آخر کیا ہونے والا ہے…؟

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی
آخر کیا ہونے والا ہے…؟

منہاج القرآن سیکرٹریٹ لاہور کے باہر جو کچھ ہوا، کیا وہ ہونا چاہیے تھا ؟ اس پر کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیے اور یقینا پولیس کے ہاتھوں لاٹھی چارج، فائرنگ سے دو خواتین سمیت آٹھ افراد کا جاں بحق ہونا انتہائی قابل مذمت اور تشویشناک ہے۔ سمجھ سے باہر ہے کہ کوئی حکومت اپنے پیر اس انداز میں کیسے کاٹ سکتی ہے۔ گذشتہ روز اس سانحہ کے حوالے سے ایک حساس ادارے سے متعلق ایسی خبریں سامنے آتی رہیں کہ صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ خاں اس سانحہ کے ذمہ دار ہیں۔ رانا ثناء اللہ ہوں یا کوئی بھی ذمہ دار ہو، وہ بے گناہوں کے ناحق قتل سے بچ نہیں سکتا اور اگر بچ بھی گیا تو اللہ رب العزت کے انصاف کے کٹہرے سے اسے بالاخر ہو کر گزرنا ہو گا۔ سانحہ لاہور پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور الیکٹرانک میڈیا پر یہی سانحہ موزوں بحث بنا ہوا ہے۔ اس سانحہ کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، کس نے ایسا کروایا، کس کی غلطی تھی اور آئندہ انصاف کے تقاضے کیا ہیں، اس بارے میں انصاف کے تحت جلد ہی فیصلہ ہو جانا چاہیے۔ حکومت سانحہ لاہور کے بعد میڈیا کے بھی بھرپور رگڑے میں ہے جبکہ سول سوسائٹی اور بیشتر تنظیمیں حکومت کے اس وطیرے پر سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں۔ سانحہ لاہور پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بڑی اہم بات کہی ہے کہ جمہوریت کو مضبوط کر کے حکومت کیخلاف تمام قیاس آرائیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ موجودہ حکومت کی کمزوری ہے کہ قیاس آرائیاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں حالانکہ لانگ مارچ تو ڈاکٹر طاہرالقادری اور خود نوازشریف نے پیپلزپارٹی کے دوراقتدار کے دوران کیا تھا۔ گیارہ مئی 2013ء کے بعد سے مسلم لیگ(ن) کی حکومت قائم ہوتے ہی پرویزمشرف کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمے کی سماعت کے بعد سے ایسی افواہیں اور انکے نتیجے میں قیاس آرائیاں مسلسل گردش ایام میں ہیں کہ حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات پیدا ہو چکے ہیں اور اسی بناء پر مختلف سیاسی جماعتیں موجودہ حکومت کے در پر ہو چکی ہیں۔ تحریک انصاف پر تک اس طرح کے الزامات عائد ہوئے جس کی وضاحت عمران خان کو اپنے جلسوں اور پریس کانفرنسز میں کرنی پڑی۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ حکمران جماعت کے مختلف وزراء اور اراکین اسمبلی آف دی ریکارڈ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات ہونے کی تصدیق کرتے ہیں مگر آن ایئر کوئی بھی بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ حکومتی طرزعمل بھی ایسے اشارے دے رہا ہے اور وزیراعظم نوازشریف کا محتاط رویہ ایسے ابہام اور قیاس آرائیوں کو مزید بڑھاوا دیتا ہے کہ وزیراعظم شدید اضطراب کا شکار ہیں اور وہ حکومت کے پانچ سال مکمل کروانے کیلئے محتاط انداز میں حکومتی عمل کو چلا رہے ہیں۔ہماری تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی احتجاجی تحریک اور کسی بھی حکومت کے خلاف کوئی بھی موومنٹ خفیہ ہاتھوں کی مدد کے بغیر نہیں چلتی حتیٰ کہ ایوب خان کیخلاف جو تحریک چلی اس بارے میں بھی خفیہ ہاتھوں اور شرارتوں کے تذکرے مختلف کتب میں موجود ہیں۔ منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے باہر جو کچھ ہوا وہ قابل مذمت ہے لیکن انسانی ذہن اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتا کہ وزیراعلیٰ پنجاب یا کوئی بھی حکمران اپنے پاؤں کاٹنے کیلئے ایسا اقدام کرے اگر واقعی رانا ثناء اللہ خاں نے ایسا کیا ہے تو حکومت پنجاب کو ان سے استعفیٰ لیکر ان کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لانی چاہئے۔ رانا ثناء اللہ خاں کی حکمران جماعت اور انتظامی طور پر صوبائی کابینہ کی کامیابی کا اصل راز یہی ہے کہ وہ اپنے منہ سے جو بات مرضی کہیں لیکن وہ ٹھنڈے انداز میں چلتے ہیں اور اسی طرح وہ کسی بھی ایشو کو اپنی جماعت اور حکومت کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ بڑھاوا دیتے ہیں یا پھر اس ایشو کو ٹال مٹول کرنے کی پالیسی اختیار کرنے کا خوب فن جانتے ہیں۔ فیصل آباد میں پرویزمشرف کی آمریت کے خلاف وہ تمام عہدیداران اور اپنے گروپ کو اسی انداز میں چلاتے رہے ہیں جس سے مسلم لیگ(ن) پرویزمشرف کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں کامیاب ہوتی رہی۔ اب سانحہ لاہور پر ان کا نام سامنے لایا جا رہا ہے اور تعجب کی بات ہے کہ یہ خبر بھی ایک حساس ادارے کی بابت منظرعام پر لائی گئی ہے۔ بات وہیں آ کر رک جاتی ہے کہ کیا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان واقعی کسی قسم کے کوئی اختلافات موجود ہیں یا پھر سب افواہیں اور قیاس آرائیاں ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر حالات کس طرف جا رہے ہیں؟۔ منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے باہر جو کچھ ہوا وہ خفیہ شرارتوں کے بغیر نہیں ہو سکتا یا تو رانا ثناء اللہ خاں کے الزام کے عین مطابق طاہرالقادری نے نجی ملیشیا تعینات کر کے نوگوایریا بنایا یا پھر حکومت نے جمہوریت اور جمہوری تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے پولیس کے بدمست گھوڑے کے ذریعے فرعونیت اور بربریت کا مظاہرہ کیا۔ جو بھی ہوا اس میں کچھ نہ کچھ خفیہ ضرور نظر آتا ہے۔ طاہرالقادری جس طرح پیپلزپارٹی کے دوراقتدار کے دوران لاہور سے لانگ مارچ شروع کر کے ڈی چوک اسلام آباد تک جا چکے ہیں، منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے باہر حالیہ سانحہ بہت خطرناک عندیے دے رہا ہے اور بالخصوص ایسے عندیے مزید خوفناک سانحہ لاہور کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے ہو رہے ہیں۔ طاہرالقادری نے بھی تو فرما دیا ہے کہ سانحہ لاہور کا انتقام حکومت کے خاتمے سے لیا جائے گا۔