ماڈل ٹائون سے وزیرستان تک

کالم نگار  |  مسرت قیوم
ماڈل ٹائون سے وزیرستان تک

بے حد افسوسناک گھٹیا مناظر تھے‘ قانون شکنوں‘ مظاہرین کا شیشے توڑنا سمجھ میں آتا ہے مگر قانون کے رکھوالوں کا سرعام ڈنڈے مار کر گاڑیوں کے شیشے توڑنے کی فلاسفی سمجھ سے باہر ہے۔ اِلا کہ کسی ایجنڈے کی تکمیل مقصود نہ ہو۔ ذمہ دار ہونے کی صورت میں وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ پر کچھ لوگوں نے پیشگوئی کی کہ حکمران پاگل نہیں جو ایسی حرکت کر ڈالیں یقینا ’’صاحبزادے‘‘ کو ’’گدی‘‘ پر بٹھانا طے ہو چکا ہے مگر بہت ساری پیشگوئیوں کو رد کرنے کی عادت نے اِس بات کو بھی ہنس کر بدل دیا۔ پولیس کا کردار تو قابل نفرت ہے ہی مگر تعمیراتی کاموں کا ریکارڈ بنانے والے ایک بڑے صوبے کے ’’وزیر اعلیٰ‘‘ کو ’’مودی‘‘ جیسے موذی کر دار سے تشبیہ دینا اس سے بھی زیادہ شرمناک ہے۔’’قاف لیگ‘‘ والے پولیس کو نوکری چھوڑ کر تحریک میں شامل ہونے کا مشورہ دیکر آئین پسند یا جمہوری مزاج رکھنے والی صف سے تعلق کو مشکوک بنا گئے؟ اگر ’’قاف لیگ‘‘ حکومت میں ہوتی‘ مخالف جماعت یہ مشورہ دیتی تو یہ فوراً سے پہلے بغاوت ۔غداری کا الزام لگا کر مقدمات درج کروا رہے ہوتے ۔ چودہری اور مولانا کا اکٹھ عوامی مسائل کے حل کیلئے نیک شگون ہے مگر حکومت کے خاتمہ کیلئے یوں سازشیں کرنا ہلکے پن کی علامت ہے۔ بیریرز لگانے کی نوبت کیوں آئی؟ ’’عوامی تحریک‘‘ والوں کو عوام سے کیا ڈر؟بقول حکومت۔  بیریرز غیر قانونی تھے تو غیر قانونی کام کیوں کیا؟ پھر دوسروں کو کس منہ سے قانون کی بالا دستی کا مشورہ دیا جاتا ہے۔سانحہ ماڈل ٹائون کی تحقیقات کیلئے یک رکنی عدالتی کمیشن کا قیام بروقت ہے۔ ’’ 6 ماہ کے اعصاب شکن ماحول۔ مذاکرات  + مذاکرات کے بعد بالاآخر آپریشن شروع ہو گیا۔ عام شہری استفسار کرتے پائے گئے کہ کیا ’’6 ماہ‘‘ ’’محفوظ راستہ‘‘ دینے کیلئے تھے۔ کیونکہ مطلوب لوگ اب محبوب لوگ بن کر کہیں اور بجھوانے مقصود تھے؟ کراچی ائیر پورٹ کے سانحہ کے دن ہی اصولی فیصلہ ہو جانا چاہیے تھا مگر حکومت سے لیکر قانون نافذ کرنیوالے ادارے تک اپنے مقاصد۔ اہداف اور ذمہ داریوں بابت متذبذب ہیں جبکہ دہشت گرد ایک واضح مقصد،مشن لیکر آتے ہیں یوں دونوں کے مابین ناکامی۔ کامیابی کا تناسب آپ دیکھ سکتے ہیں‘ اُنھوں نے جب چاہا‘ جدھر چاہا کامیاب حملہ کر کے قوم‘ اداروں کو بڑے نقصان سے دوچار کر دیا۔ ’’جی ایچ کیو‘ پریڈلین‘ مہران‘ کامرہ بیس‘ پشاور ائر پورٹ‘‘ کے واقعات میں دہشتگردوں کے ہتھیار‘  پلاننگ اور منظم انداز میں کاروائیوں کو سرسری نظر ہی بھانپ لیتی ہے کہ دشمن قوتوں کی طاقتور ایجنسیاں ملوث ہیں۔بیرونی طاقتوں کے تربیت یافتہ افراد نہ صرف ماسٹر مائینڈ ہیں بلکہ حملے بھی وہی کرتے ہیں۔ ہاں’’ٹیم‘‘ میں ایک آدھ ’’مقامی ناراض‘‘ بھی شامل ہوتے ہیں۔ گزرے سالوں میں دہشت گردوں کے حساس تنصیبات پر حملوں کے نتیجہ میں سینکڑوں اہم شخصیات کے ہلاک ہونے کے باوجود ’’پاکستان‘‘۔ ابھی تک قومی سلامتی کا کوئی باعمل ۔ متفقہ۔ جامع پلان تیار کرنے میں ناکامی کا منہ دیکھ رہا ہے اِسی باعث ہم ایک طویل خونی سفر اور بے یقینی کی انتہا پر پہنچ چکے ہیں۔ ایک ایٹمی قوت اپنے اندرونی تنازعات‘ نسلی منافرت۔عصبیت ۔پرائی قوم کی پرائی جنگ کی قیمت چُکاتے ہوئے بے حد کمزور لیول پر پہنچ چکی ہے تو صرف اسلئے کہ ہمارے ’’ذمہ دار ہاتھوں‘‘ میں ذمہ داری سمانہیں پا رہی۔ کوئی احساس ذمہ داری بھی محسوس کرنے کو تیار نہیں بروقت درست فیصلوں کی سکت۔ صلاحیت سے محروم ’’قیادت‘‘ ملک کیلئے خطرہ بن رہی ہے۔ اُوپر کی سطح سے ’’آپریشن ‘‘ کو دیکھیں تو دہشت گردی کے تناظر میں خبر بھلی معلوم ہو گی مگر بنظر غائر جنگ لڑنے کے اسباب تو جمع ہو رہے ہیں مگر جنگ  ہونے کی وجوہات دور کرنے اور جنگ روکنے کی تدابیر کرنے پر کوئی راضی نہیں۔بہرحال اپنے ادارو ں کے احترام اور حکومت کے اچھے کاموں کا ساتھ دینا میڈیا اور سوسائٹی پرفرض ہے اس نازک مرحلے پر قوم کو متحد ہو نا چاہیے تا کہ دشمن کی سازشو ں کو ناکام بنایا جا سکے۔