جمہوری اشرافیہ کے بلدیات گریز رویے

کالم نگار  |  عزیز ظفر آزاد

مملکت خداداد کا سب سے بڑا مسئلہ ہی ہم پر مسلط وہ اشرافیہ ہے جو غیر نظریاتی اخلاقیات سے عاری جمہور اور جمہوریت سے گریز مزاج کی حامل ہے ۔ نیچے سے اوپر تک تمام لوگ ریاست کو اپنی شان حشمت اور مال و جائیداد میں اضافہ تجارت و کاروبار میں دن دگنی رات چوگنی ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ پاکستان کی 67سالہ تاریخ میں مقامی حکومتیں کسی جمہوری دور میں نظر نہیں آئیں ۔ ہمیشہ انہیں فوجی حکمران قائم کرتے دکھائی دیتے ہیں جنہیں آمر کہا جاتا ہے ۔ ایوب خان کی بنیادی جمہوریت ہو کہ جنرل ضیاء الحق کی شورائی جمہوریت یا جنرل پرویز مشرف کی مقامی جمہوریت کسی بھی سول حکمران نے اسے پروان چڑھانے کی زحمت گوارہ نہیں کی کیونکہ وہ سیاسی کارکن کو اپنا ذاتی کارندہ جانتے ہیں اسے اپنا  محتاج رکھنے میں عافیت سمجھتے ہیں اور ترقیاتی فنڈ کو اپنی منشا کے مطابق استعمال کرنے کی عادت ہوتی ہے کسی کی مداخلت قبول ہے نہ برداشت ۔مقامی جمہوریت سے نئی اور متوسط قیادت دریافت ہونے کا خدشہ بھی ہوتا ہے جسے مسلط طبقہ قبول کرنے سے گریزاں رہتا ہے ۔ اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے یہ لوگ کسی حد تک جا سکتے ہیں ۔اس ساری واردات میں نوکر شاہی قانون منہ شگافیوں سے نمٹنے کیلئے ہتھکنڈے مہیا کرتی ہے جس کا ثبوت حالیہ مقامی حکومتوں کے انعقاد پر شب خون ہے ۔ مردم شماری اور دوبارہ حلقہ بندیوں کی شرط نے سندھ اور پنجاب میں مقامی حکومتوں کا تصور دھندلا کر دیا ہے ۔
تاہم تسلسل سے مقامی حکومتیں قائم ہوتیں تو عوامی مسائل حد درجہ حل ہو چکے ہوتے ۔ پینے کا پانی ہو یا صحت و تعلیم ، امن و امان ہو یا بیروزگاری آج اس قدر بحرانی کیفیت نہ ہوتی ۔ دوسرے قوم کو حقیقی عوامی قیادت میسر آچکی ہوتی جو عوام کے مسائل امنگوں اور ولولوں کی ترجمان ہوتی ۔ عام انتخابات کے مقابلے میں مقامی حکومتوں کے انتخاب میں عوام کی شرکت سو فیصد ہوتی ہے اور یہ ایک نرسری اور تربیت گاہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔پورے ملک میں بلوچستان کے حالات سب سے زیادہ سنگین اور مشکل ترین ہونے کے باوجود وہاں انتخاب بروقت کرانا بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبدالمالک بلوچ کا ناقابل فراموش اور قابل تقلید کارنامہ ہے جس کے لئے وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔اس جرات کی پشت جناب عبدالمالک بلوچ کا باقاعدہ سیاسی کارکن ہونے کے باعث وہ یقین اور ادراک کارفرما ہے جو باقی صوبوں کے سربراہان کو میسر نہیں کیونکہ تینوں میں سے کوئی بھی عبدالمالک بلوچ کی سطح اور مقام کا سیاسی تجربہ اور فکر و نظر نہیں رکھتا تب ہی جمہوریت کی زبانی دعوے کرتے ہیں عملی طور پر جمہور اورجمہوریت کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ۔ امید ہے کہ عبدالمالک بلوچ کا ایسے مخدوش ماحول میں انتخاب کرانے کا پر عزم کردار انہیں قومی زندگی میں مزید آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرے ۔قارئین کرام !جب تک سیاسی جماعتوں میں حقیقی جمہوریت اور دیانت دار قیادت نہ ہوگی متوسط طبقے کے جمہوری اقدار ، سوچ اور رویوں کے حامل حکمران نصیب نہیں ہوتے ۔ حالات بدسے بدتر ہوتے جائیں گے ۔ حالات کا رخ بدلنے کیلئے متوسط طبقے کے خلوص اور ایثار سے سرشار لوگوں کو انقلاب آفریں مہم کے ذریعے میدان عمل میں اترنا ہوگا جمہوریت اور سیاست کو غیر جمہوری اور غیر سیاسی ہتھکنڈوں سے نجات دلاکرمملکت خداداد میں سماجی انصاف اور شخصی ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے ہونگے تاکہ پاکستان کو مشاہیر ملت کی فکرو نظر کے مطابق اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کا مقام حاصل ہو سکے ۔
 مسلم لیگ ن مقامی حکومتوں کے انتخاب کی روایت ہی نہیں رکھتی پھر ایسے حالات میں جہاں بھاری ووٹوں سے بننے والی حکومت عوام کو بجلی گیس کے بحران کے علاوہ کمر توڑ مہنگائی سے نجات دینے میں ابھی تک کامیاب نہ ہو سکی ۔ امن و امان کی صورتحال بھی بہتر نہیں ۔ بے روزگاری اپنے عروج پر ہے تو کیا آٹھ ماہ قبل ملنے والا مینڈیٹ پامال ہوتانظرنہیں آئے گا ۔ ایسی ہی صورتحال کا سامنا پیپلز پارٹی کو ہے بلکہ پارٹی کے وجود کو قائم رکھنا مشکل نظر آرہا تھا لہذا دونوں بڑی پارٹیوں نے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرلی ۔ موجودہ بلدیاتی انتخاب کے سارے منظر نامے پر غور کریں کہ سابقہ چیف جسٹس پاکستان نے جس قدر اصرار و تکرار سے مقامی انتخابات کرانے کی سعی کی ہماری جمہوری قیادتوں نے افسرشاہی کی رہنمائی میں اس کمال چالبازی سے معاملے کو طول دے کر کبھی الیکشن کمیشن ، کبھی ہائی کورٹ تو کبھی سپریم کورٹ کو اپنے حصول مقاصد کیلئے استعمال کیا اس پر شیطان بھی عش عش کر اٹھے۔ مہنگائی بیروزگاری بجلی و گیس کی قلت میں غرق عوام کو ریلیف دینے کی بجائے بلدیاتی انتخاب صدر مشرف کی گرفتاری ، غداری اور بیماری کو پریس اور میڈیاپر اس قدر پیٹا گیا کہ بھوک مرے لوگ ٹھنڈے چولہے اندھیرے میں ڈوبے گھر و بازار دکھانے کا وقت ہی نہ رہا ۔ چیف جسٹس سے نجات کے بعد بلدیاتی الیکشن کا ڈرامہ تو انجام کو پہنچا بس اب انتظار اتنا ہے کہ کسی دن حضرت پرویز مشرف کی شاندار شاہی پرواز کی ٹی چینلزپر بریکنگ نیوز اور قومی اخبارات میں شہ سرخیاں بھی دیکھ لیں گے ۔