’’کراڑ دا منڈا‘‘

کالم نگار  |  نازیہ مصطفٰی
’’کراڑ دا منڈا‘‘

ٹھیک تیس برس پہلے جون کا مہینہ پنجاب کے ایک حصے میں کچھ اچھی خبریں نہ لایا تھا۔جون شروع ہوتے ہی ریاست میں مکمل کرفیو نافذ کردیا گیا تھا، ریاست میں مواصلات اور رسل و رسائل کے تمام زمینی، ریل اور فضائی ذرائع معطل کردیے گئے تھے، علاقے میں بجلی کی فراہمی بند کرکے ریاست کو باقی ماندہ ملک سے مکمل طور پر کاٹ کر رکھ دیا گیا تھا، میڈیا پر مکمل سنسر شپ عائد کردی گئی تھی، بارڈر سیکیورٹی فورسز اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس کو فوج کے ماتحت کرنے کے علاوہ پوری ریاست میں سات ڈویژن فوج تعینات کرکے ملحقہ ریاستوں کیساتھ ملنے والی سرحدوں کو بھی مکمل سیل کردیا گیاتھا۔فوج نے زمینی راستے سے اپنے ٹینک اوردوسری جنگ عظیم سے مستعمل توپیں میدان میں اتاریں اور فضا سے جنگی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے بمباری شروع کردی۔ پہلے ہلے اور حملے میں ہی سینکڑوں مزاحمت کار کھیت رہے، لاشیں خزاں کے پتوں کی طرح زمین پر پڑی تھیں اور لمبی داڑھی والوں کی مقدس زمین خون سے رنگی جاچکی تھی۔ یہ لمبی داڑھی والے کوئی جہادی نہ تھے، بلکہ یہ تو بھارتی پنجاب کے سکھ تھے، جنہوں نے اپنے مطالبات منوانے کیلئے بندوق اٹھالی تھی اور یہ آپریشن بلواسٹار تھا، جس میں سکھوں کے مقدس مقام ’’گولڈن ٹیمپل‘‘ کو تباہ کرکے رکھ دیا گیا،گولڈن ٹیمپل جہاں سکھ عسکریت پسندوں اور مزاحمت کاروں نے پناہ لے رکھی تھی۔ان مزاحمت کاروں کا سربراہ ایک نوجوان سکھ سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالا تھا ۔ فوج کے پہلے حملے کے بعد شیرومانی گردوارہ پربندھک کمیٹی کے صدر گرچرن سنگھ توہرہ کو مذاکرات کیلئے جرنیل سنگھ بھنڈرانوالا کے پاس گولڈن ٹیمپل کے اندر بھیجا گیا، گرچرن سنگھ کو بھنڈرانوالا نے جو جواب دیا ، اسکے جواب میں اگلی صبح گولڈن ٹیمپل پرایک مرتبہ پھر بمباری شروع کردی گئی۔
پانچ دن وقفے وقفے سے ٹینکوں، توپوں اور ہیلی کاپٹروں سے یہ بمباری جاری رہی ، جسکے بعد بالآخر آپریشن ’’کامیاب‘‘ رہا۔یہ آپریشن صرف گولڈن ٹیمپل میں ہی نہ کیا گیا تھا بلکہ بیک وقت ریاست کے اڑتیس گردواروں میں یہ آپریشن کیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر دس دن جاری رہنے والے اس آپریشن کے نتیجے میں سکھ عسکریت پسندوں کادم خم تو ختم ہو گیا، لیکن 365اعلیٰ تربیت یافتہ فوجی کمانڈوز سمیت سات سو سے زیادہ فوجی بھی مارے گئے۔ دوسری جانب سکھوں کا نقصان انتہائی زیادہ تھا۔اگرچہ سرکاری ذرائع تو یہ تعداد بھی کم ہی بتاتے رہے ہیں، لیکن آزاد ذرائع چار ہزار سکھ عسکریت پسندوں کے علاوہ سکھ سول ہلاکتوں کی تعداد بیس ہزار سے زیادہ بتاتے ہیں۔ اس آپریشن میں جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ سمیت سکھ تحریک کے بڑے بڑے سورمے مارے گئے ، کچھ بیرون ملک فرار ہوگئے اور باقی نے معافی مانگ کر ملکی سیاست کی ’’مین سٹریم لائن‘‘ میں شامل ہونا پسند کرلیا، لیکن اس تباہ کن آپریشن کے باوجود سکھ تحریک کے اثرات ختم نہ کیے جاسکے۔ آپریشن کے صرف تین ماہ بعد ہی اُس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اپنے سکھ محافظوں کے ہاتھوں قتل کردی گئیں، آپریشن کی منظوری دینے والے بھارتی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ارون شری دھر ویدھا کو ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد پونہ میںسکھ نوجوانوں نے بیچ چوراہے میں گولیاں مار کرقتل کردیا ۔ ان دو واقعات کے بعد اگرچہ بھارت سرکار نے سکھوں کو کچلنے کیلئے کافی سخت اقدامات کیے، لیکن آپریشن میں حصہ لینے والی سول اور فوجی قیادت کے خلاف سکھوں کا شدید ردعمل جاری رہا۔ آپریشن کے بعد بھارتی حکومت نے مشرقی پنجاب میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کیں ، مرکز کی جانب سے پنجاب میں زراعت کی ترقی کیلئے بجلی، کھادیں اور بیج مفت کرنے کے علاوہ مالی و معاشی امداد کیلئے بھی اپنے خزانے کے منہ کھول دیے۔گزشتہ تیس برسوں سے جاری اس امداد اور مرکز کی اس پالیسی کی وجہ سے اگرچہ آج مشرقی پنجاب بھارت کی ایک خوشحال ریاست ہے ، لیکن آپریشن بلیو اسٹار کے نتیجے میں جنم لینے والی نفرت کا آج بھی خاتمہ ممکن نہیں ہوسکا، یہی وجہ ہے کہ ہر سال جب جون آتا ہے تو بھارت سمیت پوری دنیا میں موجود سکھوں کے زخم تازہ ہوجاتے ہیں ، اُن کا خون کھولنے لگتا ہے اور گولڈن ٹیمپل کے سانحے میں مرنے والوں کا ’’ماتم‘‘ شروع ہوجاتا ہے۔سکھوں کے غصے کا یہ عالم ہے کہ تین دہائیاں گزرنے کے بعد انکی وہ نسل بھی اس ظلم کو نہیں بھولی جوآپریشن بلیو اسٹار کے وقت شیر خوارگی کی عمر میں تھی۔ اِسی طرح کا ایک واقعہ گزشتہ برس جون میں پیش آیا۔آپریشن بلیو اسٹار میں بھارتی فوج کی کمان کرنیوالے لیفٹیننٹ جنرل کے ایس برار موسم گرما گزارنے کیلئے لندن میں موجود تھے کہ چار سکھوں نے رات کے وقت انہیں ہوٹل کے باہر پکڑ لیا۔ دو سکھ نوجوانوں نے جنرل برار کو بازووں سے پکڑ کر لٹادیا اور تیسرے نے انکے گلے پر چھری پھیر دی، بیگم کے شور مچانے پر اگرچہ حملہ آور جنرل کے ایس برار کو جان سے تو نہ مارسکے ، تاہم جنرل برار کو شدید زخمی کرکے فرار ہوگئے۔ ایک فوجی آپریشن اس وقت پاکستان میں بھی جاری ہے، اس آپریشن کی منصوبہ بندی کرنے والوں نے یقینا اس آپریشن کے مثبت اور منفی تمام پہلووں کا جائزہ لیا ہوگا،آپریشن بلو اسٹار اور ایبٹ آباد آپریشن کی طرح کسی فرضی جگہ پر اس آپریشن کیلئے مشقیں بھی کی گئی ہونگی، یقینا اس آپریشن میں حصہ لینے والے ہماری سپاہ کی جرات و بہادری پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاسکتا،یقینا گزشتہ دس برسوں سے دہشت گردی کے عفریت سے نمٹتے وطن کے سجیلے جوان اس میدان میں بھی سرخرو ہوکر لوٹیں گے، اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ چوڑے شانوں والے ہمارے کڑیل فوجی جوان وطن کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن یقین کی اس مالا کے باوجود خدشہ تو یہی ہے کہ اس آپریشن کے نتائج بھی اگر آپریشن بلو اسٹار کی طرح نکلے تو کیا ہوگا؟کیا زمین کی رگوں میں پلنے والی نفرت کو ختم کیا جاسکے گا؟ قارئین کرام!! سکھ مزاحمت کاروں سے آپریشن کے چوتھے روز مذاکرات کیلئے گولڈن ٹیمپل میں آنے والے گرچرن سنگھ توہرہ کو بھنڈرانوالہ نے جواب دیا تھا کہ ’’کراڑ دی دھی(اندراگاندھی) نوں دس دیو جے، بھنڈرانوالہ مر وی گیا تے، اودھا نظریہ زندہ رئے گا، میں مراں گا، تانجے میرا ضمیر نہیں مریا‘‘۔ گرچرن سنگھ نے تو پتہ نہیں کہ اندراگاندھی کو بھنڈرانوالہ کا یہ پیغام پہنچایا کہ نہیں، لیکن کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ شمال مغرب میں قبائل میں آپریشن کی منظوری دینے والے یہ بات جانتے بھی ہیں کہ نہیں کہ ’’بھنڈرانوالہ مر بھی گیا تو اس کا نظریہ تو زندہ رہے گا’’ اور اگر نظریہ ختم نہیں کیا جاسکتااورمزاحمت کاروں کی سوچ نہیں بدلی جاسکتی تو سروں کی فصل کو خون سے سیراب کرنے کا نتیجہ کیا نکلے گا؟اگر اس نظریے کو ختم نہیں کیا جاسکتا تو پاکستان میں ’’کراڑ دا منڈا‘‘ کیا اِس نظریے کے پیروکاروں کو سدھارنے کا کوئی پروگرام ،پالیسی اور حکمت عملی بھی رکھتا ہے یا نہیں؟