چوہدری محمد حسین چٹھہ مرحوم…قائداعظمؒ کا سچا پیروکار

کالم نگار  |  نعیم احمد

 پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ کے تادم آخر وفادار اس عظیم المرتبت اور بے داغ کردار کے حامل سیاسی رہنما کی 13ویں برسی کے موقع پر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں ایک خصوصی نشست منعقد کی جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کے علاوہ ضلع شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگی کارکنوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ نشست کی صدارت تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ ممتاز صحافی اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محترم ڈاکٹر مجیدنظامی نے کی۔ اس موقع پر چوہدری نعیم حسین چٹھہ، بیگم بشریٰ رحمان ، ڈاکٹر اجمل نیازی، صاحبزادہ سلطان احمد علی، پیر سید کلیم احمد خورشید، محمد اسلم زار ایڈووکیٹ،محمد آصف بھلی، چوہدری عابد حسین چٹھہ، تنویر تابش، عزیزظفر آزاد، پروفیسر محمد اختر سندھو، ہادی اقبال اور سردار نصراللہ نے اظہار خیال کیا اور مرحوم کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالی۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے نشست کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔ محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ چوہدری محمد حسین چٹھہ کے اور میرے خیالات و نظریات اور منزل ایک تھی۔ صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے دور کی بات ہے کہ چوہدری محمد حسین چٹھہ نے اپنے بیٹے چوہدری نعیم حسین چٹھہ کو مجلس شوریٰ میں شامل ہونے سے سختی کے ساتھ روک دیا۔ انہی دنوں لاہور میں مسٹر بندیال بطور ڈپٹی کمشنر تعینات تھے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات میں مجھ سے ایک سال سینئر تھے۔ مجھ سے کہنے لگے کہ" صدر صاحب نے آپ کا بائیو ڈیٹا مانگا ہے۔ وہ آپ کو مجلس شوریٰ میں لے جارہے ہیں ۔سائیں! کوئی چارہ کرلیں۔‘‘ میں نے جواب دیا کہ میں ہرگز مجلس شوریٰ میں شامل نہ ہوں گا۔ میں نے صدر ضیاء الحق کو بھی خط لکھ دیا کہ آپ مجھے مجلس شوریٰ میں شامل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ میں انکار کردوں گا جس کے باعث آپ کی سبکی ہوگی۔‘‘ اس طرح میری اور چوہدری محمد حسین چٹھہ کی سوچ میں کوئی فرق نہ تھا۔ محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے مزید اوراق پلٹتے ہوئے کہا کہ میں نے محمد خان جونیجو سے زیادہ کوئی شریف آدمی نہیں دیکھا۔ وہ مجھے قائد محترم کہتے تھے اور میں انہیں ایسا کہنے سے ہمیشہ منع کرتا تھا۔ یہاں لاہور کے الحمراء ہال میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد نواز شریف کے ہمراہ وزیر خارجہ زین نورانی بھی موجود تھے۔ عین اس وقت جب نواز شریف کیک کاٹنے لگے تو زین نورانی نے مجھ سے کہا کہ جناب!وزیراعظم جونیجو آپ کو گورنر پنجاب لگانے لگے ہیں۔ میں نے نواز شریف کو متوجہ کیا کہ میاں صاحب ! سن لیجئے‘ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی میاں نوازشریف کے ہاتھ سے کیک کاٹنے کی چھری گر گئی۔ میں نے انہیں تسلی دی کہ آپ فکر نہ کریں۔ میں یہ عہدہ قبول نہیں کر رہا۔ جناب ڈاکٹر مجید نظامی نے مزید بتایا کہ محترم محمد رفیق تارڑ کے صدر بننے سے قبل میرے دوست میاں محمد شریف اپنے صاحبزادوں نواز شریف اور شہباز شریف کے ہمراہ میرے پاس تشریف لائے تھے۔ میاں محمد شریف نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ کو صدرِ پاکستان بنائیں۔ میں نے جواباً سوال کیا کہ کیا آپ مجھے روزنامہ نوائے وقت کی کرسیٔ ادارت سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ میں کرسیٔ صدارت قبول نہیں کر سکتا تاہم ایسا کرنے سے منصبِ صدارت کی توہین ہر گز مقصود نہیں ہے۔ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے فوجی ہسپتال میں پناہ گزیں ہونے کے تناظر میں محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے کہا کہ میرے دل کا تیسری مرتبہ بائی پاس ہوا تو ابھی میں ہسپتال میں ہی تھا۔ مشرف اتنا ’’شریف آدمی‘‘ ہے کہ اس نے اپنے ایک نادم سے نمائندے کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ ’’آپ گھر چلے جائیں‘ میں آپ کا حال پوچھنے نہیں آئوں گا۔ـ ‘‘میں نے اس نمائندے سے کہا کہ ’’وہ ہزار بار نہ آئے۔ میں تب تک گھر نہیں جائوں گا جب تک ڈاکٹر مجھے گھر جانے کی اجازت نہ دیں گے۔‘‘آج اس بہادر کمانڈو کا یہ حال ہے کہ خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہونے سے بچتا پھرتا ہے۔ یہ وہی مشرف ہے جو مدیرانِ اخبارات کے ساتھ اجلاس میں مجھے اپنے ساتھ صوفے پر بٹھا کر پوچھا کرتا تھا کہ ’’اگر آپ میرے خلاف لکھنا بند کر دیں تو کیا ان میں سے کوئی اور ایڈیٹر ایسا کرنے کی جرأت کر سکتا ہے۔ ‘‘مشرف کی اس بات کے جواب میں کوئی بھی ایڈیٹر نہیں بولتا تھا۔ محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے حاضرین کی بہت بڑی تعداد دیکھ کر چوہدری نعیم حسین چٹھہ کو مبارکباد دی اور تاکید کی کہ وہ ہمیشہ اپنے والد مرحوم کے نقشِ قدم پر چلیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان تا قیامت قائم و دائم رہے گا۔ اگرچہ یہاں بہت سی خرابیاں اور برائیاں موجود ہیں مگر ہمیں انہیں دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں اجتماعی توبہ کا دن منانا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرما دے۔ جب خالقِ ارض و سماء ہم پر رحم فرما دے گا تو ہمیں مختلف عذابوں سے بھی نجات مل جائے گی۔ پھر ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب حضرت محمد ﷺ کے نام پر معرضِ وجود میں آنے والے اس ملک کو حقیقی معنوں میں ایک جدید اسلامی‘ جمہوری اور فلاحی مملکت بنا سکیں گے۔
تقریب کے دوران معروف نظریاتی صحافی محمد رفیق عالم مرحوم کی تالیف ’’فکر قائدؒ کے امین اور دو قومی نظریہ کے داعی چوہدری محمد حسین چٹھہـ :حیات و خدمات ‘‘کی تقریب رونمائی بھی منعقد ہوئی۔ اس کتاب پر نظر ثانی کا فریضہ ممتاز کالم نگار عزیز ظفر آزاد نے انجام دیا ہے۔