شہادتوں کا سلسلہ کب تھمے گا؟…(۱)

صحافی  |  سارہ شفیق

سارہ شفیق (ایل ایل ایم)............
ایک مرتبہ پھر کئی مائوں کے لخت جگر، کئی بیویوں کی محبت کے محور اور کتنے ہی معصوم بچوں کی آرزئوں اور تمنائوں کے مرکز خیبرایجنسی کی سنگلاخ وادیوں میں جان کی بازی ہارگئے۔ ایک بریگیڈیئر، ایک لیفٹیننٹ، ایک میجر، ایک پائلٹ، ایک گنر آفیسر، ایف سی کے دو ڈی ایس پیز، گیارہ جوان شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ایک مرتبہ پھر وہی گھسے پٹے تعزیتی بیانات بنکروں میں چھپے ہوئے حکمرانوں اور بزدل و منافق سیاستدانوں کی طرف سے اخبارات میں شائع کرا دیئے گئے۔ ایک مرتبہ پھر اوباما ایڈمنسٹریشن کے نامزد پاکستانی وزیر داخلہ کا زہر میں بجھا ہوا بیان پرنٹ میڈیا کے سرورق پر سجا دیا گیا۔ اللہ اللہ خیر سلاّ۔
اس مرتبہ ایک کوبرا ہیلی کاپٹر کرچی کرچی ہوا۔ اس سے پیشتر اسی علاقہ میں ایک MI-17 ہیلی کاپٹر کے حادثہ میں 26 باوردی جوانوں نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ اگرچہ غیر سرکاری ذرائع نے اکتالیس افراد کی موت کی خبر دی تھی۔ اخبارات میں امریکن وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا بیان بھی شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے پاکستانی افواج کے تین ہزار سے زائد فوجی جوانوں اور افسروں کی قربانی کا حوالہ دے کر پاکستان کے بے مثال تعاون پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ زخمیوں کا تذکرہ چھوڑیں، ان کی تعداد شہداء سے دگنی ہوسکتی ہے۔ میرے زخمی بھائی کس حال میں ہیں، اس کے بارے میں صرف اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے۔
میرا پہلا سوال یہ ہے کہ افغانستان کی غلط مفروضوں کی بناء پر مسلط کردہ جنگ میں امریکہ اور چھیالیس نیٹو ممالک کی افواج کا کس قدر جانی نقصان اب تک ہوا ہے؟ اخبارات میں جو اعداد و شمار چھپ چکے ہیں ان کے مطابق ابھی تک 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں بھی شاید پاکستان آرمی کو اس قدر جانی نقصان نہیں پہنچا جو دہشت گردی کے خلاف نام نہاد مہم جوئی میں اب تک ہو چکا ہے اور جس کے خاتمہ کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ سوات اور فاٹا کی وادیوں میں جنگی کارروائیوں کے ردعمل میں ہم اپنے کئی جرنیلوں کی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔
میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ جنگ پارلیمنٹ کی آشیرباد سے شروع کی گئی تھی؟ اس کا جواب پارلیمنٹ کی کارروائی کے ریکارڈ سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ایک سال پہلے ایک چودہ رکنی پارلیمانی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جس کا پہلا اجلاس آج تک منعقد ہی نہیں ہوا۔ پھر یہ فیصلہ کن حضرات کی مرضی سے پاک فوج پر مسلط کیا گیا؟ کون سی بیرونی طاقت کے حکم پر قومی افواج کو دلدل میں پھنسایا گیا؟ امریکہ کے ڈومور کے مطالبہ پر ہم کہاں تک فوجی آپریشن کو وسعت دے سکتے ہیں؟ کیا اس آپریشن کا دائرہ شمالی وزیرستان تک بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے؟ خیبرایجنسی میں لشکر اسلام اور انصارالاسلام کا تنازعہ تو مذہبی گروہ بندی کا دیرینہ ایشو تھا۔ جس میں فوج نے اپنے آپ کو ایک فریق کے ساتھ نتھی کر لیا ہے۔ میرے سامنے پچھلے ایک سال کا ریکارڈ بکھرا پڑا ہے۔ لشکراسلام کے امیر منگل باغ نے تو کسی بھی موقع پر افغان طالبان یا پاکستانی طالبان کی حمایت میں ایک بیان تک نہیں دیا۔ کبھی پاکستان آرمی کا مقابلہ کرنے کی بات نہیں کی۔ ان کے خلاف جو تین آپریشنز کیے گئے، ان کا اردو ترجمہ یہ تھا ’’ہم تمہیں دیکھ لیں گے‘‘، ’’ہم آرہے ہیں‘‘، ’’ہم پھر آرہے ہیں‘‘ منگل باغ نے ہر مرتبہ اپنے پیروکاروں کو گولی نہ چلانے کا حکم دیا اور خون خرابہ سے بچنے کے لیے پہاڑوں میں پسپائی کا حکم دیا۔ موجودہ آپریشن کے آغاز میں جب ایف 16 طیارے، گن شپ ہیلی کاپٹرز اور بھاری توپخانہ استعمال کیا گیا تو جنگجوئوں کے ساتھ ساتھ بے گناہ خواتین اور معصوم بچوں کے جانی نقصان نے نفرتوں کا بیج بودیا، جس کی فصل اب ہمیں کاٹنی پڑ رہی ہے۔ جب ٹینکوں کے ذریعے منگل باغ اور اس کے ساتھیوں کے مکانات کو مسمار کیا گیا تو وہ وادیٔ تیراہ کے دور افتادہ علاقوں میں ہجرت کر گئے اور پشاور کے کمانڈر نے ایک بیان میں کہا ’’ہم بزدل چوہوں کو ان کے بلوں سے نکال کرماریں گے‘‘ اس متکبرانہ بیان کے دو دن بعد پریڈلین کے حملہ میں دوسری اہم شخصیتوں کے ساتھ کورکمانڈ صاحب کا پھول سا بیٹا بھی شہید ہو گیا۔ اس حملہ میں صاحب کردار اور پاکباز نوجوانوں کے جانی نقصان پر میں اس روز پھوٹ پھوٹ کر روتی رہی۔ (جاری ہے)