یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ”ای ایم ڈی آر“ سیمینار

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے کانفرنس روم میں ایک انتہائی اہم موضوع پر سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد پاکستانی معاشرے میں ایک ایسے طریق علاج کے بارے میں بیداری پیدا کرنا تھا جس کو اختصاراً ”ای ایم ڈی آر“ کہا جاتا ہے۔ آئی موومنٹ ڈی سنسی ٹائزیشن اینڈری پروسیسنگ“ سے انسان کو دماغ کے اندر پیوست ہو چکی ہوئی ایک مستقل اذیت سے نجات دلانا مقصود ہوتا ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق انسانی زندگی میں پیش آنے والے حادثات و واقعات ہمارے ذہن کے کسی حصے میں ان واقعات سے وابستہ انتہائی تکلیف دہ جذبات و احساسات کو بعض اوقات منجمد کر دیتے ہیں اور اکثر وہ اس طرح نمودار ہو جاتے ہیں کہ ایک انسان کے عہد حاضر کے اس کے ماضی سے بہت دور چلے آنے کے باوجود اس کےلئے احساساتی اذیت کا باعث بن جاتے ہیں اور زندگی بھر وقتاً فوقتاً ماضی کی تہوں سے برآمد ہو کر اس کےلئے اذیت اور تکلیف کا سبب بنتے رہتے ہیں۔ چنانچہ عالمی شہرت رکھنے والے ماہرین نفسیات اور سائیکیا ٹرسٹ حضرات کو یکجا کرکے اس موضوع پر تبادلہ خیالات کیا گیا کہ وہ واقعات جو انسانی دماغ کے کسی گوشے میں منجمد ہو کر آئندہ زندگی میں اس کو تنگ کرنے کا سامان پیدا کرتے رہتے ہیں اور اس کی قوت کار اور کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں ان سے کس طرح نجات حاصل کی جائے جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات اقدس و بابرکات نے اپنے بے پایاں فضل و کرم سے ہمارے ذہن میں ان تکلیف دہ احساسات و جذبات کو بہ احسن طریق سنبھال دینے کی صلاحیت رکھی ہوئی ہے لیکن اس صلاحیت کے بروئے کار نہ آنے کے باعث وہ احساسات و جذبات ذہن و دماغ کے کسی حصے میں منجمد ہو جانے کے باعث ذہن کے اس حصے تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے جہاں پہنچ کر وہ اس اذیت کا ذریعہ بنتے رہنے والے عوامل کا اتلاف کر سکتے ہیں چنانچہ ای ایم ڈی آر کے ذریعے بڑی کامیابی سے اس اذیت کی گرفت میں آئے ہوئے ایک انسان کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ وہ سیمینار تین روز جاری اور اس میں میڈیکل گریجوایٹس کا تربیت کرنے کےلئے تین روز تک سائیکیاٹرسٹ اور ماہرین نفسیات اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے۔ ڈاکٹر راشد قیوم اور کرنل شاہد رشید نے اس تین روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیا تھا جبکہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مبشر ملک نے اس تین روزہ ورکشاپ کا افتتاح کیا جبکہ یو یچ ایس کے ایڈمنسٹریٹر کرنل ریٹائرڈ جاوید اقبال نے انتظامات کو سنبھالا‘ اس تقریب میں یونیورسٹی آف برمنگھم انگلینڈ کے سائیکیا ٹرسٹ پروفیسر ڈاکٹر ڈیرک فیرل مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے
ہوئے واضح کہا کہ ای ایم ڈی آر سے ثابت ہوا ہے کہ وہ طریق علاج سائینٹیفک بنیادوں پر انسان کو ٹروما کی اذیت سے نجات دلانے میں کامیاب ثابت ہوا ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں اس کی افادیت تسلیم کر لی گئی ہے جبکہ برصغیر میں بھی اس طریق علاج کو آزمانے کی طرف پوری توجہ دی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر حسین مبشر ملک نے بھی اپنی طویل صدارتی تقریر میں دماغی امراض اور دماغی مریضوں کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی اور بتایا کہ جب وہ بچہ ہی تھے تو اپنی خالہ سے ملنے کیلئے موسم گرما کی تعطیلات میں حیدر آباد گئے جہاں سیر سپاٹا کرتے ہوئے مینٹل ہاسپٹل دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا تو وہاں مریضوں کی حالت نے ان پر اتنا گہرا اثر ڈالا کہ وہ سائیکیا ٹرسٹ بن کر رہے اور آج جہاں دیگر طریق علاج کا فیضان بڑھا رہے ہیں وہاں ای ایم ڈی آر سے بھی لوگوں کا علاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس ورکشاپ کا اہتمام کرنے والوں کو قابل ستائش گردانا اور نظامت کار میجر ڈاکٹر شہاب محمد کے مشکل فرائض کی ستائش بھی ہیں۔