مگر یہ کاٹنے والے مگر یہ بانٹنے والے

کالم نگار  |  فاروق عالم انصاری

دھماکے، خودکشی اور بھوک ننگ افلاس پر مبنی اپنے دیس کی خبروں کے درمیان ایک امریکہ سے آئی ہوئی اچھی خبر بھی پڑھ لیں۔ چھ سالہ اقتدار کے بعد 4 دسمبر 2013ء کو واشنگٹن میں اپنے خطاب میں امریکی صدر اوباما کہہ رہے ہیں ’’بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری امریکی خواب کیلئے شدید خطرہ بن چکی ہے۔ کمپنیوں کے ایگزیکٹو افسروں کی آمدنی جو ماضی میں ایک عام مزدور سے بیس یا زیادہ سے زیادہ تیس گنا زیادہ ہوا کرتی تھی، اب 273 گنا زیادہ ہو چکی ہے‘‘۔ آگے سنیں۔ ’’امریکہ کی کل آمدن میں امیر ترین 1فیصد کا حصہ 25 فیصد جبکہ امیر ترین 10 فیصد کا حصہ 50 فیصد ہے‘‘۔ بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ لوسنو اور بات۔ ’’لوکل میونسپل اداروں میں کٹوتیوں کے باعث چھ لاکھ افراد بیروزگار اور لاکھوں پنشن سے محروم ہو گئے ہیں‘‘۔ ہم ٹھہرے اس کلچر میں رہنے والے کہ ’پنڈوچ کڈے ٹو ہر شریکاں۔ اور ہم بھی اپنی حیثیت سے بڑھ چڑھ کر دکھلاوا کریں گے۔ پھر دشمن کی تکلیف میں اپنی ساری راحت کا سامان ڈھونڈتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہمیں اپنے پنڈے کی تپش کا احساس تک نہیں ہوتا…؎
آگ قاتل کے مکاں تک پہنچی
اتنی شعلوں کو ہوا دی ہم نے
ہمیں اپنی لوک کہانیوں کی وہ کبڑی بوڑھی اماں یاد ہے۔ بھول کیسے سکتے ہیں۔ ادھر بوڑھی کبڑی اماں کی یہی رام کہانی تو ہے۔ ’’یا اللہ تو مجھ اکیلی کا کبڑا پن کہاں دور کرتے پھرو گے۔ مجھے کبڑا ہی رہنے دو۔ ہاں دنیا کی تمام بوڑھی عورتوں کو بھی کبڑا کر دو۔ میں انہیں دیکھ دیکھ کر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کر لوں گی۔ میں اسی میں خوش ہوں‘‘۔ مجھے ایک اپنا ہم وطن بھوکا بھی یاد آ رہا ہے جس نے ایک روٹی لینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ اسے بتایا گیا تھا کہ اسے ایک روٹی ملنے کی صورت میں اس کے پڑوسی کو بھی لازماً دو روٹیاں مل جائیں گی۔ یہ کمینے کمینے لوگوں کی کمینی کمینی باتیں ہیں۔ امیر لوگوں کا قصہ کہانی کچھ یوں ہے۔ دنیا کے صرف تین سو امیر ترین لوگوں کے پاس دنیا کی آدھی آبادی پر مشتمل تین ارب سے زیادہ غریب ترین لوگوں کی املاک کی مالیت سے زیادہ مالیت کی دولت موجود ہے۔ عالمی سطح پر 1فیصد امیر ترین لوگ دنیا کی 43 فیصد دولت پر قابض ہیں۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام نے اسے جائز قانونی اور اخلاقی مالک و قابض بنا دیا ہے۔اس ملکیت اور قبضہ کی حفاظت کرنا انسانی سماج کی سب سے بڑی ذمہ داری قرار پائی ہے۔ ٹیڈ گرانٹ نے اندازہ لگایا تھا کہ دنیا کے دس امیر ترین لوگوں کے پاس اتنی دولت ہے کہ جس جائز مناسب اور موزوں استعمال سے پوری دنیا کی غربت، بیروزگاری اور جہالت ختم ہو سکتی ہے۔ اس بات سے دل و دماغ میں ایک عجیب و غریب حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ ٹھہریں! یہ حقیقت میں کالم کے آخر میں بیان کرونگا۔ مداری بھی تو اپنے کھیل تماشے سے آخر کیلئے کچھ نہ کچھ بچا کر ضرور رکھتے ہیں۔ اپنے امیر کبیر سیاستدان، بیورو کریٹ، جرنیل بھی اپنی ساری دولت صرف ملکی بینکوں میں ہی لے آئیں تو ادھر کے حالات پلٹا کھا جائیں۔ فیض احمد فیض نے تھوڑی سے شاعری پنجابی زبان میں بھی کی ہے۔ اس کے حجم اور مقدار میں مختصر سے اس ذخیرے میں ایک نظم ’’ربا سچیا‘‘ بھی ہے۔ اسے پنجابی زبان کی چند عظیم ترین نظموں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ نظم کا آغاز کچھ یوں ہے:…؎
ربا سچیا تو تے آکھیاسی
جا اوئے بندیا جگ دا شاہ ایں توں
ساڈیاں نعمتا تیریاں دولتاں نے
ساڈا نائب تے عالیجاہ ایں توں
پھر یہ عالیجاہ اور اللہ تعالیٰ کا نائب فی الارض اپنے اللہ تعالیٰ سے یوں شکوہ شکایت کرتا ہے کہ تو نے میرے حال خیریت کا پتہ نہیں رکھا۔ وہ اپنی حالت زار بیان کرتے ہوئے بات اس مطالبے پر ختم کرتا ہے کہ اے خدا میں تجھ سے صرف عزت کی دال روٹی اور رہنے کیلئے ایک کٹیا کا طلبگار ہوں۔ اگر تو مجھے یہ بھی نہیں دے سکتا تو مجھے آزاد چھوڑ دے تاکہ میں کوئی اور خدا تلاش کر سکوں۔ یہ ایک ایشیاء کے شاعر کا اپنے اللہ کے حضور سوال ہے۔ جہاں تک یورپ کا تعلق ہے وہ اس سوال سے نجات حاصل کر چکے ہیں۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے نعوذباللہ ، اللہ کے تصور سے بھی نجات حاصل کر لی ہے۔ دودھ، روٹی، مکھن، گھی، مٹن، چکن، بیف، مچھلی، فروٹ، سبزی، ایک آدھ کمرے کا مکان اور ہاں چولہا گرم کرنے کیلئے کوئی ایندھن، سوئی گیس وغیرہ، انہیں یہ سب کچھ اپنی اپنی حکومت کی جانب سے با افراط میسر ہے۔ ہم بیچارے ابھی دال، چولہے اور کرایے کے مکان میں ہی پھنسے ہوئے ہیں۔ وہی سوال کہ ایسا کیوں ہے؟ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق سے ستر مائوں سے یا شاید اس سے بھی زیادہ پیار کا دعویٰ ہے۔ تو پھر یہ خلق کی بھوک ننگ اور افلاس کیوں؟ اس سوال کا جواب امجد اسلام امجد نے دیا ہے اور بہت خوب دیا ہے…؎
خدا کا رزق تو ہر گزز میں پہ کم نہیں یارو
مگر یہ کاٹنے والے مگر یہ بانٹنے والے