اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک فیصلہ کُن اور تاریخ ساز موڑ پر !!

 اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک فیصلہ کُن اور تاریخ ساز موڑ پر !!

اگرچہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک وطنِ عزیز ایک متواتر طویل جدو جہد کے دوران نہا یت سنگین بحرانوں سے گزرا ہے جس میں ریاست جموں و کشمیر کی ابتدائی جدو جہد آزادی سے لیکر بھارت کے ساتھ 1965اور پھر 1971کی دو جنگیں بھی شامل ہیں جنکے نتیجہ میں بین الاقوامی سازشوں کے علاوہ بھار ت کی طرف سے فوجی جارحیت کے نتیجہ میں سقو ط ڈھاکہ کا سانحہ پیش آیا اور دسمبر 1971میں مشر قی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کی صورت میں وطن عزیز دولخت ہو گیا جس پر بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے یہ بڑھک ماری کہ جناح (قائداعظمؒ) کا پاکستان خلیج بنگا ل میں غرق کر دیا گیا ہے (خا کم بدہن) اُسکے بعد 1972کے آ غا ز میں مغر بی پاکستان کی صورت میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید کی قیادت میں ایک نیا پاکستان وجود میں آیا اور 1973کے آئین کی صورت میں پاکستان اپنی جمہوری منزل کی طرف گامزن ہو گیا لیکن اُس دن سے لیکر آج تک وطن عزیز پر جو کچھ بھی بیتی ہے اُس کو دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے صرف اتنا کہنا کا فی ہے کہ جمہوریت کی جس منزل کی قو م کو تلاش تھی اور جس منزل کے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے ایک جدید اسلامی جمہوری، فلاحی ریاست کے قیام کی صورت میں خواب دیکھا تھا اُس کی سحر آج تک نمودار نہیں ہوئی ہے۔ سیاست دان کہتے ہیں کہ فو ج کی بار بار مداخلت کے باعث یہ منزل ہم سے گریزاں رہی ہے اور اس چارج شیٹ کے جواب میں افواج پاکستان کہتی ہیں کہ ہم تو ہرگز مداخلت کے مجرم نہیں ہیں بلکہ قوم کی بار بار اپیل پر بلائے گئے اور ہر بار قوم نے ما رشل لاء کی آمد پر مٹھائیاں بانٹیں جو اس بات کی د لیل ہے کہ سیا سی عمل اپنی جڑیں مضبوط نہ کر نے کے باعث قو م کو گڈگورننس دینے میں ناکام رہا لیکن دریاؤں کے پلوں کے نیچے سے تاریخ کا دھارا اس شدت کے ساتھ آگے بڑھتا جا رہا ہے کہ مرغی پہلے تھی یا انڈا اس بحث میں پڑنے کی بجائے درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا کیا جائے۔ بات بالکل سیدھی سادھی اور سادہ سی ہے کہ ہمارے گردونواح میں جو ممالک 1947میں ہر لحا ظ سے نوزائیدہ مملکت پاکستان سے بہت پیچھے تھے وہ آج ہم سے بہت آ گے نکل کر تر قی کی شاہراہ پر گامزن ہیں اور ہم ہیں کہ دنیا کے چند پسماندہ ترین ممالک میں ہمارا شمار ہوتا ہے۔ جس پر بقول علامہ اقبال ہماری حالت یوں ہے کہ ہم خدا سے شکوہ کر تے ہیں ۔
آپ بھی شرم سار ہو مجھ کو بھی شرم سار کر
شاید اس گراں خواب غفلت سے جگانے کیلئے قدرت کو ہمیں ایک بہت شدید دھکا لگانا پڑاجو 16دسمبر 2014کو آرمی پبلک سکول پشاور میں بر پا ہو نیوالی قیام ِ صغریٰ کی صورت میں رونما ہوا۔ قوم اچانک جاگ اُٹھی اور حالات کے جبر نے تمام سیاسی پارٹیوں، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی قو توں، حکو مت وقت اور فوجی قیادت سب نے مل کر عوام کی اجتماعی قوت بلکہ احتجاج کے آ گے سرتسلیم خم کر تے ہوئے قو می ایکشن پلان مرتب کیا جس کے نتیجہ میں ایک طرف فو ج کے آپریشن ضرب عضب کو تقویت دینے کیلئے ضروری اقدامات کیے گئے اور دوسری طرف آئین پاکستان اور پاکستان آرمی ایکٹ میں ترامیم کر تے ہوئے 20 نکاتی قومی ایجنڈا تشکیل دیا گیا اس پر عملدرآمد کا عمل بظاہر گزشتہ تین ماہ کے دوران نہایت سست روی کا شکار رہا لیکن اس کی پلاننگ اور تیاری کی پیچیدگیوں کے باعث بہت سے اندرونی و بیرونی چیلنجز اس کی تیز رفتاری کے عمل میں حائل تھے ۔ چنانچہ کہا گیا کہ کاغذوں پر تو اس قومی ایکشن پلان کا خاکہ نہایت خوبصورت نظر آتا ہے لیکن جہاں تک اس پر عمل درآمد اور Implementation کا تعلق ہے تو وہ ’’نہ ہونے کے‘‘ برابر ہے اس پر طر ح طرح کی رائے زنی کی گئی اور اندرونی و بیرونی سطح پر پاکستان مخالف عناصر نے بھی ان کمیٹیوں کو ماضی کی طرح بنائے جانیوالی درجنوں کمیٹیوں کے افسوسناک انجام کی طرح بے اثر ہو نے کے خدشا ت کا اظہار کیا اس دوران اگرچہ آپریشن ضرب عضب نہایت تیزی سے کامیابی کی طرف آگے بڑھتے ہوئے جنو بی و شمالی وزیرستان میں اپنے ہدف حا صل کر نے میں یہاں تک کامیاب ہوا کہ اُن علاقوں میں جہاں کل تک حکومت پاکستان کی رٹ ناکام ہو کر کالعدم ہو چکی تھی وہاں دہشت گردی کا 90% سے زیادہ نہ صرف ختم کرنے کا اعلان کیا گیا بلکہ اُ ن علاقوں سے بے گھر ہونیوالے افراد کو جو کئی لا کھ کی تعداد کو پہنچ چکے تھے گزشہ روز اپنے گھروں کو واپس پہنچنے کا عمل شروع ہو گیا ہے جو اُس علا قے میں قیام امن کا منہ بولتا ثبوت ہے افواج نے تو اپنے ذمہ داری پوری کر دی ہے لیکن حکومت کے دیگر اداروں کو اب ان بے گھر خاندانوں کی آبادکاری اور دیگر انفراسٹرکچر کا مشکل کام سرانجام دینا با قی ہے۔ دہشت گرد اگرچہ اپنے نظام کے درہم بر ہم ہونے سے شکست سے دوچار ہیں لیکن اُن کے پیچھے ایسی طاقتیں برو ئے کار ہیں جو پاکستان مخالف عناصر کی وطن عزیز کو عدم استحکام کا شکار بنانے کے در پے ہیں اُن کا اصل ہدف پاکستان کی نیوکلیئر صلاحیت ہے جس کی موجودگی میں کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی پاکستان پر میلی آنکھ رکھتے ہوئے وطن عزیز سے ٹکر لینے کی جرأ ت نہیں کر سکتی۔ چنانچہ اس بنیادی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے اندر اس وقت دہشت گردی، انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کے پردہ میں بربریت کے جو سانحے پیش آ رہے ہیں وہ قارئین کے سامنے ہیں کبھی کراچی میں، کبھی شکارپور میں، کبھی راولپنڈی، اسلام آباد میں اور کبھی ملتا ن اور لاہور میں دہشت گردی کے واقعا ت یکے بعد دیگرے نمودار ہو رہے ہیں جن کی تا زہ ترین مثال یوحناآباد میں جو مسیحی برادری کا ایک مضبوط مر کز ہے وہاں دو گرجا گھروں میں اُنکی عبادت گاہوں کو خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
راقم یہ سمجھتا ہے کہ آپریشن ضرب عضب میں ایک خاص وسعت وجود میں آئی ہے جس کے نتیجہ میں پورے ملک میں دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خلا ف حالت جنگ کے نفاذ کا عمل درآمد ہونا شروع ہو گیا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تاریخی موڑ پر ریاست کے اعلیٰ ترین مفا د کے پیش نظر پوری قوم اور حکومت وقت فوجی قیادت کا ساتھ دے تاکہ ہم سب سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر دہشت گردی کی لعنت کا جلد از جلد خاتمہ کر سکیں۔