اپنا اپنا گلو بٹ

کالم نگار  |  امتیاز احمد تارڑ
اپنا اپنا گلو بٹ

خبروں کی برسات ہے۔ جل تھل ہو رہا ہے۔گلی کوچے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹائون نے ہر ذی روح کے دل کو کرچی کرچی کر دیا ہے۔ 11 افراد کی شہادت کی خبر سن کر یوں لگا جیسے تیز دھار خنجر میرے دل میں اُتر گیا۔ میرے اعصاب میری گرفت میں نہ رہے۔ آنکھوں میں آنسو اُمڈ آئے۔ میں نے ضبط کی ساری قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے آنسوئوں کو قابو کیا‘ لیکن میری آنکھوں کے سامنے لال مسجد کا سانحہ پھر سے آگیا۔ لاہور شہر کا حُسن و جمال وفاقی دارالحکومت سے بہت مختلف ہے۔ یہاں وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کی ہمسائیگی میں خون کی ہولی کھیلی گئی‘ لیکن انہیں خبر تک نہیں ہوئی۔ سچ کہا گیا کہ بربریت معاشرے کے کسی قرینے کو نہیں مانتی۔ رعونت اپنے ضابطے خود بناتی ہے۔طاقت کا نشہ آئین و قانون کے تقاضوں سے ماورا ہوتا ہے۔ درندگی اخلاقیات کا کوئی پیمانہ نہیں رکھتی اور فتح و کامرانی کا جنون انسانیت کے آداب سے بیگانہ ہوتا ہے۔ بیریئر ہٹانے کا مسئلہ افہام و تفہیم سے حل کیا جا سکتا تھا‘ لیکن پولیس کی نیت مسئلہ سلجھانے کی نہیں بلکہ الجھانے کی تھی۔ اسی لئے وہ اپنے ساتھ گلو بٹ کو ’’سرتاج‘‘ بنا کر لائی تھی۔ فیصل ٹائون لاہور کا رہائشی گلو بٹ مسلم لیگ (ن) کا دیرینہ کارکن ہے۔ گاڑیوں کے شیشے توڑنے کے بعد وہ ایس پی ماڈل ٹائون طارق عزیز اور عمر چیمہ سے شاباش وصول کرتا رہا۔ ہمارے معاشرے میںہر طاقتور نے اپنا اپنا گلو بٹ پال رکھا ہے۔ وہ پہلے ’’گل‘‘ ہوتا ہے اور مالکان کے مفادات کیلئے چوری‘ ڈکیتی‘ بھتہ وصولی جیسی وارداتیں کرکے انکی آنکھوں کا تارا بنتا ہے۔ جب اس کا طوطی بولنے لگتا ہے تو پھر ’’گلو‘‘ بن جاتا ہے‘ لیکن گلو سے اُلو بننے کیلئے کیمرے کی آنکھ میں آنے کی دیر ہوتی ہے‘ پھر وہ اُلو سے اُلو باٹا بن جاتا ہے۔ پولیس چوروں اور ڈاکوئوں کی لتر پریڈ کرنے کیلئے اپنے گلو پالتی ہے جبکہ سرمایہ دار اپنے ملازمین پر رعب و دبدبہ قائم رکھنے کیلئے دوچار ’’گلو‘‘ پالتا ہے۔ امیر زادے سے اگر غلطی ہو جائے تو ’’گلو‘‘آگے بڑھ کر سینہ تان کر اپنے باس کی جگہ حوالات میں چلا جاتا ہے۔ ایسے ’’گلو‘‘ آپ کو ہر گلی اور محلے میں مل جائینگے‘ لیکن یہ گلو جب ’’اُلو‘‘ بنتے ہیں تو پھر ان پر ’’ضربِ غضب‘‘ پڑتی ہے۔ پاک فوج نے بھی روس کیخلاف کافی گلو اکٹھے کئے تھے جنہوں نے فوج کی سرپرستی میں سپر پاور کو ناکوں چنے چبوائے‘ ایک سپر پاور کو روئی کے گالوں کی طرح بکھیر دیا تھا۔ تب وہ پاک فوج کی آنکھوں کے تارے تھے لیکن جب انکی طاقت کا طوطی بولنا شروع ہوا تو وہ ’’گلو‘‘ ہمارے لئے ایسی ہڈی ثابت ہوئے جو نگلی جا رہی ہے نہ ہی اُگلی جا رہی ہے۔ فوج نے بالاخر مجبور ہو کر اپنے گلو سے گلو خلاصی کیلئے آپریشن ضرب عضب شروع کیا ہے کل کے گلو جب سامنے کھڑے ہوئے تو وہ اُلو بن گئے ہیں۔ لاہور پولیس نے اپنے گلو سے علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے بارے لوگوں کے دلوں میںہمدردیاں ڈال دی ہیں۔ پنجاب میں میاں شہباز شریف کو تحریک انصاف، پاکستان عوامی تحریک، شیخ رشید اور چودھری برادران مل کر وہ نقصان نہ پہنچا سکے جو انہیں انکی کابینہ میں موجود مونچھوں والے گلو بٹ نے پہنچایا ہے۔ طاہرالقادری نے پہلے 23 جون کو اکیلے راولپنڈی آنا تھا‘ اب اس کے پاس 11 شہداء کی لاشیں اور 93 زخمی بھی ہیں۔ شہباز شریف کی کابینہ میں شامل مونچھوں والے گلو بٹ کی ایک غلطی نے طاہرالقادری کو مظلوم بنا کر 18 کروڑ عوام کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ شہباز شریف کو کون بتائے کہ انقلاب کا آغاز ہمیشہ ایسی ہی غلطیوں سے ہوتا ہے اور بڑے بڑے بادشاہوں کو انکے گلو بٹ جیسے کارندے ہی بے تاج و تخت کراتے ہیں۔ طاہرالقادری اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کو شہدائے انقلاب کے نام سے منسوب کرکے چوکوں اور چوراہوں پر میلے سجائیں گے۔ لاہور پولیس نے اپنے گلو بٹ کو گرفتار کر لیا‘ لیکن شریف برادران اگر عوامی ردعمل سے بچنا چاہتے ہیں تو وہ بھی اپنے گلو بٹ کو عہدے سے ہٹا دیں کیونکہ ان کا گلو بٹ گاڑیوں کے شیشے نہیں توڑ رہا بلکہ شہداء انقلاب کے لواحقین کے زخمی دلوں کو توڑ رہا ہے اس لئے کمال دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ اپنے اپنے گلو بٹ کی رسی کو کھینچ کر اس کو اسکی اوقات میں رکھا جائے۔ اگر آپ شہر کے پرندوں سے بھی پوچھیں گے تو وہ اس بات کی گواہی دینگے کہ لاہور میں ماضی میں گلو بٹ کا کردار ادا کرنیوالوں کو انکے سربراہوں نے ہی مطلب پورا ہونے پر گولیاں مروائیں تھیں لہذا ہر ذی شعور کو یہ کردار اپنانے سے قبل اسکے انجام بارے بھی سوچنا چاہئے۔ موجودہ گلو بٹ کیساتھ کل ماڈل ٹائون کچہری میں جو کچھ ہوا وہ اُلوئوں کی آنکھیں کھلونے کیلئے کافی ہے۔