مہنگائی کا خاتمہ ……کیسے ؟

کالم نگار  |  مسرت قیوم

پاکستان کے مایوسی معاشی منظر نامے پر ’’سٹیٹ بنک ‘‘ کی رپورٹ ’’مرکزی بنک‘‘ نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر ’’55 ماہ‘‘ کی کم ترین سطح پر آ گئے ’’ملکی قرضہ‘‘19 کھرب‘‘ روپے بڑھ گیا اول سال مہنگائی ہدف سے زیادہ رہے گی۔ جبکہ ’’آئی ایم ایف‘‘نے بھی مہنگائی میں مزید اضافہ کی نوید دیتے ہوئے ادائیگیوں کے توازن  کے لئے خطرات کی نشاندھی کی ہے۔
حروں کے روحانی پیشوا پیرپگارا نے بھی فرمایا ہے کہ مہنگائی کا مزید طوفان آنے والا ہے۔ یہ کسی بھی روحانی خانوادے کی طرف سے پہلا انکشاف ہے ’’صرف ’’پنجاب‘‘ میں ایک سال میں سبزی کی قیمت میں ’’169 فیصد‘‘ اضافہ ہو چکا ہے۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں 150 تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ’’پنجاب 500 ارب سے زائد کا مقروض ہو چکا ہے۔ سینکڑوں دوائوں کی قیمتوں میں بھی 80 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے ’’سب سے افسوسناک امر یہ ہے کہ غرباء کی بہبود کی خاطر قائم کئے گئے ادارے ’’یوٹیلٹی سٹورز‘‘ پر بھی 200 اشیاء کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد اضافہ کردیا گیا ہے ’’گیس‘‘ بجلی موجود نہیں۔لوگ لکڑیاں جلا کر گزار کررہے تھے۔ خشک لکڑی کی قیمت 900 روپے فی من تک جا پہنچی ہے۔ اب لوگ جلائیں کیا ’’پکائیں کیا؟؟
مہنگائی کا طوفان کیسے رک سکتا ہے۔ جبکہ حکومت اب عوام پر ’’روڑ ٹیکس‘‘ نافذ کرنے کی تیاری میں ہے۔ ’’ملک کی روبہ زوال معیشت کے تناظر میں یہ خبر تشویشناک ہے کہ پاکستان ایک مرتبہ پھرگندم درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ ’’ہماری پہچان ایک زرعی ملک ہے اور ’’پنجاب ‘‘ سنہرے وقت میں ’’اناج گھر‘‘ کہلاتا تھا رواں سال کے ابتدائی 3 مہینوں میں ہم ’’1 لاکھ 43 ہزار ٹن گندم‘‘ درآمد کر چکے ہیں۔ پاکستان میں باصلاحیت زرعی ماہرین کی کمی ہے اور نہ ہی ہمارے کسانوں کی محنت میں کوئی شبہ ہے یہ صرف حکومتوں کی عدم توجہی اور ناقص زری پالیسیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
اگر گندم کی فی من قیمت نہ بڑھائی گئی تو اگلے سال بھی گندم منگوانا پڑے گی۔ جس سے ہمارا درآمدی بل بڑھ جائے گا‘ جو ملک میں معاشی ترقی کے موقع زیادہ ہے۔ شمالی علاقہ جات‘‘ بلوچستان کے بلند و بالا پہاڑی معدنی وسائل کے ان گنت ذخائر سے بھرے پڑے ہیں ’’سندھ کے ساحلی علاقے تیل کی دولت کو سنبھالے ہمارا منہ دیکھ رہے ہیں کہ ہم کب خواب غفلت سے بیدار ہونگے اور ’’نہ ہم کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے اور نہ ذہانت ‘ اہلیت کی کمی ہے تو صرف خلوص ‘ وفاداری کی ’’ہم صرف اپنی ذات کے اسیر بن کر جی رہے ہیں ’’ پاکستان کی جیب میں موجود سکے ’’کھوٹے‘‘ ہیں اور رہیں گے۔ ’’دہشت گردی جب عروج پر ہو تو سرمایہ کاری کدھر سے آئے گی۔ بیرونی کا تو سوچیں بھی مت ’’ان حالات میں تو اندر والے بھا گ رہے ہیں اس سردی میں لوڈشیڈنگ گرمیوں کے معمول کے مطابق چل رہی ہے اب کارخانے کیسے چلیں گے ’’مہنگائی تو بڑھنی ہی بڑھنی ہے … جب سرمایہ کم ہو‘‘ کھانے والے زیادہ تو لامحالہ لڑائی جھگڑے ہی جنم لیتے ہیں ۔ کرائم زیادہ ہو جاتے ہیں سو اب فریم کو سامنے رکھ کر کم از کم بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں کمی کا ایک فارمولہ ’’قیادت‘‘ نافذ کر دے مگر زیادہ ضروری  یہ ہے کہ خود حکومت اپنے اللے تللے کنٹرول کرے۔ ’’ویلفیئرسکیموں کے اجراء کی ضروری تقاریب کی گھنٹی باندھنے کی بجائے مروجہ طریقہ کار کے مطابق معاملات کو چلایا جائے۔ ’’مہنگائی نمبر 1 سلگتا ہوا بحران بن چکا ہے۔ لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ ‘‘ تیل ’’گیس کی قیمتوں کو کم کر کے ایک سال کے لئے منجمد کر دے اس کا بوجھ حکومت اپنے غیر پیداواری اخراجات 70 فیصد کم کر کے اٹھا سکتی ہے۔ معاشی بحالی کے اس پروگرام میں ہمیں ’’سعودی عرب’’ سے درخواست کرن یچاہئے ’’سعودی عرب’’ کو ہم صرف ’’قیدیوں‘‘ کو لانے لیجانے کے طور پر استعمال نہ کریں بلکہ ملکی ترقی کے لئے اس سے بھرپور مدد‘ تعاون کی استدعا کریں۔ وہ ہمارا قابل فخر قابل بھروسہ دوست ہے۔
تمام غیر ملکی دورے ملکی طور پر بند کردیں بلکہ کوشش کی جائے کہ اس بندش کے عرصہ میں پہلے سے ہو چکے ہزاروں دوروں کے لاکھوں معاہدے جھاڑ پونچھ کر کھلی ہوا میں دھوپ لگوائیں اور عمل درآمد کے لئے درکار اقدامات اٹھائے جائیں ’’محکموں میں نئی گاڑیوں کی خریداری اور دفاتر  کی آرائش پر سخت پابندی عائد کر دیں … ہمارے وزراء کرام اور ممبران اسمبلی پاکستان کی مالی حیثیت سے زیادہ مضبوطی معاشی قوت سے مالا مال ہیں۔ اس لئے ان کو دو سال کے لئے تنخواہیں ’’الائوسنز کی ادائیگی بند کر دیں ’’کوئی غصہ نہیں کرے گا کیونکہ وہ خود کوغریب پرور کہلاتے ہیں۔
سرکاری دفاتر ’’بڑے ایوانوں میں خاطر تواضع کے لئے مختص رقوم میں 80 فیصد تک کمی کر دیں۔ ہمارا ملک تعیش کے بغیر توانا رہ سکتا ہے۔
(Twitter:@MussaratQayyum7)