پولیس کا ’’ضربِ غضب‘‘ آپریشن

کالم نگار  |  ڈاکٹر تنویر حسین
پولیس کا ’’ضربِ غضب‘‘  آپریشن

یہ مناظر تو ٹی وی سکرین پر ہماری آنکھوں نے بارہا دیکھے ہیں کہ نہتے‘ مجبور‘ بے قصور اور کمزور فلسطینی مسلمان اسرائیلی گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اسی طرح ہماری آنکھوں نے ہزار بار نہتے کشمیری مسلمانوں کو ہندوستانی بندوقوں کا نشانہ بنتے دیکھا ہے۔ ہم نے ٹی وی آن کیا تو ہمیں ایک طرف نوجوانوں اور باریش بزرگوں پر لاٹھیاں برستی نظر آئیں۔ لاٹھیاں کھانے والوں کے جسم لہولہان تھے۔ پھر گولیاں چلنے کی آوازیں بھی آنے لگیں۔ بدترین لاٹھی چارج اور گولیوں کے جواب میں عوام کی طرف سے پتھر اور روڑے بھی آتے دکھائی دیے۔ ایک لمحے کیلئے ہم نے  سوچا کہ لاٹھیوں اور گولیوں کی زد میں آنے والے یہ مظلوم لوگ شاید فلسطین یا کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ تو ٹی وی پر چلنے والی خبروں والی پٹیوں (ٹِکر) سے پتا چلا کہ جس علاقے کو ہم فلسطین یا مقبوضہ کشمیر سمجھ رہے تھے‘ وہ لاہور کا ایک علاقہ ماڈل ٹائون ہے۔ ہم اپنی پولیس کے بارے میں ہمیشہ خوش گمان رہتے ہیں کہ یہ ہمیشہ عوام کی خدمت کیلئے شب و روز مستعد رہتی ہے۔ اگرچہ ہمارے دوست اکثر کہتے رہتے ہیں کہ ہماری پولیس اس تیل کی مانند ہے جسے کسی لالٹین‘ لیمپ  یا دیے میں ڈال دیں‘ کبھی نہیں جلتا۔ اگر پولیس کو تلوں سے تشبیہ دی جائے تو ان تلوں میں تیل کہاں؟ ہمارے ہاں آپریشن یا تو ہسپتالوں میں ہوتے ہیں یا سڑکوں پر‘ ہسپتالوں میں تو مریضوں کی جان بچانے کیلئے آپریشن کیے جاتے ہیں جبکہ پولیس آپریشن کرتی ہے تو بندہ اس جہان سے اگلے جہان ٹرانسفر ہو جاتا ہے۔ آپریشن تو ہماری پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں ’’ ضربِِِِ عضب‘‘ کے نام سے شروع کیا ہے۔ ہماری پولیس نے خود ہی ’’ضربِ غضب‘‘ کے نام پر منہاج القرآن سیکرٹریٹ اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی رہائش گاہ کے باہر آپریشن کر دیا۔پاکستان کی کشتی تو عرصۂ دراز سے رکاوٹوں‘ ناکوں اور بیریئرز کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ فوج میں کمیشن حاصل کرنے کے لئے ایک آئی ایس ایس بی ٹیسٹ کوہاٹ میں ہوا کرتا تھا جس میں امیدوار کو بہت ساری رکاوٹیں عبور کرنا ہوتی تھیں۔ ہم عوام روزانہ آئی ایس ایس بی کا ٹیسٹ دیتے ہیں‘ لیکن ہماری پولیس کو کسی نجومی یا طوطے نے بتا دیا تھا کہ ملک میں دہشت گردی گھٹنے ٹیک چکی ہے۔ میر امن دہلوی نے ’’باغ و بہار‘‘ میں قسطنطنیہ اور اس کے شہنشاہ آزاد بخت کے عہد کا نقشہ کھنیچتے ہوئے لکھا ہے کہ ساری رات دروازے گھروں کے بند نہ ہوتے اور دکانیں بازار کی کھلی رہتیں۔ راہی‘ مسافر‘ جنگل میدان میں سونا اُچھالتے چلے جاتے۔ کوئی نہ پوچھتا کہ تمہارے منہ میں کتنے دانت ہیں؟ اور کہاں جاتے ہیں؟ کیا ہماری پولیس کو یقین ہو گیا تھا کہ لاہور میر امن کے ان الفاظ کی مانند پُرامن ہو گیا ہے اور اب کسی قسم کے حفاظتی بیریئر کی چنداں ضرورت نہیں۔ اس آپریشن میں آنسوگیس اور ربڑ کی گولیوں کے بجائے بندے مار گولیاں چلتی رہیں۔ جمہوریت جمہوریت کا راگ سب الاپتے ہیں۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ عوام کے سینوں پر گولیاں ماری گئیں۔ اس سانحے میں معاشرے کا ایک ڈنڈا بردار کردار گلو بٹ لوگوں کی گاڑیاں تباہ کرتا نظر آیا۔ اس نے مولے جٹ کی طرح گنڈاسہ لہرایا۔ پولیس والوں سے تھپکیاں لیں اور گاڑیاں توڑنے کے نیک کام سے فارغ ہوکر ٹھنڈی بوتلوں سے پولیس والوں کا دل ٹھنڈاکرتا رہا۔ ہمارے دوست پروفیسر عباس بھٹی صاحب نے اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومتوں کو ایسے فنکاروں کی قدر کرنی چاہیے اور گلو بٹ کو عوام کی کاریں تباہ کرنے کے سلسلے میں تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازنا چاہیے۔ آیندہ پنجاب فیسٹیول میں گلو بٹ شو کا خصوصی اہتمام کیا جائے تاکہ پوری دنیا گلو بھائی کے انوکھے فن اور اس کی ذہانت سے آگاہ ہو سکے۔