جی ایس پی پلس اور سرمئی دستخط

کالم نگار  |  عتیق انور راجا

انسان روزمرہ زندگی میں بے شمار لفظ لکھتا ہے۔ ادیب کے لفظ ادب پارے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کچھ اخبار کی رونق اور کچھ ڈائریوں اور کاپیوں تک محدود رہتے ہیں۔ خط لکھنے کا رواج نہیں رہا ورنہ یہ بھی ایک خاص مشغلہ ہوا کرتا تھا۔ بہت سے خط پوسٹ نہیں کئے جاتے تھے مگر دل کا بوجھ ہلکا ضرور ہو جاتا تھا۔ پھر ای میل، موبائل میسج اور سوشل میڈیا نے عید،شبرات، سالگرہ اور دیگر تقریبات کے مواقعوں پر بھیجی جانے والی نیک خواہشات بھی ہڑپ کر لیں مگر صد شکر اتنے واویلوں کے باوجود شاعر اور ادیب نے قلم اور کاغذ سے رشتہ مضبوط بنائے رکھا۔ یورپ، امریکہ اور دیگر ممالک میں رہنے والے شاعروں میں چند بڑے نام ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زبان دانی، اعلیٰ صلاحیتوں اور شاعرانہ حسن سے ایسی شاعری تخلیق کی جس کے باعث نئے نئے امکانات کے در کھلے۔
پچھلے دنوں ایک ایسی ہی کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا جس کا نام تھا ’سرمئی دستخط‘۔ شاعری کی اتنی کتابوں میں ایک منفرد نام اور ٹائٹل والی کتاب دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ کتاب پڑھنی شروع کی تو ہر ہر مصرعہ اور ہر شعر اپنی جاذبیت کے سحر میں جکڑتا گیا۔ یہ خوبصورت تخلیق خالد ملک ساحل کی ہے جن کا تعلق پاکستان کے یونان یعنی گجرات شہر سے ہے مگر وہ کئی برسوں سے یہاں سے ہجرت کر کے جرمنی میں آباد ہیں، مگر ان کی شاعری پڑھ کر یہی احساس ہوتا ہے کہ شاعر لمحہ بہ لمحہ اس دھرتی اور اس کے باسیوں پر بیتنے والی آزمائشوں میں شریک ِ کار رہا ہے۔ اس کی تمام محبتیں اسی مرکز کے گرد گھومتی ہیں، وہ ساحل ہے جو سمندر کا ساتھی ہے۔ خالد ملک ساحل کا من بھی ایک سمندر ہے۔ بظاہر چہرے پر سکوت طاری ہے مگر اندر شورشیں برپا ہیں۔
خالد ملک ساحل کو خود بھی احساس ہے کہ اس کا ہر لفظ قیمتی ہے اسی لئے اس نے اس نے اپنی کتاب کا نام ’سرمئی دستخط‘ رکھا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں بھی کئی لفظ سرمئی دستخطوں کی طرح سامنے آ رہے ہیں۔ معاشی پالیسیوں کے حوالے سے جب ہم مسلسل ناکامیوں اور حسرتوں کا شکار ہیں اور ہر شخص اپنے اندازوں سے ملک کی ڈوبتی معاشی حالت پر منفی تبصروں میں مصروف ہے۔ خدا کی طرف سے پاکستان کو جی ایس پی پلس کی صورت میں ایک انعام ملا ہے جس سے نہ صرف ملک کی گرتی ہوئی معاشی حالت سنبھلے گی بلکہ وہ ترقی کے راستے پر بھی گامزن ہو گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ٹھوس معاشی پالیسیوں کے عوض ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کی طرف توجہ مبذول کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے پاکستان کی مصنوعات کو یورپ کی منڈیوں میں درآمدی ڈیوٹی کے بغیر رسائی حاصل ہو گی جس کے کئی فوائد ہوں گے۔ ایک تو یہ کہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو گا، مزدوروں کو کام ملے گا، پیداوار میں اضافہ ہو گا جس کے باعث ملک سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے گا۔ دوسرے یہ کہ یورپی ممالک سے پاکستان کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
پاکستان دنیا کا وہ ملک ہے جس کی آبادی کا زیادہ حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اگر نوجوانوں کے مسائل حل نہ ہوں تو ملک استحکام کی طرف نہیں جا سکتا۔ وزیراعظم کی قیادت میں یوتھ لون سکیم کا آغاز ہو گیا ہے جب کہ پنجاب میں بھی اس حوالے سے کئی سکیمیں شروع ہیں جن کی موجودگی میں امید کی جا سکتی ہے کہ پنجاب سرکار بھی سرمئی دستخطوں سے ایسے قوانین پاس کرے گی جو صوبے سے غربت، لاقانونیت، ناخواندگی اور بد امنی کے مکمل خاتمے میں معاون ہوں گے۔ پہلے بھی پنجاب ہر حوالے سے ترقی کے راستوں پر آگے ہے اور یہ برتری یہاں کے سیاسی، سماجی شخصیات اور دیانت دار افسران کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔ ’سرمئی دستخط‘ سے کچھ شعر آپ کی نذر:…؎
کسی بھی راہ پہ رکنا نہ فیصلہ کر کے
بچھڑ رہے ہو مری جان حوصلہ کر کے
میں انتظار کی حالت میں رہ نہیں سکتا
وہ انتہا بھی کرے آج ابتداء کر کے
تری جدائی کا منظر بیاں نہیں ہو گا
میں اپنا سایہ بھی رکھوں اگر جدا کر کے
کبھی نہ فیصلہ جلدی میں کیجئے ساحل
بدل بھی سکتا ہے کافر وہ بددعا کر کے