تعصب کی سیاست

کالم نگار  |  رابعہ رحمن
تعصب کی سیاست

سیاست حقیقت میں عوام کی خدمت اور فلاح کا نام ہے۔ اس کا محور بھی عوام ہی ہونے چاہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ ایک مقدس پیشہ ہے مگر ہمارے ہاں معاملہ اسکے بر عکس ہے۔ ادھر مجموعی طور پر تجربہ یہ رہا ہے کہ ابن الوقتی،مفاد،موقع پرستی اور منافقت سیاست پر حاوی رہے ہیں۔ جمہوریت اور سیاست کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے اور اسی وجہ سے ہمارے ہاں جمہوریت بھی پنپ نہیں سکی۔ جب بھی جمہوری عمل میں رکاوٹ پڑی ہے تو اس کا بڑا سبب بھی سیاستدانوں کا رویہ ہی رہا ہے۔ فوجی مداخلت کو بھی سیاستدانوں کا ایک گروہ ہی خوش آمدید کہتا ہے اور بعد میں اس کو جلا بھی بخشتا ہے۔ اس سارے طرزِ عمل کا مقصد اور منشا صرف ذاتی مفاد اور موقع پرستی ہی ہوتا ہے۔ہمارے سیاسی رہنما اپنے مخالف کے کسی اچھے کام کی تعریف کرنے کو اپنی شکست تصو ر کرتے ہیں اور تنقید عموماً مثبت اور قابلِ عمل تجاویز کے بغیر ہی کی جاتی ہے۔ سیاسی جماعتیں چونکہ تنظیم سازی کی طرف توجہ نہیں دیتیں اسی وجہ سے اپنے ورکرز کی تربیت بھی نہیں کر پاتیں جس کا نتیجہ ہلڑ بازی اور بعض اوقات اخلاقیات سے گرے ہوئے الزامات کی صورت میں نکلتا ہے۔ چونکہ سیاست کا محور شخصیات ہوتی ہیں اسی وجہ سے تنقید اور الزامات کا سامنا بھی انہی شخصیات کو ہی کرنا پڑتا ہے۔باوجود اسکے کہ تعصب پر مبنی سیاست کرنیوالی جماعتوں کو عوام میں وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل نہیں ہوتی مگر یہ عنصر ایک ناسور کی صورت میں ہماری سیاست میں بحرحال موجود ہے جسے ملک دُشمن قوتیں استعمال کرنے کی کوشش بھی کرتی رہتی ہیں۔ پنجاب چونکہ آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور ملکی سیاست میں اقتدار کے حصول کا محور بھی لہٰذا تعصب کا سب سے بڑا ہدف بھی پنجاب ہی بنتا ہے۔ ہر ناکامی اور مسئلے کا الزام پنجاب پر لگانا ایک رواج بن چُکا ہے اس سے بعص سیاسی جماعتیں شہ سُرخیوں میں آنے کے علاوہ اپنے اپنے مخصوص علاقوں میں زندہ تو رہ سکتی ہیں مگر اس سے ملکی وحدت اور سا لمیت پر کیا منفی اثرات پڑتے ہیں اس کا اندازہ تو اُنہیں خوب ہے اور رہتا ہے بحرحال اپنے مفاد کی وجہ سے اُنہیں اس سے کوئی سرو کار نہیں۔ یہاں تک کہ پیپلز پارٹی جیسی بڑی جماعت بھی سندھ میں اپنے ووٹ بینکر کو قائم رکھنے کیلئے بعض اوقات پنجاب پر الزامات لگانے سے نہیں کتراتی باوجود اسکے کہ اُسے اقتدار میں ہمیشہ پنجاب کے عوام ہی لاتے ہیں۔ گذشتہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت کی صورت میں سامنے آئی ہے اور باوجود اسکے کہ خیبر پختونخواہ میں اسے حکومت بنانے کا موقع بھی ملا ہے۔ حال ہی میں سیالکوٹ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے پنجاب پر وسائل کی تقسیم میں سنگین نا انصافی جیسے الزامات بھی لگائے۔ اگر عمران خان کو صوبہ خیبر پختونخواہ کو مہیا کردہ وسائل پر کوئی اعتراض ہے تو اُس کیلئے آئین میں مشترکہ مفادات کی کونسل جیسا انتہائی معتبر اور بااختیار فورم موجود ہے جس کے خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اعلیٰ ایک اہم رُکن ہیں۔ ہمیں اس طرح کے حساس معاملات پر سیاست نہیں کرنی چاہیے بلکہ مروجہ طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے اپنا نقطہ نظر بیان کرنا چاہیے۔ اس طرح کے الزامات سے ہم وقتی فائدہ حاصل کر کے ہیڈ لائنز کی زینت تو بن سکتے ہیں مگر ملک کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔ آج بحیثیت قوم ہم ایک گھمبیر صورتِ حال سے دوچار ہیں جس کا مقابلہ صرف ایک قومی اور متحدہ سود سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ گروہی،لسانی اور علاقائی طرزِ فکر ہمیں مزید کمزور ہی کرے گا جس کا فائدہ دُشمنوں کو ہو گا اور وہ ایسے عناصر کو ہوا دینگے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ذاتی مفاد اور انا سے باہر نکل کر ملک کا سوچیں اور پاکستان کی فلاح اور بھلائی کو اپنی سیاست کا محور بنائیں۔ یاد رہے کہ ہر سیاست کا اقتدار اور مقبولیت پاکستان سے ہی وابستہ ہے۔ سیاست حقیقت اور مثبت سوچ پر مبنی ہونی چاہیے نہ کہ ذاتیات اور مفاد پر۔ دُنیا بہت آگے نکل چُکی ہے۔ اب ہمیں بھی ہوش کے ناخن لینے چاہیں۔