ضرب عضب …کامیابی کیلئے عظیم تر قومی اتحاد کی ضرورت

کالم نگار  |  محمد یسین وٹو
ضرب عضب  …کامیابی کیلئے عظیم تر قومی اتحاد کی ضرورت

حکومت نے مذاکرات کے آپشن کی ناکامی پر شمالی وزیرستان میں ایک بڑے اپریشن کا فیصلہ کرکے فوج کو کارروائی کو اختیار دیدیا۔وزیرستان دہشتگردوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔اپریشن کو دیر آید درست آید کہا جاسکتاہے لیکن اس دیرکی بھینٹ سیکڑوں انسان چڑھ گئے۔ان میں سکیورٹی اداروں کے افسر ،جوان ،خواتین اور بچوں سمیت عام شہری بھی شامل ہیں۔23فوجی جوانوں کے سر بھی اسی عرصے میں کاٹ کر ظالم ان کو ٹھڈے مارتے رہے۔شریعت کا نفاذ شدت پسندوں کا ایجنڈہ نہیں ہو سکتا ۔ کس شریعت میں معصوم لوگوں بچوں اور عورتوں کو تہہ تیغ کر نا جائز ہے؟انکا ایجنڈہ خود انکے خالد سجنا گروپ نے نقاب کردیا کہ ’’ ٹی ٹی پی کو پاکستان میں دہشتگردی کیلئے بیرونِ ممالک سے فنڈ ملتے ہیں۔یہ بھتہ خوری کرتی اور اغواہ برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی ملوث ہے‘‘یہ کوئی انکشاف نہیں تھا ،اس حوالے سے پہلے بھی رپورٹیں میڈیا میں گردش کرتی رہی ہیں لیکن اب شدت پسندوں ہی کے ایک گروہ کی طرف سے تصدیق کے بعد طالبان کے ایجنڈے میں شک باقی نہیں رہا کہ اسکے ذمہ دار پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔اس تنظیم کے ساتھ مقاصد کے پیشِ نظر مذاکرات کی ضرورت نہیں تھی اگر اتمام حجت کیلئے مذاکرات کی کوشش کی گئی تھی تومذاکراتی عمل کے دوران انکی بہیمانہ کارروائیوں کے بعد مذاکراتی عمل ختم کردینا چاہیے تھا۔ پھر جب سجنا گروپ نے انکا اصل چہرہ بے نقاب کیا تو اسکے بعد بھی مذاکرات کا سرے سے جواز ختم ہوگیا تھالیکن ہمارے حکمرانوں کے سر پر دہشتگردوں کی دھمکیوں کے خوف کے سائے لہرارہے تھے۔اسی خوف کے باعث چار سو اسی دہشتگردوں کی سزائے موت پر عمل روک دیا گیااور یہ احکام ہنوز لاگو ہوں، جس کا فائدہ سزائے موت کی سزا پانے والے دیگر مجرموں کو بھی پہنچ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین پر تشدد کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ آبرو ریزی، قتل اور اغوا برائے تاوان جیسے بہیمانہ جرائم میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ شہباز تاثیر ،علی حیدر گیلانی اسی سبب اغوا ہوئے کی مجرموں کو اپنے احتساب کا خوف نہیں تھا۔ کل ملتان میں چیف جسٹس آف پاکستان جناب تصدق حسین جیلانی کے بھتیجے جو حساس ادارے کے افسر ہیں کواغوا کرلیا گیا۔چند روز قبل ننکانہ سے تعلق رکھنے والے ایک ایم پی اے کو اغوا کیا گیا تھا اب کہا جارہا ہے کہ اسے افغانستان منتقل کردیا ہے۔ جب مجرموں کو ڈھیل دی جائیگی تو جرائم میں اندھادھند اضافہ تو ہوگا سو وہ ہورہا ہے۔
 جنرل راحیل نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشتگردوں کا ایک بھی ٹھکانہ نہیں چھوڑیں گے۔ سیاسی جماعتوں نے ضرب عضب کی کھل کر حمایت کی ہے۔ عمران خان طالبان کیساتھ مذاکرات کے سب سے بڑے حامی تھے وہ بھی انکے پے در پے حملوں سے مایوس ہوگئے اب انہوں نے گو اعتماد میں نہ لینے پر گلا کیا ہے لیکن فوج کو ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے اپریشن کی کامیابی کی دعا کی ہے۔ اپریشن کا آغاز اطمینان بخش تھا ۔ سیاسی قیادت ایک پیج پر تھی ۔ عمران خان اپنا بہاولپور کا جلسہ ملتوی کردیا تھا قوم میں اتحاد پیدا ہورہا تھا کہ حکومت لاہور میں منہاج القرآن کے سیکرٹریٹ پولیس گردی کروا کے نان اشو کو اشو بنا دیا۔جہاں دو خواتین سمیت ا ٓٹھ افراد جاں بحق ہوئے۔جن رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش کی جارہی ایسی رکاوٹیں ہر شہر کے پوش اور عام علاقوں میں موجود ہیں۔ منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے آس پاس لگے بیریئر ہٹانے کی اتنی شدت سے ضرورت کیوں محسوس کی گئی کہ آٹھ لاشیں گرا دیں اور اسی سے افراد ہسپتال میں داخل ہیں۔ طاہر القادری کہتے ہیں کہ حکومت نے یہ کارروائی فوجی اپریشن کو ناکام بنانے کیلئے کی ہے۔ عمران خان نے حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ دیکھتے ہوئے بہاولپور میں جلسے کی منسوخی کا اعلان واپس لے لیا ہے۔ دہشتگردوں کیخلاف اپریشن فوج کررہی ہے ، وزیر اعظم میاں نواز شریف نے فوج کا ساتھ دینے کا دو ٹوک اعلان کیا ہے وزیر اعظم کو چاہیے کہ اپریشن کے خاتمے تک نان اشوز کو اشو بنانے گریز کریں۔ حکومت کی پوری توجہ ضربِ عضب کو کامیاب بنانے پر ہونی چاہیے۔ آج اس نازک موقع پر پوری قوم کے سیسہ پلائی دیوار بننے کی ضرورت ہے۔دہشتگردوں ہمارے شہروں میں پناہ ملتی رہی ہے۔ ان کا شمالی وزیرستان میں عرصہ حیات تنگ ہورہا ہے تو پھر پُرامن شہروں کا رخ کرینگے اور موقع ملتے ہیں ان میں آگ لگا دینگے۔ قوم ان کو اپنے اندر داخل نہ ہونے دے، یہی اسکی طرف سے فوج کیساتھ بہترین تعاون اور حب الوطنی کو تقاضا بھی ہے۔