ریاکاری کا ٹائی ٹینک

کالم نگار  |  نازیہ مصطفٰی

راجا کیلان ٹیسا نے ڈیڑھ سو قبل مسیح میں سری لنکا کے مغربی علاقے میں دریائے کیلانی سے سیراب ہونے والے علاقے کیلانیا پر حکومت کی۔کیلان ٹیساایک سیماب صفت راجا تھا، پل میں تولہ اور پل میں ماشہ! کیلان جسے چاہتا حفظ و مراتب سے نواز دیتا اور جسے چاہتا اُس سے لمحوں میں ہر چیز اور ہر سہولت چھین لیتا۔ایک دفعہ کیلان نے کسی بات پر ناراض ہوکر ایک بدھ راہب کو کھولتے ہوئے تیل کی دیگ میں ڈلوا کرمروادیا۔ سنہالی اساطیر میں لکھا ہے کہ یہ ظلم ہونے کی دیر تھی کہ ’’دیوی اور دیوتا‘‘ کیلان سے ناراض ہوگئے، سمندرمیں ایسا طوفان آیا کہ سیلابی پانی شہروں پر چڑھ دوڑااور آبادیوں کی آبادیاں ہڑپ کرنے لگا۔راجا نے اس صورتحال سے پریشان ہوکرفورا نجومیوں کو بھلا بھیجا۔ نجومیوں نے راجا کو مشورہ دیا کہ اگر کوئی شہزادی اپنی جان کی بھینٹ دینے پر تیار ہوجائے تو سمندر کا غصہ ٹھنڈا پڑجائے گا اور یوں یہ آفت ٹل جائے گی۔نجومیوں کی یہ بات محل میں پہنچی تو راجا کیلان کی سب سے لاڈلی بیٹی رانی ویہارما دیوی اپنے باپ کے ’’پاپ‘‘ کا کفارہ ادا کرنے اور اپنا وطن کو بچانے کیلئے یہ بھینٹ دینے پر تیار ہوگئی۔ یوں بڑی خوبصورتی سے سجائی گئی ایک کشتی پر سنہالی زبان میں ’’راجا کی بیٹی‘‘ لکھا گیا اور شام ڈھلے ویہارما دیوی کو اس میں بٹھاکر کشتی کو سمندر کے حوالے کردیا گیا۔کہا جاتا ہے کہ جیسے ہی کشتی نظروں سے اوجھل ہونا شروع ہوئی، سیلابی پانی نیچے اترنے لگااور طوفانی سمندر بھی پرسکون ہوگیا۔کیلان کے لوگوں نے یہ سب کچھ دیکھا تو اپنی بہادر شہزادی کو یاد کرکے رونے لگے اور اس برے وقت پر راجا کیلان کو موردِ الزام ٹھہرانے لگے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قوموں پر برا وقت آتا ہے، قومیں آزمائشوں سے گزرتی ہیں، مصائب کا سامنا کرتی ہیں اور ہر طرح کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے تیار بھی رہتی ہیں۔ زندہ قومیں درپیش مشکلات سے نکلنے کیلئے کسی طرح کی قربانی دینے سے انکار بھی نہیں کرتیں۔اسی طرح کے مشکل، کٹھن اور برے وقت سے گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان گزر رہا ہے اورپاکستان کو درپیش چیلنجز میں سے سرِ فہرست اس وقت یقینا دہشت گردی کا عفریت ہے۔اس دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کیلئے پاکستانی قوم نے جتنی ’’قربانیاں‘‘ دی ہیں اس کا بھی کوئی شمار نہیں کیا جاسکتا۔دہشت گردی کا یہ جن پینتالیس ہزار سے زائد پاکستانیوں کی جانوں کا نذرانہ لے چکا ہے لیکن اس کے باوجود یہ سلسلہ ابھی تک رُکا نہیں اور ہر روز ملک کے کسی نہ کسی کونے یا کسی نہ کسی گوشے میں بم دھماکہ، خودکش حملہ،ٹارگٹ کلنگ یا فائرنگ کا واقعہ ہوتا ہے اور درجنوں قیمتی جانیں چاٹ جاتا ہے ۔دہشت گردی کی اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان کو پہنچنے والے مالی نقصان کا بھی صحیح طریقے سے اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے، بالخصوص گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں عمارتوں کو نقصان پہنچا، نیٹو کنٹینرز نے ہمارا زمینی مواصلاتی نظام برباد کرکے رکھ دیا، اداروںکے ادارے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، مہنگائی بڑھی توملوں اور فیکٹریوں میں مزدور کی محنت اور معاوضے پربھی اس کا اثر پڑا۔ توجہ نہ ملنے سے دشمن نے ہمارے دریائی پانی کا بڑا حصہ چُرالیا اور زراعت تباہ ہوکر رہ گئی،جس کے سبب زمین بنجر، کھیت سُونے اور کھلیان ویران ہونے لگے۔سب کو اپنی اپنی پڑی تو یگانگت، اتحاد، پیار ،محبت، اخوت ،برداشت اور رواداری کے سنہری اصولوں پر قائم ہمارے معاشرتی نظام کی بنیادیں بھی ہل کر رہ گئیں ۔آج ملک زخم زخم ہے اورپاکستانی لہو لہو ہیں۔ یہ عذاب نہیں تو اور کیا ہے کہ ہم بے حس ہوچکے ہیں کہ اس عذاب کو ٹالنے کیلئے کوئی تدبیر کرنے کو بھی تیار نہیں، اس آفت سے بچنے کیلئے ہم کوئی راہ نکالنے کو بے تاب نہیں اوراس مصیبت سے چھٹکارے کیلئے ہم کوئی قدم اٹھانے کو بے قرار نہیں۔
 ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم جن ’’قربانیوں‘‘ کا تذکرہ کرتے ہیں آخر ہماری وہ قربانیاں رائیگاں کیوں جارہی ہیں؟ ہمیں یہ جاننا ہے کہ ہماری دعائیں مستجاب کیوں نہیں ٹھہر رہیں؟ ہمیںوجوہات تلاش کرنی ہیں کہ ہماری بھینٹ کیوں کر رد ہورہی ہے؟ ہمیں پرکھنا ہے کہ کہیں ہماری قربانیاں ناقص اور ہماری بھینٹ میں کھوٹ اورریاکاری کی ملاوٹ تو نہیں ہے؟ کہیں ہماری قربانیاں درمیانے درجے کی تو نہیں؟ہمیں یہ بھی جاننے کی کوشش کرنا ہے کہ کہیں ہمارا مالک ہم سے اس حد تو ناراض نہیں ہوگیا کہ منانے کی مہلت ختم ہوچکی ہو؟کہیں ہماری قربانیاں منافقت کی وجہ سے تو ضائع نہیں ہورہیں؟ہمیں اپنی اور ویہارما دیوی کی قربانی کا موازنہ کرنا چاہیے کہ (سنہالی لوک کہانیوں کے مطابق ) ایک شہزادی دیوی دیوتاؤں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کیلئے اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتی ، لیکن ہم اللہ رب العزت کو راضی کرنے کیلئے پوری دیانت داری ،خلوص اور نیک نیتی سے کچھ کرتے بھی ہیں یا نہیں؟
قارئین کرام! اساطیر کے مطابق سمندر نے شہزادی ویہارما کو نگلنے کی بجائے اس کی قربانی سے متاثر ہوکر نہ صرف اس کی قوم کو معاف کردیا بلکہ طوفانی لہروں نے ویہارما دیوی کی کشتی جنوبی علاقے ’’کریندا‘‘ میں’’ دوویرا‘‘کے ساحلوں پر ٹکادی، جہاں ’’روہانہ ‘‘ کے راجا ’’کیون ٹیسا‘‘ شہزادی کی بہادری اور حب الوطنی سے اتنا متاثر ہواکہ اس نے ویہارما کو اپنی رانی بنالیا۔ آج ویہارما دیوی کو سری لنکا میں ’’ہیروئن‘‘ کا مقام حاصل ہے اور کولمبو کا سب سے بڑا اور تاریخی پارک بھی اسی ہیروئن کے نام پر ویہارما دیوی پارک ہے۔ویہارما دیوی جیسی اساطیری کہانیاں ہمیں صرف راہِ عمل سجھانے کیلئے ہیں، لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جوسچے دل سے اپنے ملک کیلئے قربانی دینے کو تیار ہوجائیں؟ ہم میں سے کتنے ہیں جو سر پر کفن باندھ کو ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں؟ہم میں سے کتنے ہیں جو بحرِ ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کی ہمت رکھتے ہوں؟ ہم میں سے کتنے عشاق ہیں جو بے خطر آتشِ نمرود میں کود پڑنے کو بے چین ہوں؟اگر ایسا کچھ نہیں تو باقی سب کچھ ریاکاری کے زمرے میں آتا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ دیانت اور خلوص ہو تو ویہارما دیوی کی بھینٹ قبول کرلی جاتی ہے اورطوفانی سمندر کے بیچ پھنسی چھوٹی سی کشتی بھی ساحل پر جالگتی ہے اور اگر عمل میں دکھاوا اور ملاوٹ ہوتو تو پھر قربانیاں بے کار جاتی ہیں اور ریاکاری کے ٹائی ٹینک ساحلوں پرہی ڈ وب جاتے ہیں۔