جنوبی ایشیاء کا موجودہ منظرنامہ کسی خوفناک انجام کی نشاندہی

جنوبی ایشیاء کا موجودہ منظرنامہ کسی خوفناک انجام کی نشاندہی

گزشتہ اتوار کے روز جب حکومت پاکستان نے افواج پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی رٹ یعنی اتھارٹی کو وزیرستان میں بحال کرنے کیلئے باضابطہ حکم نامہ جاری کیا تو یہ ایک ایسا تاریخی اعلان تھا جو سر زمین پاکستان پر مسلط غیر ملکی و مقامی دہشتگردوں اور عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کیخلاف جنگ کا اعلان تھا۔ ان عسکریت پسند عناصر اور دہشت گردوں نے جن کا تعلق اردگرد کے مختلف ممالک سے بتایا جاتا ہے انہوںنے فاٹا کے سرحدی علاقوں میں خفیہ ٹھکانے اور ٹریننگ کیمپ قائم کر رکھے تھے جہاں سے تربیت حاصل کرنے کے بعد مختلف ذرائع سے مہیا کئے گئے اسلحہ سے لیس ہو کر یہ عسکریت پسند اور دہشتگرد بشمول خود کش بمباروں کے پاکستان کے مختلف حصوں میں مخصوص اہداف اور ٹارگٹوں پر حملہ آور ہو کر وطن عزیز میں آگ اور خون سے پیدا ہونے والی تباہی و بربادی کا دائرہ وطن عزیز کے مختلف اداروں اور شہروں میں وسیع سے وسیع تر کرتے جا رہے تھے ۔ کیا پورے پاکستان میں درندگی اور موت کا یہ رقص محض ایک بے مقصد شیطانوں کا ڈارونا حیوانی رقص و سرور کا ڈرامہ تھا یا دنیا کے مختلف زمین کے اوپر اور زیر زمین وسائل پر قبضہ کرنے کا ایک سوچا سمجھا نہایت گہری تحقیق پر مبنی ماسٹر مائنڈ منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ جو ایک عرصہ سے مختلف منزلیں طے کرتے ہوئے درجہ با درجہ دنیا کے مختلف خطوں میں ماسٹر پلان کی سٹرٹیجی کے تحت عمل درآمد کے مختلف مراحل سے گزر رہا ہے۔ اور قیام پاکستان سے لیکر گزشتہ 67 سالوں کے دوران وطن عزیز جس گردش لعل و نیہال سے گزر رہا ہے وہ مخصوص ممالک کے مخصوص طبقات کی مخصوص گرینڈ سٹرٹیجی اور ماسٹر پلاننگ کا حصہ ہے۔میری اور آپ سب کی آنکھوں کے سامنے جمہوریت کے نام پر شخصی اور خاندانی حکومت کا جو مکروہ کھیل وطن عزیز کے عوام کے ساتھ گزشتہ چند دہائیوں سے کھیلا جا رہا ہے اس سے زیادہ بھونڈا مذاق عوام سے نہیں کیا جا سکتا جن کو روز اول سے نا خواندہ رکھنے کی سازش میں سب حکومتیں شامل ہیں اگر کسی بھی جمہوری یا غیر جمہوری حکومت نے شعبہ تعلیم کے بجٹ میں GDP یعنی قومی آمدنی کا ڈیڑھ یا زیادہ سے زیادہ 2 فیصد سے اوپر رقم مختص کی ہو تو میرا چیلنج ہے کہ وہ عوام کے سامنے اس کا اعلان کرے۔ یا کم سے کم قوم سے دھوکہ کرنے کی معافی مانگے۔ ایک فیوڈل نظام میں تعلیم سے عاری آبادی جو اپنے ووٹ کے حق کے شعور سے محروم ہے۔ وہ آزادانہ غیر جانبدارانہ اور خود مختاری کے ساتھ کیسے ووٹ دہندگی کا بنیادی فریضہ بجا لایا جا سکتا ہے اس لئے میرا یہ دعویٰ ہے کہ پاکستان میں کبھی بھی مہذب جمہوری قدروں کیمطابق انتخابات کا انعقاد دیانتداری سے نہیں کیا گیا۔ اگر میرے اس بیان میں سچائی کو منظر عام پر لانا قومی مفاد میں مقصود ہو تو اعلیٰ عدلیہ از خود نوٹس لیکر پاکستان میں ہونیوالے کسی بھی جنرل انتخابات کا ریکارڈ جانچ پڑتال کر کے سچائی کو قوم کے سامنے لا سکتی ہے۔ آجکل اسی موضوع پر احتجاج کا شور و غوغہ ہے۔ کہ گزشتہ عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔ مہذب جمہوری ممالک میں ایسے احتجاج اسلئے دیکھنے میں نہیں آتے کیونکہ ایک حقیقی معنوں میں آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن اس کا موقع ہی آنے نہیں دیتا۔ اس کالم کی ابتداء فاٹا میں اعلان جنگ سے ہوئی تھی۔ کیا حالت جنگ میں کسی مہذب معاشرے کے یہی طور طریقے ہوتے ہیں جو اخبارات کے صفحہ اول کی خبریں اور ٹیلی ویژن کے تمام چینل قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ نہایت ادب سے میں پارلیمان کے اندر اور باہر تمام سیاسی پارٹیوں کی قیادت اور پاکستان کے محب وطن بہادر عوام سے التماس کرتا ہوں کہ کیا حالت جنگ میں معاشرہ کی مجموعی سطح پر اسی انداز کے طور طریقے ہوتے ہیں۔ کہ معاشرہ کے تمام طبقات سیاسی معاشرتی سماجی اور انسانی قدروں کا خون کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دست و گریباں ہیں۔ امن و امان‘ نظم و نسق نہ ہونے کے برابر ہے۔ دن دیہاڑے قانون کے محافظ عوام کی عزت و آبرو لوٹنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ بڑے شہروں میں حکومت وقت سے ان کو اپنی جان و مال اور آبرو کا تحفظ نہ ملنے پر ہر گلی محلے میں لوگوں نے ناجائز اور غیر قانونی تجاوزات اور تالا بند گیٹ لگوا کر پرائیویٹ چوکیداروں کی حفاظت میں محصور کر رکھا ہے اور پولیس کے انسپکٹر جنرل سے لیکر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے دفتروں و گھروں کے باہر ایسے حفاظتی مورچے اور کنکریت کی دیواریں تعمیر کروا دی گئی ہیں جن سے ہر ایک شہری پر عیاں ہے کہ عوام کے محافظ اپنے آپکو کتنا غیر محفوظ ہونے کا تاثر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کیخلاف اعلان جنگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ معاشرے کا ایک طبقہ بشمول حکومتی یہ رویہ کہ درندگی اور دہشت گردی کرنے والوں کو ایسا کہتے ہوئے بھی خوف محسوس کیا جاتا ہے اور جن باغی عناصر کو جو بے گناہ پاکستانی شہریوں جن میں عورتیں اور بچے بھی ہیں۔ 60 ہزار سے زیادہ تعداد میں قتل و غارت کے ذمہ دار 6 ہزار سے اوپر افواج پاکستان کے بہادر جوانوں کو شہید کرنیوالے جن میں میجر جنرل اور لیفٹیننٹ جنرل رینک کے فوجی کمانڈر شامل ہیں انکے قاتلوں کو محض عسکریت پسند کہنے پر ہی اتفاق کیا جاتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعلان جنگ کے باوجود اس اعلان کی روح ابھی تک فولادی عزم سے خالی اور غیر یقینی فکری افراتفری کا شکار ہے جبکہ افواج پاکستان کا عزم ’’ضرب عضب‘‘ کے آپریشنل جذبہ کا آئینہ دار ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ موجودہ اعلان جنگ کیساتھ ہی حکومت ملک میں ایمرجنسی کا بھی اعلان کر دیتی۔ کیونکہ حالت جنگ کا تقاضا ہے کہ غیر معمولی حالات سے نمٹنے کیلئے غیر معمولی اقدامات کئے جائیں جو زمانہ امن کے معمول سے ہٹ کر خصوصی اقدامات کے بغیر جنگ کے مقاصد اور دشمن کی شکست کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ سچ تو یہ ہے کہ درحقیقت اسلامی جمہوریہ پاکستان اپنے قیام کے روز اول سے ہی اپنے بعض گمنام اور بعض جانے پہچانے ایسے عناصر اور قوتوں سے حالت جنگ میں ہے جنہوں نے آج تک دل سے پاکستان کے وجود اور ریاست کو تسلیم نہیں کیا ہے اور ہمیں صفحہ ہستی سے یہ قوتیں مٹانے کے درپے ہیں لیکن جس رب العزت نے اس مملکت کو اسلام کا ایک قلعہ بنانے کیلئے دنیا کے نقشہ پر قائم کیا ہے وہ اسے ہمیشہ قائم و دائم رکھے گا۔ آمین