکر ہوتا ہے۔ پھر انکے عوامی جلسوں میں مخالفین پر جارحانہ اور معاندانہ اعتراضات کی بھرمار کیساتھ ساتھ مناظرے کی دعوت دینا بھی ان کی شان فضیلت کو آشکار کرنا ہے۔ امت کے مسائل اور دین کے غلبے کیلئے اپنے تیار کردہ نصاب کو نوجوانوں کے دماغ میں انڈیلنے کا اہتمام بھی انکی تربیت کا امتیاز ہے۔ نیم عالمانہ اور نیم مفکرانہ انداز سے ہر میدان میں فردیت اور انفرادیت انکی بقائے حیات کا مسئلہ ہے اسلئے اپنے دائرہ فکر ہی کو اصل دین قرار دینا انکی مجبوری ہے۔ دل میں ملوکیت کے جذبوں کی پرورش اور زبان پر اللہ الملک کی صدائے توحید عوام الناس کو ان نعروں پر فریفتہ کر دیتی ہے۔ اس فیضان تحفظ نقش و گروہ بندی پر اگر کوئی معاشرتی، قانونی یا اخلاقی پابندی آن پڑے تو یہ سب عداوت باہمی اور اختلاف کفروشرک ایک دم تغیر پذیر ہوتا ہے اور ہر طرح کی باہمی دشمنی ایک الفت و محبت میں بدل جاتی ہے۔ کلاہ بردار اور دستاردار متقی صورت پرانے اختلاف کو کوستے ہیں اور ا نکو تھوڑی دیر کیلئے ایک گھٹڑی میں لپیٹ کر گائو تکیہ بنا لیتے ہیں اور پھر سچ اور جھوٹ کو ملا کر قوام اتحاد تیار کرنے کے بعد شراب الفت میں بدل لیتے ہیں اور چند ماہ اسی شراب قربت میں دھت نئے قلندرانہ مزاج سے قوم سے مخاطب ہوتے ہیں کہ دیکھو ہم نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ نغمہ گانا شروع کر دیا ہے۔ … ؎
کون کہتا ہے کہ تم ہم میں جدائی ہو گی
یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہو گی
افسوس صد افسوس دنیا کے بچوں کو فرقہ وارانہ کشیدگی اور جارحیت کے نیزوں پر چڑھا کر اب داعیان دین کو متحد ہونے کا خیال آیا جب انکے زردار چشموں پر چشم فطرت نے توجہ کی۔ مدارس سے مساجد اور مساجد سے لیکر کالجز اور یونیورسٹیز میں دعوت دین کے علمبرداروں نے اپنی اعتقادی اور فکری گروہوں کو مضبوط کریگی۔ تبلیغی تنظیمیں قائم کی ہیں اور بیرونی ممالک کے مسلکی ذوق کو پروان چڑھانے کیلئے مقدور بھر کاسہ خیرات پھیلائے رکھا ہے۔صاحبو! اگر آج یہ اسلام کے قلعے ہیں اور اسلام کی طاقت ہیں تو کون کسی کی زبان کو روک سکتا ہے۔ کون ماضی کے دلخراش قلم برداروں کو ٹوک سکتا ہے کہ کیا لکھ رہے ہو۔ کل کی جارحیت کو آج کا مرہم قرار دینا آپ کی کرامت کردار ہے یا آپکی رفتار فکر فنی معجزہ ہے۔ سوال ہے اور سادہ سوال ہے کہ ماضی میں اہل اسلام کو کفر کی مشین میں چارے کی طرح کترنے والے کن درسگاہوں سے اٹھے تھے؟ امت کے سادہ لوح مسلمانوں کو شرک کی پھانسی پر چڑھانے والے کس دارالتربیت سے سند یافتہ ہے؟ امتہ المسلمین کو فرقہ گروہ بندی کی بیماری کے جراثیم چمٹانے والے واعظین ریاکار کس سے اپنی نسبت جوڑتے تھے۔ مدرستہ البنات سے فارغ التحصیل عالمات و معلمات کے دینی خطابات میں مسلکی تعصب کا جوہر کن اکابر اساتذہ کا فیضان تھا۔اگر آج یہ مدارس اسلام کے قلعے ہیں تو کل وہ لوگ کہاں سے اٹھے تھے جنہوں نے اسلام اور پیروان اسلام کو فرقوں میں تقسیم کرکے آج کے اسلام کو ضعیف کیا ہے۔ … ؎
اتنی نہ بڑھا پاکی دامن کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ